سپریم کورٹ ججز کی تقرری

سپریم کورٹ ججز کی تقرری، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

عدالت عظمیٰ میں 50 ہزار زیر التوا کیسز کی نشاندہی کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانے کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا۔
ویب ڈیسک: تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانے کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا، خط میں عدالت عظمیٰ میں 50 ہزار زیر التوا مقدمات کی نشاندہی کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو اپنی گذارشات سے آگاہ کیا.
ویب ڈیسک: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خط میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ ججز کی تقرری کی سفارش کیلئے جوڈیشل کمیشن 9 ارکان پر مشتمل ہے، سپریم کورٹ چیف جسٹس اور 16 ججز پر مشتمل ہوتی ہے لیکن اِس وقت سپریم کورٹ میں ججز کی 5 آسامیاں خالی ہیں.
جسٹس گلزار احمد کو ریٹائر ہوئے 239 دن گزر چکے ہیں، جسٹس قاضی امین احمد کو ریٹائر ہوئے 187 دن، ،جسٹس مقبول باقر کو ریٹائر ہوئے 177 دن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل کو ریٹائر ہوئے 77 دن ہیں جبکہ جسٹس سجاد علی شاہ کو ریٹائر ہوئے 46 دن ہوچکے ہیں۔
آئے دن مقدمات کا پہاڑ کھڑا ہورہا ہے، آخر سپریم کورٹ استطاعت سے 30 فیصد کم پر کیوں چل رہی ہے؟ انصاف کی فوری فراہمی کو یقینی بنانا آئین کے تحت سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے، خدشہ ہے کہیں سپریم کورٹ غیر فعال نہ ہوجائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس صاحب متعدد مرتبہ میں نے آپ کو اس آئینی ذمہ داری کے بارے میں بتایا ہے لہٰذا گذارش ہے سپریم کورٹ ججز کی تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس فوری بلایا جائے۔

مزید دیکھیں :   پارٹی آئین میں تبدیلی پر الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو نوٹس