آٹا بحران میں کمی کا عندیہ

خیبرپختونخوا میں آٹے کے بحران پر قابو پانے کیلئے خیبرپختونخوا حکومت نے بالاخر پنجاب حکومت سے رابطہ کرلیا ہے جبکہ اٹک کے مقام پر چیک پوسٹیں ختم کرنے کا معاملہ بھی پنجاب حکومت کے ساتھ اٹھا لیا گیا ہے۔ امید ہے جلد مثبت جواب آئے گا پنجاب سے آٹے کی ترسیل شروع ہوتے ہی قیمتیں کم ہونا شروع ہو جائینگی۔پنجاب سے رابطہ کا عندیہ جس سطح پر دیا گیا ہے اس سے کسی توقع کی وابستگی خوش امیدی ہو گی اس امر کا عندیہ محکمہ خوراک کے ایک کم درجے کے عہدیدار کی بجائے اگر سیکرٹری محکمہ خوراک یاپھر صوبائی وزیر خوراک اور صوبائی ترجمان کی سطح کے عہدیدار کی طرف سے آتا تو اسے سنجیدہ لیاجا سکتا تھا بہرحال اس توقع کے ساتھ کہ اس اہمیت کے حامل عوامی مسئلے کے حل کے لئے صوبائی حکومت نے سنجیدہ قدم اٹھانے کی ٹھان لی ہوگی امید کی جانی چاہئے کہ اس کے نتیجے میں صوبے میں آٹے کی طلب و رسد کا توازن بہتر ہوجائے گاجس کے نتیجے میں آٹاکی قیمتوں میں کمی آئے گی باعث حیرت امر یہ ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے یہ ڈرامہ کھیلا جاتا ہے اور صوبائی حکومت خاصی تاخیر سے اس ضمن میں اقدامات کرتی ہے اس مسئلے کا کوئی مستقل حل تلاش کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی جس کے باعث ہر کچھ عرصے بعد عوام مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہوتی ہے اس کے لئے مافیا پوری منصوبہ بندی کر لیتی ہے اور حالات ایسے پیدا کئے جاتے ہیں کہ ان کا مہنگا آٹا فروخت ہو اس عمل کی روک تھام مشکل نہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ محکمہ خوراک کے عہدیدداران بھی کہیں نہ کہیں اس سارے کھیل کاحصہ ہیں جو مطلب براری کے بعد ہی حرکت میں آتے ہیں اور اس درمیانی عرصے میں ان کی ملی بھگت یا صرف نظر سے مافیا کو فائدہ اٹھانے کا وقت مل جاتا ہے بار بار دہرائے جانے والے اس کھیل کے خاتمے میں صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی یاپھر بے بسی بھی قابل ذکر ہے جہاں تک پنجاب سے معاملت کا معاملہ ہے یہ بھی کوئی مشکل امر نہیں بلکہ قانون کے مطابق صوبوں کے درمیان تعلقات اور معاملات کے ہر دو صوبے پابند ہیں اس وقت پنجاب میں کسی مخالف جماعت کی بھی حکومت نہیں جس پر الزام لگایا جا سکے ۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور چیف سیکرٹری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کا خصوصی نوٹس لیں اور عوام کو بار بار مشکلات کا شکار بنانے والے عناصر کا راستہ روکنے اور اس صورتحال کے تدارک کے لئے سنجیدہ اقدامات پر توجہ دی جائے اور ان عوامل کا سدباب کیا جائے جو صوبے میں آٹا بحران اور آٹا کی قیمتوں میں ا ضافے کا باعث بنتے ہیں۔
کاروباری افراد کو بھتے کی کالیں
اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں نامعلوم افراد کی جانب سے بھتے کی کالز سے سرمایہ دار طبقہ بشمول خواتین بہت زیادہ پریشانی کا شکار ہیں تاجروں اور کارخانہ داروں کو مسلسل بھتے کی کالیں موصول ہو رہی ہیں۔ نامعلوم نمبروں سے واٹس ایپ پر پیغامات اور کالز کر کے رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ کالز افغانستان کے نمبروں سے موصول ہوتی ہیں، کاروباری طبقہ اورسرمایہ داروں کو ڈرانے کے لیے ان کی فیکٹری کے باہر گرنیڈ بھی پھینکے گئے ہیں۔ جس کی پولیس، سی ٹی ڈی سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ثبوت فراہم کیے گئے ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی خاطرخواہ کارروائی نہیں ہو سکی اطلاعات کے مطابق بہت سے تاجر خوف کی وجہ سے بھی بھتہ دینے پر مجبور ہیں مگر وہ کسی کو بتاتے نہیں حالات اسی طرح رہے تو کارخانے بند ہونے کا خدشہ ہے ۔تاجروں کو بھتے کی کالیں تو کوئی نئی بات نہیں یہ سلسلہ کبھی تھم سا جاتا ہے اور پھر شروع ہونا معمول بن چکا ہے البتہ کاروباری خواتین کوبھتے کی کالیں ملنا خاصا پریشان کن اور اچھنبے کا معاملہ ہے اس لئے کہ صوبے میں یہ نئی پیشرفت ہے جس میں خواتین سے بھی بھتہ مانگا جارہا ہے صوبے میں صنعت وحرفت اور کاروبار سے تعلق رکھنے والی خواتین آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ایسے میں دوچار کاروباری خواتین کو ہراسان کرنے سے اس شعبے سے خواتین کو سرے سے باہر رکھنے کا باعث امر ثابت ہو گا۔ تاجر برادری کو تحفظ دینا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے خاص طور پر جن تاجروں اور خصوصاً خواتین کو بھتے کی کالیں موصول ہوں اور ان کے کاروبار کا خاص طور پر تحفظ کے ٹھوس اقدامات ہونے چاہئیں اور اس نیٹ ورک کا جیسا بھی ہو خاتمہ ہونا چاہئے ۔

مزید دیکھیں :   دہشتگردی پرامریکی محکمہ خارجہ کا ردعمل