سائفر ایک حقیقت ہے جو حکومت نے مان لیا، شاہ محمودقریشی

ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ کابینہ نے بھی سائفر کی اہمیت کا اعتراف کیا، تحقیقات کا حکم دینے والے یہی لوگ ہیں جو سائفر کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ سائفر پر عمران خان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا،ہمارا مقصد کسی ملک کا نام نہیں لینا تھا، میں نے سابق سفیر کی ڈونلڈ لو سے ملاقات کا مراسلہ پڑھا، ہم نے مراسلہ چیف جسٹس اور اسپیکر کو پیش کیا، وزیراعظم شہباز شریف 22 اپریل کو مراسلے کی حقیقت تسلیم کرتے ہیں، یہ ثابت ہوا کہ سائفر پر ہمارا موقف درست تھا۔

شاہ محمودقریشی نے مزید کہا کہ مراسلہ وزیراعظم ہاوس سے غائب ہونے کا ذمہ دار کون ہے؟ مراسلہ کہاں اور کس نے غائب کیا اس پر تحقیقات ہونی چاہیے، سائفر پر تحقیقات کی ذمہ داری ایف آئی اے کو سونپی گئی، حکومتی فیصلے سے ہمیں کوئی گھبراہٹ نہیں، عمران خان کسی بھی وقت کال دے سکتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت ایک سازش کے تحت ہٹائی گئی۔ اس ضمن میں سائفر کی تحقیقات پرحکومتی آمادگی درست سمت میں قدم ہےلیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ تحقیقات ایف آئی اے کے بجائے سپریم کورٹ کا بنایا کمیشن کرے تاکہ دودہ کا دودہ اور پانی کا پانی ہو سکے، اسی طرح کا کمیشن آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے چاہئیے۔

مزید دیکھیں :   بنوں شہر میں شٹر ڈان اور پہیہ جام ہڑتال ، تعلیمی ادارے بند رہے

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ حکومتی جماعتوں کا عمران خان کو سازش سے ہٹانے کے 2مقاصد تھے ایک چوری کے مال سے بنائی اربوں کی جائیداد کو بچانا اور دوسرا عمران خان کو اپنے راستے سے ہٹانا ، لیکن مسئلہ یہ ہو رہا ہے کہ ان سے عمران خان نہیں گرایا جا رہا ۔یہ لوگ عمران خان کا سیاست میں مقابلہ نہیں کرسکتے اس لیے ان پر توہین مذہب کا الزام لگا دیا جاتا ہے، کبھی توہین فوج کا الزام لگا دیا جاتا ہے ، کبھی توہین عدالت کا الزام لگا دیا جاتا ہے، اور اب توہین ڈونلڈ لو لگا دی گئی ہے۔