عذر ان کی زبان سے نکلا ء ۔ تیر گویا کمان سے نکلا

جمعہ کے روز تین ملی جلی یا جلتی چھلکتی خبریں اچھلیں ایک خوش خبری تھی کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی ہے ، اس بارے میں یہ خبر بھی ہے کہ حکومت نے پٹرول ، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں کمی کرنے کی پہلے آئی ایم ایف سے اجا زت لی ، یہ ضروری بھی تھاجو معاہد ہ عمر ان خان نے آئی ایم ایف سے کیا تھا اس کے مطابق قیمتوں میں ردوبدل معاہدے کے خلا ف نہیں کیا جا سکتا ، عمر ان خان نے بلا منشا معاہدے کے تیل کی قیمتوں میں کمی کر کے جو بھگتان عوام کے گلے میں ڈالا آج اسی کا نتیجہ ہے کہ عوام گرانی کے بوجھ تلے میں دبے جارہے ہیں ، دوسری پھڑکتی خبر یہ آئی ہے کہ سائفر سے متعلق آڈیو لیکس کی دوسری قسط بھی سوشل میڈیا کی سکرین پر تھرک رہی ہے ، جب مریم نواز سے متعلق ایک آڈیو لیک آئی تھی تب یوتھیئوں نے جشن لیکس منا نا شروع کر دیا تھا ، اور بغلیں بجا بجا کر راگ الاپا کہ اور ویوڈیو آرہی ہیںمریم نو از کی ایسی ویڈیو آرہی ہے کہ ”لگ پتاجائے گا ” ڈارک ویب کی جانب سے بھی اعلا ن ہواکہ وہ جمعہ کے روز دیگر آڈیو بھی لیکس کررہا ہے ، جس سے اندازہ کیا جارہا تھا کہ شاید حکومت یا یو ںکہیے مسلم لیگ ن کے دن گنے جارہے ہیں لیکن معاملہ الٹ نکلا سائفر سے متعلق دوسری قسط آگئی ، جو پہلے حصہ سے زیا دہ خطرِناک ہے ، اور انتہائی افسوس ناک ہے کہ اقتدار کی ہوس میں حد تک جا یاجا سکتا ہے کہ وطن عزیز کو ہرسو داؤ پر لگا دیا جائے ، پاکستان کواس سائفر کے بیانیہ سے جو نقصان پہنچا ہے وہ نا قابل تلافی قرا ر پا تا ہے ، اقتصادی طور پر معاشی لحاظ ، سیاسی لحاظ ، اور سفارتی لحاظ جھٹکے لگے ہیں کیا ان جھٹکوںکے ذمہ دار وطن دوست کہلانے کے مستحق قرار پاتے ہیں ،شہباز شریف جن کے بارے میں یہ تاثر لیا جاتا ہے کہ وہ ایک ڈھیلے ڈھالے منتظم اعلیٰ ثابت ہو رہے ہیں اگر انھوں نے سائفر کے کھیل کو سنجید گی سے نہ لیا تو وہ بھی سائفر کھیل کھیلنے والو ں کی صف میں کھڑے قرارپائیں گے ، وہ ان لیکس کو سیا سی کھیل بننے سے کترائیں کچھ کر کے دکھائیں کیو ں کہ یہ ملک سے کھلواڑ ہے۔ تیسری پھدکتی سی خبر ذرائع ابلاغ کے مطا بق یہ ہے کہ پی ٹی آئی سربراہ معافی مانگنے سیشن جج زیبا چودھری کی عدالت میںحاضر ہوگئے ، عدالت میں حاضری بھی انوکھی طرز کی رہی کیو ں کہ عدالت میں یا تو عدالت کے حکم پر پیش ہو اجا تا ہے یا پیش ہونے کی غرض سے عدالت سے پیشگی اجا زت لی جا تی ہے ، عمر ان خان کی حاضری میں یہ دونو ں لوازما ت نہیں پائے گئے کہا یہ جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی سر برا ہ دفعہ 144کے مقدمے میں اسلام آبا د کی لوئر کو رٹ تشریف لائے تھے وہاںہی سے وہ سیشن جج زیبا چودھری کی عدالت تشریف لے گئے ، جہا ں اس مو قع پر سیشن جج زیبا چودھری موجو د نہیںپائی گئیں ، خبروں کے مطابق محترمہ جج زیبا چودھری عمر ان خان کی آمد سے قبل ہی مختصر رخصت پر تشریف لے جا چکی تھیں چنا نچہ اپنی آمد کی حاضر ی کی غرض سے عمر ان خان نے معزز جج کی غیر مو جو دگی کی وجہ سے عدالت کے ریڈر سے مکالمہ کیا کہ وہ زیبا چودھری صاحبہ کو بتا دیں کے عمر ان خان معذرت کے لیے آئے تھے اگر ان کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ معذرت کرتے ، پی ٹی آئی کے سربراہ کا یہ کمال ہے کہ وہ ہر موقع پرا یسا کچھ کر جاتے کہ اس سے اچھی خاصی مبحث شروع ہو جا تی ہے جب اسلا م آبا دہائی کو رٹ میں اسی کیس میںحاضری تب بھی انھوں نے معذرت کا لفظ استعمال کیا تھا ، مو صوف کے وکیل حامد خان نے عدالت سے باہر آنے کے بعد صحافیو ں کے سوال کے جو اب میں بتایا کہ عمر ان خان نے غیر مشروط معافی نہیں ما نگی ہے حامد خان ایک منجھے ہوئے وکیل ہیں اور اصولی بات میںبھی کھر ے ہیں ما ضی قریب میں پی ٹی آئی کی جانب سے غلط سلط مقدمے بازی کی وجہ سے انھوں نے پارٹی کی سرگرمیوں سے کنا رہ کش ہوگئے تھے ،بحثیت وکیل ان کے الفاظ اہمیت کے حامل قر ار پاتے ہیں ، چنا نچہ حامد صاحب نے استفسار کے وقت یہ بھی واضح کیا تھا کہ معذرت اور معافی کے معنی میں فرق ہے ، توہین عدالت کے مقدمے ایسا ہو تا ہے کہ ملزم خود کو عدالت کے سپر د کرنے کے ساتھ ساتھ غیر مشروط معافی کے الفاظ کے ساتھ ہی معافی کا طلب گا ر ہو تا ہے ، لفظ معذرت اصل عربی ہے اور اس کا مادہ جس سے یہ تخلیق پایا ہے و’ہ عذر ‘ہے یہ دونوںالفاظ وسیع المعنی ہیں مختصر اًیہ معنی یہ ہیں ، حیلہ، بہانہ ، معافی ، درگزر ، اوراس کے مترادفات میں ٹالم ٹول ، ٹال مٹول ، عذر ، اعتذار وغیر ہ جبکہ یہ دونو ں الفاظ مرکبات میں بھی بھی وسیع طورپر مختلف معنی لے کر استعمال کیے جا تے ہیں معذرت طلب نگا ہو ں سے دیکھنا کے معنی ہوئے معافی چاہنے کے انداز سے نظر ڈالنا ، معذرت کا ایک معنی شرمندہ ہو نا ،بھی ہے ۔غیر مشروط معافی کے لیے اس میں سے ماہرین لسانیا ت کے مطابق بہتر الفاظ ترکیب میں میں عذر ومعذرت خواہی ،ایک یہ بھی قانونی سوال اٹھ کھڑا ہو ا ہے کہ کوئی فرد کسی دوسرے سے معافی کا طلب گا ر ہو توکیا روبہ رو ہوئے بنا پیغام کے ذریعے معافی قبول ہو جا تی ہے ، ماہر ین کی رائے میں ہے کہ جب تک معاف کرنے والا معاف کر نے کی قبولیت کااقرار نہ کر لے تب تک معافی کو قبول نہیں قرار دیا جا سکتا ، نیز دو افرا دکے درمیان نجی طورپرمعافی یا معذرت کا معاملہ ہو تو قابل قبول کا درجہ ہو جا تا ہے تاہم اس میں بھی قبولیت لا زم ہے یہ سوال بھی ہو رہا ہے کہ کیا عدالتی امو ر قاضی کی عدم موجو دگی میں پایہ تکمیل ہوجا تے ہیں ۔اگر ریڈر صاحب یہ پیغام جج صاحبہ کو پہنچادیں تو کیا اس کوتسلیم کیا جاسکتا ہے ، ماہر ین کی رائے ہے کہ پی ٹی آئی کے سربرا ہ اور سیشن جج کے درمیا ن توہین عدالت کا معاملہ دونو ں کا ذاتی معاملہ ہے اور قانو ن کے روبہ عمل ہوئے بغیر یہ ادھو رہ ہی ہے ، ان محولہ خبر وںسے زیا دہ سنگین ایک خبر یہ ہے کہ وزیر اعظم دفتر سے سائفر غائب ہے وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے تصدیق بھی کر دی ہے اب اگر پاکستان کے اہم ترین دفتر کی یہ حالت ہوتو باقی کیا رہ گیا ہے ، حیر ت ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر کی یہ حالت ہوگئی ہے اس سے پہلے تو ایسا نہ تھا ،سائفر بھی اہم ہے مگر اس سے زیا دہ حساس فائلیں بھی وہا ںموجو د ہوتی ہیں کیا وہ سب محفوظ ہیں اس کا جو اب کو ن دے گا ؟۔

مزید دیکھیں :   حاجی غلام علی کونسلر تا گورنر