پرانا کھیل ،پرانے کھلاڑی اور نیا میدان

ملک میں تیز رفتار فیصلوں سے آنے والے انتخابات کے لئے” لیول پلینگ فیلڈ ”فراہم کرنے کے مطالبے کی تکمیل کا ماحول بن رہا ہے ۔فیصلے کسی ادارے میں ہوں یا ایوان میں حقیقت میں ان کا مقصد تمام فریقوں کو کھیل کے یکساں ہموار میدان فراہم اور موافق پچ فراہم کرنا ہے گویا کہ کسی بھی فریق کے حصے میں کھیل کا ناہموار میدان یا گیلی پچ نہ آئے ۔اس مطالبے کا تعلق ماضی قریب کی حزب اختلاف کے اس الزام سے تھا کہ ریاستی اداروں نے اپنے پچاس ساٹھ افراد کو عمران خان کی ٹوکری میں ڈال کر ان کی حکومت بنانے میں مدد دی۔اب ایک سیٹی بجا کر یا تو ان پچاس ساٹھ افراد کو عمران خان کی حکومت سے الگ ہونے پر مجبور کیا جائے یا پھر پی ڈی ایم کا ساتھ دینے پر آمادہ کیا جائے ۔اس سے پی ڈی ایم کا شکوہ تودور ہوگیا مگر عمران خان کی شکایتوں کا دفتر کھل گیا ۔فریقین کے لئے ایک یکساں اور بلاتفریق ہموار اکھاڑہ فراہم کرنے کی اس کوشش میں کھیل کے اصول اور آداب بھی بدل کر کہانی کو نئے سرے سے لکھنے کا آغاز ہوا۔ماضی کے تلخ ماضی کو چوہدری شجاعت کے مشہورزمانہ اصول ”مٹی پائو” کے تحت حل کرنے کے لئے مقدمات اور عدالتی فیصلوں کا باب بند کر دینے کا عمل شروع ہوا ۔ایک کے بعد دوسرا فیصلہ اور ایک کے بعد دوسرا قدم ”مٹی پاو” فلاسفی پر عمل درآمد کی راہ کا سفر ہی تھا ۔اس میں عمران خان کو بھی کئی عدالتی رعائتیں ملنے کا ماحول بنایا گیا تاکہ لیول پلینگ فیلڈ کا رنگ چوکھا آئے اور کوئی بھی فریق اس نئے منظر کو غنیمت جان کر قبول کرنے پر مجبور ہو۔عمران خان توہین عدالت اور نااہلی سے بچ گئے ان کے لئے یہی کیا کم ہے اور شریف خاندان مقدمات کے بوجھ سے آزاد ہوگیا ان کے لئے یہ ایک خواب کی تکمیل ہے۔یہاں تک تو پرانا اور کشیدگی وکشمکش سے بھرپور کھیل انجام کو پہنچ گیا۔فریقین کو کھیل کا ہموار میدان میسر آگیا ۔ اسحاق ڈار اہتمام سے اسلام آباد میں یوں اترے کہ جیسے کوئی سوئے دار سے کوئے یار کی طرف کشاں کشاں چلتا چلا جاتا ہے ۔وہ زمانہ اور تھا جب فیض نے’ جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے” کا مصرعہ کہا تھا ۔اب دلچسپ معاملہ یہ ہے کہ فریقین کے درمیان کھیل کے میدان کا منظر کیا ہوگا ۔اس وقت تک کا منظر نامہ یہ بتاتا ہے گوکہ حکومتی اور ادارہ جاتی سطح پر لیول پلینگ فیلڈ کا منظر اور ماحول پوری طرح بن چکا ہے مگر عوامی سطح پر منظر بڑی حد تک تبدیل ہو چکا ہے ۔میدان ہموار تو ہوچکا ہے مگر میدان پر عمران کا سکہ چلتا ہے اور ان کی مقبولیت زوروں پر ہے ۔وہ ایک خط لہراتے ہی پنجاب کی چالیس سالہ سیاسی حرکیات کو بدل چکے ہیں ۔پنجاب کے ضمنی انتخابات کے نتائج اس کا واضح ثبوت ہیں ۔رائے عامہ کے جائزے ہوں یا عوام کے ہجوم منظر پر عمران خان ہی غالب ہیں ۔پیپلز پارٹی چار پانچ ماہ کی حکومت کے باوجود پنجاب میں چند گز کی سیاسی سپیس حاصل نہیں کر سکی اور مسلم لیگ ن نے لیول پلینگ فیلڈ کے چکر میں صرف مقدمات ختم کرانے کی خاطر حاصل کی جانے والی حکومت کے بدلے پنجاب میں اپنی مقبولیت کو قربان کیا ہے ۔پنجاب کا مزاج اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہر گز نہیں ۔نوازشریف کی پنجاب میں مقبولیت کا آغاز اینٹی اسٹیبشلمنٹ کردار سے نہیں ہوا تھا بلکہ انہوںنے سندھی سیاست دان کے مقابلے کے لئے جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگا کر پہلی بار پنجاب کے عوام کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا ۔اینٹی اسٹیبلشمنٹ تو وہ بہت بعد میں اپنی حکومت کی برطرفی کے نتیجے میں بنے۔اسی طرح عمران خان کی مقبولیت میں اینٹی اسٹیبشلمنٹ سوچ کا حصہ بہت کم ہے ۔عمران خان نے ابھی تک اینٹی اسٹیبلشمنٹ جذبات کو سرے سے اُبھار ا ہی نہیں ۔ان کی مقبولیت کا آغاز اس سائفر سے ہوا جسے انہوں نے ہوا میں لہرایا اور واپس جیب میں ڈال دیا ۔انہوں نے یہ تاثر دیا کہ ان کی حکومت امریکہ کے احکامات کی تکمیل میں برطرف کی گئی اور یوں انہوں نے اس عمل کو دنیا میں درجنوں رجیم چینج آپریشنز کے ساتھ جوڑ کر کھیل کو ایک الگ ہی رخ اور رنگ دے دیا۔پنجاب ،خیبر پختون خوا اور کراچی میں امریکہ مخالف جذبات کے تار چھیڑنے والا کبھی مایوس نہیں ہوا۔ذوالفقار علی بھٹو سے متحدہ مجلس عمل تک مختلف اوقات میں سیاسی قوتیںاس حکمت عملی سے فیضیاب ہوتی رہی ہیں۔اس بار سائفر نے عمران خان کو یہ موقع فراہم کیا اور انہوںنے پاکستانیوں کے دلوں کے تار چھیڑ کر مقبولیت حاصل کر لی ۔اینٹی امریکہ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ جذبات دوالگ باتیں ہیں ۔اب میاں نوازشریف اینٹی اسٹیبلشمنٹ نعروں کے ساتھ بھی میدان میں اُتریں تو پنجاب میں ان کو جابجا عمران خان کے امریکی پالیسی اور سائفر مخالف نعروں اور اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ فاول پلے کی حد تک کھیل کے اس قدر ہموار میدان کے بعد اب کسی بھی فریق کے لئے فاول پلے یا ناہموار میدان کا واویلا کرنے کی گنجائش سرے سے نہیں ہوگی ۔پاکستانی عوام وصی شاہ کی زبان میں حیران وششدر زبان حال سے پکار رہے ہیں۔
زندگی اب کے مرانام نہ شامل کرنا
گر یہ طے ہے کہ یہی کھیل دوبارہ ہوگا۔

مزید دیکھیں :   سیاسی کشمکش میں اضافہ