مشرقیات

اپنے ہاں کے ثناء خوان تقدیس مشرق کے ترانے گانے والے عمل کا میدان آئے تو کنی کترا جاتے ہیں۔دوسروں پرپتھر اٹھانے کی تاک میں ہمارا سماج اتنا مصروف ہو چکا ہے کہ اسے اپنے گریبان میں جھانکنے کی فرصت ہی نہیں مل رہی۔آپ اپنے ہاں کے سیاسی رہنمائوں کو دیکھ لیں نہ صرف خود بلکہ اپنے حامیوںکو بھی مخالف رہنمائوں کے خلاف اخلاق سوز مہم پر اتار چکے ہیں اور سوشل میڈیا نے اس اخلاقی بدحالی کی شکار مخلوق کو وہ پلیٹ فارم بھی عطا کر دیا ہے جو ٹیکنالوجی کی ترقی سے قبل انہیں میسر نہیں تھا اور میڈیا بہرحال ان کی بداخلاقی کاساتھی بننے پر کبھی تیار نہیں ہوا تھا البتہ اکا دکا معاملات کی صورت میں ہم کبھی کبھار دیکھ لیتے تھے کہ میڈیا بھی کسی سیاسی جماعت کا آلہ کار بن کر قابل مذمت خبریں یاقیاس آرائیوں پر مبنی واقعات کو چھاپ دیتا تھا تاہم مجموعی طور پر ہر ایرے غیرے نتھو خٰیرے کی دلی تمنائوں کو بہرحال میڈیا نے توجہ کے قابل نہیں سمجھا تاہم اب بات ان ہی ایرے غیرے نتھو خیرے قسم کے لوگوں کے ہاتھ میں آگئی ہے۔سوشل میڈیا پر بداخلاقی ،دوسروں کی تضحیک اور مختلف سیاسی وسماجی حتیٰ کہ دینی شخصیات پر بھی رکیک حملے آئے روز کا معمول ہیں۔اور اس مہم جوئی کو باقاعدہ سیاسی جماعتوں کی سپورٹ بھی حاصل ہے اب روزانہ کی بنیاد پر سامنے آنے والے ٹرینڈ دیکھ لیں سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا سیل کس طرح نفرت اور اخلاق باختگی کا مظاہرہ کرکے نئی نسل کو بگاڑنے پر لگے ہوئے ہیں اسی نئی نسل کے ووٹرزکی ملک میں اکثریت ہے اور انہیں ہی راغب کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں نے جائز وناجائز ہتھکنڈوں کا مکس اچار تیار کیا ہواہے۔بدقسمتی سے اس مکس اچار کے باعث وطن عزیز میں اب ایک دوسرے کو برداشت کرنے پر کوئی بھی تیار نہیں۔سیاسی جماعتوں نے جو فوج ظفر موج بدتمیزی کرنے کے بھرتی کی ہوئی ہے اس کی تربیت اتنی پختہ ہو گئی ہے کہ وہ کسی دلیل وبرہان کی بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔انہیں اپنی جماعتوں کے قائدین سے اندھی عقیدت ہے اور جہاں اندھی عقیدت ہو وہاںدلیل کا کیا کام؟اس اندھی محبت میں ہی ہم دیکھ رہے ہیںکہ جب کوئی کمزوری مخالف جماعت یا لیڈر میں نظر آئے تو اس کو لے کر اپنی تقدیس کا موازنہ اس سے کیا جانے لگتا ہے اور جہاں اپنی بھی کمزوری کا انکشاف ہونے لگے تو پھر تقدیس مشرق کے ترانے چھوڑ کر بہانے تراشے جاتے ہیں۔تو جناب اب یہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا وہ کھیل ہے جو سوشل میڈیا پر عام لوگوں کے درمیان خاص لوگوں نے شروع کیا ہوا ہے اس کھیل میں ہم ایک دوسرے کی عزت وآبرو کو تار تار کرنے پر لگے ہوئے ہیں اور یہ بھول گئے ہیں کہ بحثیت ایک قوم کے ہم اپنے مخالفوں کو نہیں دنیا کے سامنے خود کو ہی ننگا کرنے پر لگے ہوئے ہیں کیا آپ کو نظر نہیں آرہا کہ آپ ننگے ہیں؟

مزید دیکھیں :   صدرمملکت کا قابل غور مشورہ