مالی بحران خیبر پختونخوا

مالی بحران،خیبر پختونخوا میں تمام جماعتیں وفاق کے خلاف ایک پیج پرمتحد

ویب ڈیسک : خیبر پختونخوا کے فنڈز کی بندش کا معاملہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیچ پر لے آیا خیبر پختونخوا اسمبلی میں موجو د تمام سیاسی جماعتوں نے وفاق کی جانب سے فنڈز کی بندش کیخلاف ایکا کرتے ہوئے متفقہ قرار داد منظور کرنے کا فیصلہ کرلیا جبکہ صوبے کے آئینی حقوق کیلئے جدوجہد میں صوبائی حکومت کو بھرپور تعاون کا یقین دلا دیا ہے.
صوبائی حکومت نے اپوزیشن ارکان کو بھی مطمئن کرنے کیلئے ہر حلقہ میں 10،10کروڑ روپے خرچ کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا گیا۔گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت اہم اجلاس میں صوبائی کابینہ کے اراکین اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی اجلاس میں صوبائی وزراء عاطف خان ، شہرام خان ترکئی، تیمور سلیم جھگڑا، شوکت یوسفزئی، اکبر ایوب جبکہ اپوزیشن رہنمائوں خوشدل خان، محمود بٹنی، اورنگزیب نلوٹھہ، میر کلام خان، میاں نثار گل، شفیق شیر آفریدی ،عنایت اللہ خان، صوبیہ خان اور نگہت اورکزئی نے اجلا س میں شرکت کی۔
اجلاس میں وفاقی حکومت کی طرف سے صوبے خصوصاً ضم اضلاع کے ترقیاتی فنڈز کی عدم منتقلی ، بجلی کے خالص منافع کی مد میں بقایاجات کی عدم ادائیگی اور وفاق سے جڑے صوبے کے دیگر معاملات پر بحث کی گئی اور مشترکہ طور پر جدوجہد شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اجلاس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ صوبے کے حقوق کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے صوبے خصوصا ضم اضلاع کا ترقیاتی پروگرام بری طرح متاثر ہورہاہے جو کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔
اجلاس میں اپوزیشن اور حکومت نے مشترکہ طورپر صوبے کے حقوق کیلئے تمام آپشنز استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کی طرف سے کمٹمنٹ کے مطابق فنڈز فراہم نہ کرنے کی وجہ سے صوبے کو مالی مشکلات کا سامنا ہے وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ نا انصافی پر مبنی رویہ اپنائے ہوئے ہیں جو ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صوبے کے عوام کے حقوق کا معاملہ ہے جس کے حل کے لئے حکومت اور اپوزیشن مشترکہ لائحہ عمل کے تحت آگے بڑھیں گے.
موجودہ صوبائی حکومت نے شدید مالی مشکلات کے باوجود صوبے کی یکساں ترقی کے لئے منصوبہ بندی کی ہے اور ضم اضلاع میں عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے اپنی استعداد سے بڑھ کر اقدامات کئے ہیں۔ علاوہ ازیں حالیہ سیلاب سے متاثرہ عوام کو فوری ریلیف کی فراہمی پر بھی اربوں روپے خرچ کئے گئے ہیں۔ اس تمام تر صورتحال کے تناظر میں وفاقی حکومت کو صوبے کے حقوق خصوصاً ترقیاتی فنڈز اور این ایچ پی کے بقایاجات ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے چاہیئے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر واضح کیا کہ صوبائی حکومت عوام کی فلاح و ترقی کے لئے جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ عوامی نمائندے اپنے حلقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں ترجیحات کا تعین کریں ،ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
علاوہ ازیں عوام کی ضروریات اور مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پلان کے تحت ہر حلقے میں مزید دس کروڑ روپے کی اسکیموں کا اجراء کیا جائے گا۔ عوامی نمائندے اپنی اسکیموں کو حتمی شکل دیکر متعلقہ فورم کو جمع کرائیں تاکہ ان اسکیموں کے لئے وسائل کی فراہمی ممکن ہوسکیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت نے مسائل کے باوجود عوام کو بلاتفریق خدمات کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ حکومت کی کوشش ہے کہ تمام حلقوں کے عوام کو دستیاب وسائل کے مطابق سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

مزید دیکھیں :   پنجاب پولیس کا سابق وزیراعلیٰ پرویزالہٰی کی رہائشگاہ پرمبینہ چھاپہ