کورونا سے جاں بحق ہیلتھ ورکر کو شہید کا درجہ دیا جائیگا،ظفر مرزا

اسلام آباد ;معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کورٹین،ٹریسنگ اور ٹیسٹنگ کی پالیسی پر عمل کرنے کیلئے پائلٹ پراجیکٹ ڈاکٹر زعیم کی زیر نگرانی ہوگا،14 ٹیمیں اس پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پورے اسلام آباد میں بطور پائلٹ کام کریں گی،ابھی تک 1500 سے زائد کونٹیکٹ ٹریس کیے ہیں جن میں سے 37 پازیٹو آئے ہیں،ٹیمیں اچھا کام کررہی ہیں نتائج کو مربوط کیا جارہا ہے یہ ایک ماڈل بنے گا جس سے مزید سیکھا جاسکے گا،معاون خصوصی نے کہا کہ کورونا کے مریض کی دیکھ بھال کے دوران جاں بحق ہونے والے ہیلتھ ورکرز کو شہید کا درجہ دیا جائے گا۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے وفاقی کابینہ میں اہم فیصلہ ہوا ہے۔ فرنٹ لائن ورکرز کے تحفظ اور فلاح وبہبود کے لیے حکومت فکرمند ہے۔ جاں بحق ہونے والے ہیلتھ ورکرز کے لیے 100 فیصد پنشن اور سرکاری گھر بھی برقرار رکھا جائے گا۔ جاں بحق ہونے والے ہیلتھ ورکرز کو شہید کے برابر امدادی پیکج دیا جائے گا، انھیں 30 لاکھ سے لیکر ایک کروڑ روپے تک کا امدادی پیکج دیا جائے گا۔منگل کو معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کورٹین،ٹریسنگ اور ٹیسٹنگ کی پالیسی پر عمل کرنے کیلئے پائلٹ پراجیکٹ ڈاکٹر زعیم کی زیر نگرانی ہوگا ۔ظفر مرزا نے کہاکہ ٹیمیں تشخیص کے بعد اْن کو کورنٹائن میں رکھ رہی ہیں ،اسلام آباد میں زیادہ تر ہوم آئسولیشن پریکٹس کی جارہی ہے۔ظفر مرزا نے کہاکہ چند ایک کیسز میں مریضوں کو سپیشل آئسولیشن کیسز میں رکھنا پڑتا ہے،اس پالیسی کے تحت حکومت زیادہ کیسز سامنے آنیوالے علاقوں کو لاک ڈاؤن کر سکے گی،اسے سمارٹ لاک ڈاؤن کا نام دیا جاتاہے تاکہ باقی زندگی کے معاملات چل سکیں لیکن متاثرہ علاقوں کو کنٹرول کیا جاسکے۔ظفر مرزا نے کہاکہ پالیسی کے تحت متاثرہ علاقوں میں پازیٹو کیسز کو علیحدہ رکھا جائیگا تاکہ اْن سے وباء پھیل نہ سکے۔ انہوںنے کہا ہ پائلٹ میں بہت ساری چیزیں پہلی دفعہ کرنے کی وجہ سے بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوںنے کہا یہاں آنے کا مقصد تھا کہ دیکھا جاسکے کہ کیا مسائل درپیش ہیں کیا نئے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ظفر مرزا نے کہاکہ ٹیمیں اچھا کام کرہی ہیں نتائج کو مربوط کیا جارہا ہے یہ ایک ماڈل بنے گا جس سے مزید سیکھا جاسکے گا۔