معیشت کا بھٹہ

معیشت کا بھٹہ بیٹھ جانے کے بعد مجھے بلایا جاتا ہے، اسحاق ڈار

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملک کو درپیش اقتصادی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے تب بلایا جاتا ہے جب معیشت کا بھٹہ بیٹھ جاتا ہے۔
ویب ڈیسک: اسلام آباد میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈارکا کہنا تھا کہ روس سے اگر انڈیا تیل لے سکتا ہے تو ہمارا بھی حق بنتا ہے، روس سے تیل خریدنے کے بارے میں امریکا میں سب کو بتا دیا ہے، چین سے بھی قرضے ری شیڈول کرنے کے بارے میں بات کریں گے، یقین ہے قرض کی ری شیڈولنگ ضرور ہوجائےگی، مجھے تب بلایا جاتا ہے جب معیشت کا بھٹہ بیٹھ جاتا ہے۔
اسحاق ڈارکا کہنا تھا کہ ڈالر ریٹ کو کنٹرول کرنا اسٹیٹ بینک کی ذمہ داری ہے، ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے پچھلے چند سالوں میں جو کام کیے گئے ہیں، امید ہے اچھی خبر آئے گی، ان کا طریقہ کار اور قواعد و ضوابط ہیں کہ ان کے اعلان سے پہلے ہم اعلان نہ کریں، گرے لسٹ سے نام نکالنے سے متعلق کوئی خبر پرسوں تک آجائےگی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مہنگائی نہ 6 مہینے میں آتی ہے اور نہ جاتی ہے، اتحادی حکومت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے، ملک کی ترقی کے لیے چارٹر آف اکانومی پرمتفق ہونا ہوگا، افراتفری پھیلانےکی ضروت نہیں ہے، پاکستان کسی صورت ڈیفالٹ نہیں کرے گا، ہماری معیشت صحیح سمت میں جارہی ہے۔

مزید دیکھیں :   سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرنے کا فیصلہ