بہتر مستقبل کیلئے سیاسی اتفاق رائے ناگزیر

جیسا کہ پاکستان کی اتحادی حکومت نے اس وقت سابق وزیر اعظم عمران خان کوممکنہ احتجاجی مارچ سے روکنے پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر رکھی ہے، ملک میں حقیقی زندگی کے مسائل نظر انداز ہیں۔ اس سال سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی کے لوگوں کی روزمرہ کی زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات سنگین ہوتے جا رہے ہیں، بڑھتی ہوئی مہنگائی کا شکارعام گھرانوں خاص طور پر کم آمدنی والے افراد کے لئے کوئی ریلیف دکھائی نہیں دیتا، معاشی طور کمزور گھرانے تیزی سے کم ہوتے بجٹ کے باعث درپیش صورت حال سے نبرآزما ہیں، مختصر یہ کہ پاکستانیوں کی وسیع اکثریت کو معاشی لحا ظ سے اس طرح کے حالات کا سامنا نہیں رہا۔
اسلام آباد کی اقتدار کی راہداریوں میں بنیادی سوچ عمران خان کے منصوبوں پر فوری ردعمل کی ہے اور پاکستان کے نچلے طبقے کے حالات تیزی سے خراب ہونے کے پہلو کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، حکمران ڈھانچے کو بقا کی لڑائی لڑنے کے ساتھ ساتھ طویل المدتی چیلنجوں سے نمٹنے کی کوششیں بھی جاری رکھنی چاہئیں، جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے، تو ان کا اقتدار میں واپسی کے لیے حکومت کو گرانے کا جنون درحقیقت آج کے پاکستان کو درپیش چیلنجوں کی وسعت کو نظر انداز کرتا دکھائی دیتا ہے، حالیہ سیلابوں سے33ملین سے زیادہ پاکستانی یا ملک کی آبادی کا ساتواں حصہ واضح طور پر متاثر ہوا ہے ، پاکستان کی75سالہ تاریخ میں ملک میں ایسی انسانی تباہی کی چند ہی مثالیں ملتی ہیں، اگرچہ2005ء کے زلزلے میں70 ہزار سے زائد اموات ہوئی تھیں ، لیکن اس وقت ملک کے مستقبل کے حوالے سے آج جیسے خدشات کا سامنا نہیں تھا، حالیہ سیلاب آنے والے برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس طرح کے مزید سانحات کا عندیہ دے رہا ہے۔
پاکستان کی امداد کے لئے اقوام متحدہ کے تحت عالمی اپیل کے علاوہ حکومت پاکستان نے اپنے طور پر بھی متاثرین کی مدد سے متعلق فیصلے کئے لیکن کمزور ترین پاکستانیوں کو انصاف کی یقین دہانی کے حوالے سے خلا اتنا وسیع ہے کہ نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،اس سال ہونے والے تباہی نے ریاست میں صحت کی دیکھ بھال یا تعلیم جیسے اہم شعبوں کے انتظامی نظام میں خلا کو بری طرح سے بے نقاب کیا ہے، اس کے علاوہ پاکستان میں امن و امان کے منصفانہ نظام کے حوالے سے بھی یقین دہانی کا فقدان رہا ہے، یہ بات واضح ہے کہ پاکستانی تحفظ کے اپنے بنیادی حق سے محروم ہو چکے ہیں۔
سیلاب سے ہونے والی تباہی نے پورے پاکستان میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے ، نقصانات کے تعین میں ایسے چیلنج کا تعین کرنا اہم ہوگا جو فوری درپیش ہے، بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصان کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک میں سیاسی حریفوں کو چاہیے کہ وہ اپنی جاری لڑائی کو ترک کریں اور ملک کو درپیش فوری اور طویل المدتی چیلنجوں سے نمٹنے کے حوالے سے اتفاق رائے قائم کرنے پرتوجہ دیں، چنانچہ سیاسی حریفوں کو مستقبل کے لیے تین یکساں اہم اصلاحات پر متفق ہونے پر آگے بڑھنے کیلئے نیا راستہ بنانا چاہیے۔
سب سے پہلے یہ کہ پاکستان کی تنزلی کا شکار معیشت کو بڑے پیمانے پر خسارے میں جانے والے سرکاری شعبے کی وجہ سے بڑھتے ہوئے قرضوں سے بچایا جائے، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز، پاکستان ریلوے یا پاکستان اسٹیل ملز جیسے ادارے، جنہیں سفید ہاتھی بھی کہا جاتا ہے، سالانہ اربوں روپے کا نقصان کررہے ہیں، طاقتور گروپوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر اصلاحات، خاص طور پر ایسے اداروں کی نجکاری کے خلاف مزاحمت کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ پاکستان کی قیادت کے اسٹیک ہولڈرز مل کر اس معاملے کا حل نکالیں۔
دوسرایہ کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کی مکمل حمایت کے ساتھ جرات مندانہ اصلاحات ضروری ہیں، پاکستان کے شہریوں کے تحفظ کے لیے امن و امان کی بحالی کی ضمانت کے بغیر ملک کا سیاسی، معاشی اور سماجی مستقبل خطرے میں رہے گا،جب تک تمام اسٹیک ہولڈرز کی حمایت سے وسیع اصلاحات نہیں کی جاتیں، مستقبل قریب میں پاکستان کے استحکام کی طرف واپسی کا تصور کرنابھی محال ہے۔
تیسرا یہ کہ پاکستان کی قیادت کے دعویداروں کو سیاسی نمائندگی کے ڈھانچے میں بہتری لانے پرمتفق ہونا چاہیے، یہ امر افسوسناک ہے کہ سیاسی نمائندگی آج کا ڈھانچہ، نچلی سطح سے لے کر پارلیمنٹ تک اپنی افادیت کھو چکا ہے ، جب تک قیادت کی چادر تمام افراد کے لیے قابل رسائی نہیں ہو تی ، یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ مستقبل کے منتخب نمائندے ملک کے بنیادی سطح کے مسائل کا ادراک کریں گے ۔
( بشکریہ، دی نیوز، ترجمہ: راشد عباسی)