امریکہ پاکستان میں چین سے کیسے نمٹے؟

پاک چین اقتصادی راہداری کا ایک مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اور اب اس منصوبے کے دوسرے مرحلے پر کام کے آغاز کی تیاریاں ہو رہی ہیں مگر امریکہ کو اب بھی اس منصوبے کی ناکامی کیلئے کسی ''معجزے'' کی توقع ہے۔ امریکہ بھارت اور افغانستان کو پوری طرح استعمال کرنے کے باوجود اس منصوبے میں کوئی بڑی رکاوٹ کھڑی نہیں کر سکا۔ سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے پاکستان میں دہشت گردی کے کئی مراکز تیار کئے گئے جن کے زیراثر رنگ برنگی عسکریت نے جنم لیکر پاکستان کی ریاست کو اس منصوبے سے باز رکھنے کیلئے اپنا پورا زورِبازو صرف کیا مگر کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ اُلٹا یہ کہ امریکہ کیلئے افغانستان میں مزید جمے رہنا ناممکن ہوگیا اور ایک طویل اور اعصاب شکن جنگ سے اُکتا کر اس نے رخت سفر باندھ لینے میں ہی عافیت جانی۔ اب وہ اپنی اس رخصتی کو ایک باعزت انداز اور خوبصورت نام دیکر واپسی کی راہ لے رہا ہے۔ امریکہ پاکستان کو چین سے کاٹ کر بھارت کیساتھ جوڑنے کی تدابیر کرتا رہا اور پاکستان اس عمل کے ردعمل میں امریکہ سے دور ہوتا چلا گیا۔ اب امریکی تھنک ٹینک کی ایک رپورٹ میں امریکہ کو بتایا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کا مقابلہ روایتی معاندانہ انداز میں کرنے کی بجائے ایک نئی حکمت عملی اختیار کرے۔ امریکی تھنک ٹینک کارنیگی سنگھوہا سینٹر فار گلوبل پالیسی کے چینی امور کے ماہر ڈینیل مارکی کی ایک اہم رپورٹ ''امریکہ کو پاکستان میں چین سے کس طرح نمٹنا چاہئے'' کے عنوان سے منظرعام پر آئی ہے۔ تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا کہ سی پیک کی ناکامی سیاسی اور سفارتی اعتبار سے ناممکن ہے۔ پاکستان کیلئے چین ایک اہم شراکت دار اور لائف لائن ہے جبکہ چین کیلئے سی پیک اس کے ترقیاتی ماڈل اور ایک اہم منصوبے کی برآمد کیلئے ٹیسٹ کیس کی حیثیت رکھتا ہے۔ رپورٹ میں امریکہ پر زور دیا گیا ہے کہ اسے پاکستان میں چین کے اثر ورسوخ کا جائزہ لیتے ہوئے بھارت اور پاکستان میں بڑھتے ہوئے تناؤ پر توجہ دینا چاہئے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان اور بھارت ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ اس موسم گرما میں دونوں کے درمیان بحران گہرا ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں امریکہ سے کہا گیا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ روکنے کیلئے ممکنہ سفارتی شراکت دار کے طور پر چین کے کردار کی تعریف کرے۔ مارکی کے مطابق امریکہ اس وقت بھارت کے فوجی حملوں کو دہشتگردی کیخلاف جوابی کارروائی کے زاوئیے سے دیکھتا ہے جبکہ چین ان حملوں کو پاکستان سے کئی گنا بڑے حریف کے حملوں کیخلاف بھرپور ردعمل پر زور دیتا ہے، بدقسمتی سے یہ خطرناک ہے۔ امریکہ اور چین دونوں کو نئی دہلی اور اسلام آباد سے سفارتی مصروفیات کو نئی طرز پر لے جانا ہوگا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ امریکہ کی سب سے اہم فوری تشویش کی وجہ ہونا چاہئے۔ اس طویل تحقیقی رپورٹ میں پاکستان اور چین کے سی پیک کے حوالے سے مد وجزر کا جائزہ لیا گیا ہے، امریکہ کو یہ باور کرایا گیا کہ پاکستان میں اس بات پر کامل اتفاق ہے کہ چین اور امریکہ کی کھلی جنگ میں حصہ دار نہیں بننا بلکہ دونوں کیساتھ معاملات طے کرنا ہیں جبکہ سی پیک پاک چین تعلقات کا ایک ٹکڑا ہے، یہ تعلقات ہمہ گیر اور ہمہ جہتی ہیں، اس رپورٹ کا اہم حصہ وہ ہے جو پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ہے۔ یہ بات چشم کشا ہے کہ امریکی تھنک ٹینک بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی جنگ کا خدشہ محسوس کر رہا ہے۔ امریکہ کو اس پہلو پر چین کیساتھ ملکر نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا کہ کنٹرول لائن اور دوسرے مقامات پر بھارت کی سرگرمیوں کو امریکہ کی تائید حاصل ہے اور وہ ان کارروائیوں کو دہشتگردی کیخلاف بھارت کا ردعمل سمجھ رہا ہے۔ اس کے برعکس چین چاہتا ہے کہ پاکستان اپنے سے کئی گنا بڑے ملک بھارت کی ایسی ہر جارحانہ کارروائی کا بھرپور جواب دے۔ اس سے لگتا ہے کہ امریکہ اور چین پاک بھارت کشیدگی میں دو الگ پوزیشنیں لئے ہوئے ہیں۔ امریکہ بھارت کیساتھ اور چین پاکستان کا اتحادی۔ امریکہ اور چین کو جنوبی ایشیا کو کسی ممکنہ تصادم سے بچانے کیلئے اس تضاد کو کم کرنا چاہئے۔ امریکی تھنک ٹینک کی یہ رپورٹ امریکی اداروں اور پالیسی سازوں کیلئے خاصی اہمیت کی حامل ہے جس میں انہیں باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ سی پیک کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہوئے خطے میں دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ممکنہ تصادم روکنے کیلئے اقدامات جاری رکھیں۔ امریکی حکومت اور پالیسی ساز اگر ڈینیل مارکی کی اس رپورٹ پر توجہ دیتے ہوئے جنوبی ایشیا کے اصل مسائل کے حل کا راستہ اپنائیں تو اس سے کشمیر جیسے اُلجھے ہوئے دیرینہ تنازعہ کے سلجھنے کے امکانات بھی روشن ہو سکتے ہیں۔ سی پیک چار سال سے روبہ عمل ہے اور اسے روکنے سے پاکستان اور چین کے درمیان سب کچھ ٹھپ نہیں ہوگا کیونکہ بقول مارکی یہ دونوں ملکوں کے تعلقات کا محور اور کلید نہیں محض ایک جہت ہے۔