مینارٹی کمیشن کی تشکیل

پاکستان اپنی اقلیتوں کے معاملے میں ہمیشہ حساس رہا ہے۔ قیام پاکستان سے تین دن پہلے11اگست 1947 کو پہلی قانون ساز اسمبلی سے بانی پاکستان حضرت قائداعظم کا خطاب اقلیتوں کے حقوق اور اسٹیٹس کے ضمن میں ہمیشہ ریاست کیلئے مشعل راہ رہا۔ بعض حضرات سیکولرازم کے تناظر میں اس تقریر کا حوالہ دیتے ہیں جو درست نہیں ہے۔ قائداعظم نے خود بھی اس کی وضاحت کی تھی۔ 25اکتوبر1947ء کو رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے قائداعظم نے اپنی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے متعدد بار یہ واضح کیا ہے خاص طور پر آئین ساز اسمبلی سے اپنی پہلی تقریر میں کہ پاکستان میں اقلیتوں کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو دیگر کمیونٹیز کو حاصل ہیں اور یہ کہ وہ ریاست کے برابر کی حیثیت کے شہری ہوں گے۔ آئین پاکستان میں بھی خاص طور پر اقلیتوں کے حقوق کا ذکر ہے اور ایک شہری کی حیثیت سے ان کے اور مسلمان شہریوں کے حقوق میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس کے باوجود اقلیتوں کو امتیازی سلوک کی شکایت رہی ہے اور بعض معاشرتی رویوں کے باعث اقلیتیں اپنے آپ کو غیرمحفوظ تصور کرتی ہیں۔ پنجاب میں عیسائی اقلیت جبکہ سندھ میں ہندو اقلیت کو بعض ایسے مسائل کا سامنا رہا ہے جو معاشرتی رویوں سے جنم لیتے ہیں' ریاست کا کردار البتہ ہمیشہ مثبت رہا اور کوشش کی جاتی رہی کہ ان مسائل کا تدارک ہو اور اقلیتوں کی تکلیفوں کا ازالہ ہو۔ 19جون2014ء کو عدالت عظمیٰ نے اقلیتوں کے مسائل دور کرنے کیلئے مینارٹی کمیشن کے قیام کا تاریخی فیصلہ دیکر اس سوچ کو تقویت دی کہ پاکستان کے اعلیٰ ترین ریاستی ادارے اقلیتوں کے حقوق کی بابت ہمیشہ حساس رہے ہیں۔ بحیثیت مسلمان یہ ہماری تعلیمات اور تربیت کا حصہ ہے۔ ہمارے پیارے نبیۖ کی تعلیمات کی روشنی میں خلفائے راشدین کے عہد میں اقلیتوں سے حسن سلوک کی مثالیں انسانی تاریخ کا حصہ ہیں لہٰذا بحیثیت مسلمان ہم پاکستانی ان روایات کے وارث ہیں۔
قومی سطح پر مینارٹی کمیشن کا قیام عدالت عظمیٰ کی ہدایات کے مطابق پہلی مرتبہ عمل میں آرہا ہے۔ بلاشبہ اس کا کریڈٹ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو جاتا ہے۔ گزشتہ ہفتے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مینارٹی کمیشن کی ازسرنو تشکیل کا فیصلہ کیا گیا۔ اپنی ہیئت میں یہ ایک آزاد کمیشن ہوگا اور قومی سطح پر قائم خواتین' ہیومن رائٹس اور چائلڈ کمیشن کی طرح اس کا باضابطہ الگ سے چیئرمین ہوگا اور زیادہ تر اراکین مینارٹیز سے ہوں گے۔ مینارٹی کمیشن کی ازسرنو تشکیل میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اقلیتی ایم این اے شنیلارتھ کا اہم کردار دیکھنے میں آیا ہے۔ وہ وزارت بین المذاہب ہم آہنگی کی پارلیمانی سیکرٹری ہیں۔ انہوں نے خاص دلچسپی کیساتھ اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں مدد دی ہے جو ایک عرصے سے مؤخر چلا آرہا تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے جو کام ہوا ہے یہ کمیشن ان میں سب سے زیادہ قابلِ ذکر ہے۔ اس مینارٹی کمیشن کی وجہ سے اقلیتوں کو معاشی ومعاشرتی لحاظ سے درپیش مسائل دور ہوں گے اور ان کے معیار زندگی میں زبردست بہتری دیکھنے میں آئے گی۔ اقلیتوں کو خاص طور پر یہ شکایت رہی ہے کہ وفاقی وصوبائی ملازمتوں میں ان کو مناسب حصہ نہیں ملتا اور اس سے جڑا ہوا شکوہ یہ ہے کہ تعلیمی اداروں' خاص کر پروفیشنل اداروں میں اقلیتوں کیلئے مختص کوٹہ نہیں ہے۔ نیشنل مینارٹی کمیشن کے قیام سے نہ صرف یہ کہ ان شکایات کا ازالہ ہوگا بلکہ ان تمام خرابیوں کی اصلاح ہوگی جو معاشرتی رویوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد یہ دوسرا اعلیٰ ترین قومی کمیشن قائم ہوا ہے۔ قبل ازیں وفاقی کابینہ نے نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ کے قیام کی منظوری دی تھی۔ بچوں کے حقوق کا کمیشن قائم کرنا ہماری بین الاقوامی ذمہ داری بنتی تھی لیکن گزشتہ حکومتیں اس ذمہ داری سے پہلو تہی کرتی آرہی تھیں۔ 2017ء میں ایکٹ منظور ہونے کے باوجود یہ کمیشن تشکیل نہ دیا جاسکا اور یہی سستی مینارٹی کمیشن کی بابت بھی کی گئی۔
اس وقت قومی سطح پر محروم وکمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کیلئے چار کمیشن قائم ہو چکے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ کمیشن فعال طریقے سے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کمزور ورکنگ ریلیشن شپ کی وجہ سے نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی تشکیل نہیں ہو سکی ہے۔ حکومت نے بروقت کمیشن کی تشکیل کا عمل شروع کیا لیکن اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت پارلیمانی کمیٹی نے چونکہ چیئرمین اور ممبران کا تقرر کرنا ہے لہٰذا یہ معاملہ کئی مہینوں سے کھٹائی میں ہے۔ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی تشکیل میں تاخیر اس وجہ سے بھی ہوئی کہ ایک سابق چیئرمین اس لئے عدالت چلے گئے کہ عمر کی بالائی حد مقرر کرنے سے وہ دوبارہ چیئرمین کی پوزیشن کیلئے درخواست دینے کے اہل نہیں رہے تھے۔ واضح رہے کہ یہ سابق جسٹس صاحب ہیں جو اپنی مدت ملازمت بحیثیت جج مکمل کرنے کے بعد کمیشن کے چیئرمین بنے اور اب وہ دوسری مرتبہ کمیشن کے چیئرمین بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اللہ پاکستان پر رحم کرے اور اس ملک کی اشرافیہ کو ہدایت دے کہ وہ اپنی ذات سے بالاتر ہو کر سوچے اور اپنی ذات کی بجائے قومی مفادات کو مقدم رکھے۔