مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا اجمل خان وزیر کی صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلوں کے حوالے سےپریس بریفنگ

پشاور: مشیراطلاعات اجمل خان وزیر کی صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ نے کورونا سے شہید ہونے والے تمام سکیل کے فرنٹ لائن ورکرز کیلئے 70 لاکھ روپے پیکج کی منظوری دے دی ہے، کابینہ نے خیبر پختونخوا پاور ٹرانسمشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی کے قیام کی بھی منظوری دیدی، جس کی بدولت صوبہ اپنا گرڈ اور ٹرانسمیشن نظام قائم کر سکے گی، صوبائی کابینہ نے پبلک ہالی ڈے کی 15مئی تک توسیع کی بھی منظوری دے دی، تمام ریسٹورنٹس اور فاسٹ فوڈ
پوائنٹس کی بندش تا حکم ثانی جاری رہے گی،


مشیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ دودوھ اور دہی کی دکانوں کو 4 بجے کے بعد کھلے رکھنے کی اجازت بھی دےدی گئی، تمام سیاحتی مقامات کی تا حکم ثانی بندش جاری رہے گی، جیلوں میں ملاقات پر پابندی تاحکم ثانی جاری رہے گی، بین الاضلاع اور ضلع کے اندر ٹریفک کی نقل و حمل پر تا حکم ثانی جاری رہے گی، پشاور: مویشی منڈی کو کھولنے پر اصولی اتفاق ہوا تاہم اس فیصلے پر عمل درآمد سے قبل sop بنانے کی سفارش کی منظوری لی جائے گی،


مشیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ صوبائی کابینہ نے خیبرپختونخوا ایپیڈیمک کنٹرول اینڈ ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے، آرڈیننس کے تحت افراد کو آئسولیشن میں رکھنے، وباء کی صورت میں اجتماعات پر پابندی، اسکریننگ کے فرائض سر انجام دینے، خیبر پختونخوا کے اندر یا باہر سفر پر پابندی کے اختیارات، بیماری کی صورت میں خاندان کے سربراہ، ہیلتھ ورکر، تعلیمی ادارے کے سربراہ، پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورینٹس، ہوٹلز کے انچارج کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے زیر کفالت افراد کے متاثر ہونے کی صورت میں اطلاع دینے کے پابند ہونے جیسے امور کو اس آرڈیننس کے ذریعے قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے،



مشیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ آرڈیننس کی خلاف ورزی کی صورت میں کچھ سزائیں اور جرمانے بھی تجویز کیے گئے ہیں، پشاور: وباء کی صورت میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کو بھی قانونی تحفظ دیا گیا ہے، 6 ہزار سے زائد فیس وصول کرنے والے تعلیمی ادارے فیسوں میں 20 فیصد رعایت دیں گے،
6 ہزار سے کم فیسیں وصول کرنے والے 10 فیصد رعایت دیں گے، کوئی مالک اپنے کرایہ دار کو کرایہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں 3 ماہ تک کیلئے بے دخل نہیں کر سکے گا، ایمرجنسی جاری رہنے کی صورت میں اس میں توسیع بھی ہو سکتی ہے، صوبائی کابینہ نے خیبرپختونخوا فرانزک سائنس ایجنسی بل 2020 کے مسودے کی منظوری بھی دے دی ہے، بل کے تحت صوبے میں فرانزک سائنس ایجنسی کا قیام عمل میں لایا جائیگا، اس قانون کی منظوری سے عدالتی معاملات کیلئے فرانزک مواد (دستاویزات، آلات، نشانات وغیرہ) کے بارے میں ماہرانہ رائے کے حصول میں مدد ملے گی، بل کے تحت چیف سیکرٹری کی سر براہی میں ایک کمیٹی قائم کی جائے گی جو حکومت کو مذکورہ ایجنسی کے لیے ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی کے بارے میں سفارشات دے گی، بل میں ڈائریکٹر جنرل کے مالی و انتظامی اختیارات کا احاطہ بھی کیا گیا ہے،


انکا مزید کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ نے خیبرپختونخوا کنٹرول آف نارکوٹکس ایکٹ 2019 کے تحت قابل سزا مقدمات کی سماعت کے لیے اسپیشل کورٹس کے قیام کی منظوری دے دی ہے، اس کے تحت موجودہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، اور فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹس کی عدالتیں اسپیشل کورٹس کے طور پر بھی کام کریں گی، صوبائی کابینہ نے خیبرپختونخوا لوکل کونسل حلقہ بندی کے رولز 2019 کی منظوری دے دی ہے،
الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن کراتا ہے اس لیے ان رولز کی تیاری میں الیکشن کمیشن سے باقاعدہ مشاورت کی گئی، ان رولز کی منظوری سے الیکشن کمیشن عنقریب حلقہ بندیوں کا کام شروع کر دے گا، ان رولز کی رو سے ویلج کونسل/ نیبر ہوڈ کونسل کی تشکیل نو کی گئی ہے جن میں 3 ممبران جنرل نشستوں، 1 خاتون ممبر، 1 کسان ممبر، 1 نوجوانوں کے لیے، اور 1 سیٹ اقلیتوں کے لیے مختص کی گئی ہے،
انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013 میں بعض ترامیم کی منظوری دی گئی ہے جبکہ بعض پر مزید غور و خوض کرکے آنے والے کابینہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی،
صوبائی کابینہ نے خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں بعض ترامیم کی ۔منظوری دی گئی جبکہ بعض ترامیم پر مزید غور و خوض کرکے آنے والے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی، ترمیم میں نیبر ہوڈ اور ویلج کونسل کی حلقہ بندیوں کے لیے کم سے کم آبادی کی شرط ختم کر دی گئی ہے،
موجودہ ایمر جنسی صورتحال کے پیش نظر لوکل گورنمنٹ الیکشن موخر کر دیئے گئے ہیں۔حالات بہتر ہونے کی صورت میں کسی بھی وقت کرائے جا سکتے ہیں،
صوبائی کابینہ نے 120 چھوٹے کاروباروں کو لائسنسنگ، انسپکشن اور فیسوں کی وصولی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، ، اس اقدام کا مقصد خیبر پختونخوا میں چھوٹے درجے کے کاروباروں کو فائدہ اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے، عوضی خاصہ دار یعنی وہ لوگ جو کسی مستند خاصہ دار کی جگہ پوری یا آدھی تنخواہ پر کام کرتے تھے ان کو بھی خاصہ دار کا درجہ دیا گیا ہے اور ان کو بھی وہی مراعات دی جائینگی جو کہ مستند خاصہ دار کو دی گئی ہیں۔