اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے حالات باقی دنیا سے بہتر ہیں-وزیراعظم عمران خان

اسلام اباد : آج شام اسلام آباد میں صحافیوں کو کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے حالات باقی دنیا سے بہتر ہیں

 امریکا کہ کے حالات ابتر ہیں، امریکا میں کل 60 ہزار اور باقی ممالک میں بھی 20، 20 ہزار مرچکے ہیں۔ہمارے خطے میں سب سے زیادہ جانی نقصان ایران میں ہوا، وہاں ساڑھے 5 ہزار لوگ انتقال کرگئے۔ ایرانی صدر حسن روحانی اور مصری وزیر اعظم سے بات ہوئی ہے، تجربات شیئر کیے ہیں۔ ایران کا بتادوں کہ ایران نے فیصلہ کیا ہے کہ ایران نے شادیاں، ریسٹورانٹ اجتماعات پر پابندی لگائی ہے، باقی کاروبارکھولنے لگے ہیں،اسی طرح مصر میں پہلے دن سے ہی فیصلہ کیا کہ یونیورسٹیز، کالجز جہاں بڑے اجتماعات تھے، ان کو بند کردیا، اسی طرح بڑے پراجیکٹس اور دیہاڑی دار طبقات کے کاروبار چلنے دیے، ان کا معاشی حالات بھی ہماری طرح کے ہیں،

ہمارا لاک ڈاؤن مصر سے زیادہ سخت ہے، ہم نے سوچا ہے کہ تمام ممالک ایک دوسرے کے تجربات شیئر کرکے چلیں گے، کیونکہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کورونا کب تک چلے، یہ 6 ماہ ، سال بھی چل سکتا ہے، جب تک ویکسین نہیں نکل آتی، اس وقت تک کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کورونا کب تک چلے گا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ احساس ہنگامی نقد رقم پروگرام انفارمیشن پورٹل پروگرام میں شفافیت اور میرٹ لانے کے لئے شروع کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پروگرام کی تیسری کیٹگری میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت تمام صوبوں کے لوگوں کو شامل کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ سندھ کو احساس ہنگامی کیش پروگرام میں سب سے زیادہ ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ کورونا وائرس ٹائیگر فورس کو کہا گیا ہے کہ وہ نادار اور مستحق خاندانوں کی نشاندہی کرنے کیلئے ہریونین کونسل اور ضلع کی سطح پر اپنے ڈیسک قائم کرے۔

عمران خان نے کہا کہ ملک کی معیشت میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اہم کردار ہے اور کہا کہ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ اپنی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران اجتماعات پر پابندی اور سکولوں اور کالجوں کی بندش جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔