مرغیاں کوفتے مچھلی بھنے تیتر انڈے

ایک بہت پرانا لطیفہ یاد آرہا ہے ‘ ایک شخص اپنی نظر کا معائنہ کروانے کسی ماہر امراض چشم کے پاس جاتا ہے ‘ڈاکٹر صاحب ان کو نظرٹیسٹ کرنے کا مخصوص چشمہ لگاکرایک آنکھ پر سیاہ عدسہ لگا کردوسری آنکھ سے بورڈ پڑھنے کی ہدایت کرتاہے تو وہ کہتا ہے ‘ کونسابورڈ ‘ ڈاکٹر کہتا ہے سامنے دیوار پرجولگا ہوا ہے ‘ مریض غورسے دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے پھر سوال کرتا ہے ‘کونسی دیوار؟ اس کے بعد ڈاکٹر مریض سے کیا کہتا ہے اس بارے میں تو راوی خاموش ہے مگر ہم کم از کم چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سے یہ سوال کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے کہ انہوں نے شہریوں کو سرکاری نرخنامے پر اشیائے ضروریہ فراہم کرنے کی جو ہدایت دی ہے وہ نرخنامہ بھی محولہ بالا لطیفے کے مریض کے ماہر امراض چشم سے کئے گئے سوالوں میں آخری سوال کی مانند دکھائی دیتا ہے’ بلکہ شاید ہم نے ”دکھائی دیتاہے” کے الفاظ بھی غلط استعمال کئے ہیں کہ جو چیز سرے سے موجود ہی نہیں ہے اس کے دکھائی دینے کا سوال کہاں پیدا ہوتا ہے ہمیں یاد نہیں کہ سرکاری نرخنامے جو کبھی (صرف نمائش کی حد تک) جاری کئے جاتے تھے ‘ ان کا وجود اب بھی کہیں ہے یا ہوسکتا ہے یعنی بقول شاعر”ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے”۔ اس حوالے سے ابھی چند ہی روز پہلے کسی اخبار میں کچھ ایسی ہی خبر نظروں سے گزری تھی اور کسی صارف نے یہی شکایت کی تھی کہ دکاندار اپنی دکانوں پر کئی ماہ پہلے کے نرخنامے آویزاں کرکے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں ‘ گویا یہ سلسلہ بھی اب لگ بھگ موقوف ہوچکا ہے حالانکہ پہلے ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ مختلف اشیاء کے نرخنامے سرکاری سرپرستی میں متعلقہ اشیاء صرف کے تاجروں کی انجمنوں کی جانب سے جاری ہوتے تھے ‘ جبکہ سبزیوں ‘ پھلوں وغیرہ کے نرخنامے روزانہ کی بنیاد پر سبزی اور فروٹ منڈیوں کے تاجر جوتھوک کے حساب سے خرید و فروخت کرتے ہیں’ خوردہ فروشوں کے لئے جاری کرواتے تھے’ لیکن یہاںبھی ایک تگڑم بازی یہ کی جاتی کہ تازہ پھلوں اور سبزیوں کے نرخ درج کرتے وقت ان کی کیٹگری کے حوالے سے ایک ہی چند کے
نرخ کوالٹی کی مناسبت سے درج ہوتے ‘ مثلاً سیب نمبر 1 سیب نمبر 2 اسی طرح ٹماٹر نمبر 1 ٹماٹر نمبر 2وغیرہ وغیرہ اور یہی وہ نکتہ استحصال ہوتا ‘ یعنی دو نمبر کاحال ایک نمبر کا ظاہر کرکے زیادہ قیمت وصول کرنا”قانونی” بنادیا جاتا ‘ صرف چند بڑے دکاندار جن کے لگے بندھے ایسے گاھک ہوتے ہیں اور جو ہرچیز میں معیار کومقدم سمجھتے ہیں ‘ جبکہ ایسے دکاندار بھی اپنے گاہکوں کے ساتھ کوئی ہینکی پھینکی نہیں کرتے ‘ وہ پہلے تو صرف اعلیٰ اور معیاری پھل اور سبزیاں ہی اپنے سٹورز پر سجاتے ہیں اور ایک ہی دام ‘ نہ کم نہ زیادہ وصول کرنے کے اصول پر عمل کرتے ہیں ‘ اور ان کے گاہک بھی مول تول کے عادی نہیں ہوتے ‘ سودا تلواتے ہیں اورمطلوبہ رقم ادا کرکے چلے جاتے ہیں ‘ اس کے برعکس چھوٹے عام دکاندار اور زیادہ تر ہتھ ریڑھیوں والے دو نمبر بلکہ اس سے بھی گئی گزری ناقص اشیاء انتہائی سستے داموں تھوک مارکیٹ سے ڈھونڈ کر لے آتے ہیں اور گلی محلوں کی دکانوں یاپھرریڑھیوں پرسجا کر گلیوں میں آوازیں لگاتے ہوئے سادہ لوح گھریلو خواتین کو تھما دیتے ہیں ‘ اسی طرح شام کے اوقات میں ہتھ ریڑھیوں پر داغدار فروٹ (کمال ہوشیاری سے ان کے داغدارحصوں کو چھپاتے ہوئے) گاہکوں کو بظاہر سستے داموں تھما دیتے ہیں مگر جب لوگ گھروں میں ان اشیاء کو دیکھتے ہیں تو ان کے عیب ظاہر ہوجاتے ہیں اور یوں اچھی کوالٹی کے نسبتاً بہتر معیار کے مہنگے فروٹ سے بھی مہنگے پڑ جاتے ہیں ‘ یعنی بقول شاعر
محشر میں گئے شیخ تو اعمال ندارد
جس ملا کے تاجر تھے وہی مال ندارد
ایک وقت تھا کہ اس شہر پشاور میں جوصوبہ خیبر پختونخوا کادارا لحکومت بھی کہلاتا ہے ‘ ایک انجمن صارفین ہوا کرتی تھی جس کا کام ہی اشیائے صرف کی قیمتوں پر نظررکھنا تھا ‘ اب خدا جانے وہ انجمن مرحوم ہو چکی ہے ‘ یا پھرکہیں”کومہ” میں پڑی ہوئی ہے ‘ گویا سانسیں تولے رہی ہے مگر اس کے جاگنے یا بالکل ہی گزرنے کے حوالے سے وثوق سے کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ‘ اس حوالے سے درست خبر توڈپٹی کمشنر یا پھر ان کی ہدایت پرمتعلقہ ا سسٹنٹ کمشنر ہی دے سکتے ہیں ‘ کیونکہ ایسی انجمن انہی سرکاری حکام کی نگرانی میں شہر کے چینہ اور چنیدہ افراد کے تعاون سے کام کرتی ہیں ‘ اب ایک طویل عرصے سے ایسی کسی انجمن کے بارے میں کوئی خیر خبر سامنے نہیں آئی یہ انجمن اپنے ممبران کے اجلاس ہر پندرہ روز بعد منعقد کرا کر ان میں اشیائے صرف کی قیمتوں کا جائزہ لیا کرتی تھیں اور اپنی تجاویز متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر اور آگے ڈپٹی کمشنر تک پہنچاتی تھیں ‘ جن کو آئندہ کے لئے پالیسی سازی میں سامنے رکھتے ہوئے مارکیٹوں کے لئے ہدایات جاری کرانا متعلقہ سرکاری حکام کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی ۔اب جوصوبے کے چیف سیکرٹری نے توجہ دلائی ہے تو کہنا پڑ رہا ہے کہ
آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
کہ میرے دل پہ پڑا تھا کوئی غم کا سایہ
وہ انجمن صارفین اب دوربین تو کیا خورد بین میں بھی نظر نہیں آرہی ہے ‘ اس لئے عوامی نقطہ نظر سرکار تک کون پہنچائے ؟اس پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ نرخوں کوکنٹرول کرنے کی ذمہ داری اگرچہ اصولی اور قانونی طور پر ضلعی انتظامیہ کی بنتی ہے مگر یہ مارکیٹ اکانومی کے اصولوں کے تحت یکطرفہ ہی فیصلہ ہو گا’ کیونکہ اس میں عوامی نقطہ نظر شامل نہیں ہوگا ‘ اور اس مقصد کے لئے عوام کے مفادات کا تحفظ شہری سطح پرقائم عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہوتی ہے اس وقت جومعروضی حالات ہیںان میںایسے عوامی نمائندوں کی شرکت کہیں نظر نہیں آتی یوں اگر ایسی انجمنیں ہرچند کہیں کہ ہے نہیں ہے کے حوالے سے دکھائی نہیں دیتیں یعنی ہر ضلعی سطح پر ان کا وجود کہیں دکھائی نہیں دیتا ‘ تو ان کی تشکیل نو کی ضرورت کا احساس ہونا چاہئے اور ضلعی سطح پر ایسی انجمنیں ایک بارپھرفعال بنانے پر توجہ دی جائے اس سے صورتحال کوکنٹرول کرنے میں انتظامیہ کومدد ملے گی اور مارکیٹ کی سرگرمیوں پر موثرکنٹرول میں عوامی نقطہ نظر شامل ہونے سے بہت فائدہ ہونے کی امیدیں روشن ہوسکیں گی۔

مزید دیکھیں :   پختونخوا میں عمران خان کی مقبولیت

مجید لاہوی نے نصف صدی پیشتر کیا خوب کہا تھا
مرغیاں ‘ کوفتے ‘ مچھلی ‘ بھنے تیتر ‘ انڈے
کس کے گھر جائے گاسیلاب غذا میرے بعد
فاتحہ خوانی میں احباب اڑائیں گے پلائو
اور کریں گے مری بخشش کی دعا میرے بعد