سیاسی کشیدگی میں کمی لانے کی ضرورت

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف اپنا آرمی چیف لگوا کر پہلا کام مجھے ڈس کوالیفائی کرانے کا کرائیں گے۔سرائے عالمگیر میں پی ٹی آئی مظاہرین سے ویڈیو خطاب میںعمران خان نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے ہمیں فارن فنڈنگ اورتوشہ خانہ کیس میں پھنسایاہواہے ۔الیکشن کمشنر نہ صرف مسلم لیگ( ن) کے قریب ہے مگرہینڈلرز بھی اس کو کنٹرول کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشنر ہمیں ٹارگٹ کر رہا ہے عمران خان نے کہا کہ مجھے کہا جاتا ہے کہ ایک سال الیکشن کا انتظار کرلیں تحریک انصاف کو اس میں کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ عوام ہمارے ساتھ ہیں اور ملک میں جب بھی الیکشن ہوں گے پی ٹی آئی ہی جیتے گی۔سابق وزیر اعظم عمران خان نے اب جبکہ انتخابات میں تعجیل کے مطالبے پربالواسطہ طورپر دستبرداری کا اعلان کیا ہے قبل ازیں آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے بھی اس طرح کے خیالات کا اظہار کرچکے ہیں توسیاسی بصیرت کاتقاضا یہ ہے کہ اب سیاسی جماعتیں مل کرحالات کومعمول پرلانے کے لئے اپنا کردار ادا کریںہمارے تئیں بلاوجہ کی الزام تراشی اور کردار کشی کا سلسلہ اب ختم ہو جانا چاہئے اور سیاسی جماعتوں کومنفی سیاست کی بجائے مثبت اور تعمیری سیاست کی طرف متوجہ ہو جانا چاہئے تاکہ ملکی سیاست کا احیاء ہوسکے ۔جہاں تک معاملات اور اختلافات کا سوال ہے اس ضمن میں حکومتی دائرہ اختیار میں بلاوجہ کی مداخلت کی دھمکی جیسے امور سے اب ہاتھ کھینچ لیا جائے تو بہتر ہوگا کیونکہ جن کا اختیار ہے اور جنہوں نے ٹھان لی ہے اس میں دبائو اور تنقید دونوں ہی لاحاصل ٹھہرنے ہیں خواہ مخواہ کی مخالفت مول لینے سے بہتر ہوگا کہ جو معاملات ملکی مفاد اور عوامی دلچسپی کے ہوں ان کوموضوع بحث بنایا جائے ۔ حالات خراب کرنے کی سعی سے بالاخر عوام ہی متاثر ہوتے ہیں اور عوام اس صورتحال سے بیزار آچکے ہیں۔انتخابات قبل از وقت کرانے کے لئے دبائو ڈالنے کی بجائے آئندہ انتخابات میں کامیابی کے لئے منصوبہ بندی اور اس ضمن میں تیاریاں ہر سیاسی جماعت کے مفاد میں ہوگا۔جن اداروں سے شکایات ہیں ان پر الزام تراشی کی بجائے قانونی اور عوامی طور پردفاع کا راستہ اپنایا جائے اور بلاوجہ کی محاذ آرائی سے گریز کیا جائے جہاں حق تلفی اور ناانصافی ہو اس کے خلاف واویلا کرنے کی بجائے انصاف کے فورم سے رجوع ہو تو موزوں ہوگا۔
سرکاری اداروں کوآئینہ
پشاور ہائیکورٹ نے پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کی جانب سے سوات ایکسپریس وے کا مرمتی کام شروع نہ کرنے اور عدالت میں غلط بیانی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو آخری موقع دیتے ہوئے کام 14 روز میں شروع کرنے کی ہدایت کردی۔ اس موقع پر چیف جسٹس قیصررشید نے ریمارکس دیئے کہ پختونخوا ہائی وے کی کارگردگی صفر ہے جو رپورٹ عدالت میں دیتے ہیں گرائونڈ پر ایسا کچھ نہیں ہوتا موٹروے کو بنے اتنے سال ہوگئے وہ ابھی بھی ویسے ہی ہیںآپ لوگوں نے ایک ایکسپریس وے بنائی اس کا ابھی سے یہ حال ہے۔دریںاثناء پشاور ہائیکورٹ نے شانگلہ کے ایک گرلز سکول میں اساتذہ نہ ہونے کے حوالے سے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ محکمہ تعلیم اپنے معاملات ٹھیک کرے ۔ اس موقع پرچیف جسٹس قیصررشید خان نے کہا کہ شانگلہ میں ایک گرلز سکول سے متعلق اخبارمیں خبر آئی ہے کہ وہاں سکول ٹیچر نہیں ہے۔اس سکول میں ایک ٹیچر ہے اوروہ بھی سکول نہیں آتی ، بچے کیا کر یں گے ؟۔ اس موقع پر ایڈ یشنل ایڈوکیٹ جنرل سید سکندر شاہ نے عدالت کو بتایا کہ دو دن میں وہاں تعیناتی ہو جائے گی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جب عدالت نوٹس لیتی ہے تو پھر محکموں کو یاد آ تا ہے، یہ خود ایسے مسائل کو کیوں حل نہیں کرتے؟۔عدالت میں ان دوالگ الگ معاملات سے اس امر کا بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ خیبر پختونخوا میں سرکاری معاملات اور امور کی انجام دہی کا کیاعالم ہے سوات ایکسپریس وے کے حوالے سے قبل ازیں بھی عدالت استفسار کر چکی تھی اور معاملات کی درستگی عدالتی ہدایات ہی سے کی جا چکی تھی ایکسپریس وے کی تکمیل کوزیادہ عرصہ نہیں گزرا چند ہی سالوں میں اس کی مرمت کی ضرورت پیش آنا اس کے تعمیراتی کام کے معیار پرسوالات اٹھانے کا باعث ہے جس سے قطع نظر عدالت کو اب سکول میں ٹیچرز کی غیرحاضری جیسے مسئلے پربھی وقت صرف کرنا پڑ رہا ہے جومحکمہ تعلیم اورمتعلقہ ضلع کے محکمہ تعلیم کے افسران کی نااہلی اور غفلت کاواضح ثبوت ہے اگر عدالت ہی کو ان معاملات پر بھی نظر رکھنا اور نوٹس لینا پڑ رہا ہے تو یہ بہتر نہیںکہ خیبرپختونخوا ہائی ویز اتھارٹی اور محکمہ تعلیم کے دفاتر کوتالے لگا دیئے جائیں۔ اگر حکومت ان ذیلی قسم کے معاملات کا بھی نوٹس نہیں لے سکتی توپھر اورکیا کرسکتی ہے سرکاری محکموں کی کارکردگی اس طرح کی ہوگئی ہے اس کا سارا ملبہ حکومت ہی پرگرتا ہے اس کی روشنی میں حکومت اپنی کارکردگی کا آپ ہی جائزہ لے اور خود احتسابی کی جائے تو موزوں ہو گا۔
عصری تعلیم کے بدلتے تقاضے
آئی ٹی کی تعلیم کافروغ اور ٹیکنالوجی میں مہارت کے ذریعے بین الاقوامی مارکیٹ سے کام کا حصول جس طرح کی تعلیم و تربیت کا متقاضی ہے جس پر جس انداز اور مارکیٹ کی ضرورتوں کے مطابق توجہ دینے کی ضرورت ہے بدقسمتی سے اس کا عشرعشیر بھی نہیں ہو رہا تعلیمی اداروں میںبجائے اس کے کہ عملی طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں کی تعلیم کومہارت سکھانے کے ساتھ مروج کیاجائے اس کے برعکس ہور ہا ہے کوشش کے باوجود اس میں خاطر خواہ کامیابی کا نہ ہونا ہمارے عصری تعلیمی اداروں میں طالب علموں کواس کمال درجہ کی مہارت سکھانے میں ناکامی ہی بڑی وجہ ہے ۔امر واقع یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں اور جامعات میں آئی ٹی کی روایتی تعلیم اور غیر روایتی و ایڈوانس کورسز نہ کرانا المیہ ہے نجی تعلیمی اداروں کی صورتحال بھی سرکاری اداروں سے زیادہ مختلف نہیں بین الاقوامی جاب مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارتوں کا حصول ہی آئی ٹی کے شعبے میںکامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے ۔ بین ا لاقوامی طور پر ٹیکنالوجی میں اتنی تیزی سے تبدیلی آرہی ہوتی ہے کہ اس میں مہارت مشکل بن جاتا ہے ملک میں آئی ٹی کی تعلیم حاصل کرنے والوں کے لئے روزگار کے مواقع اس قدر پرکشش نہیں جس کے پیش نظر سی ایس ایس ‘ پی ایم ایس اور دیگر پرکشش ملازمتوں میں اس کے لئے خصوصی نشستیں مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید دیکھیں :   سودی نظام کے خاتمے کی احسن مساعی