گھڑی گھڑی بس ایک ہی ”گھڑی ”

دنیا بھر میں سب کے لیے موضوع بحث جی 20 کانفرنس ہے جو انڈونیشیا کے مسلمان اقلیتی ریاست مالی میں منعقد ہوئی جس کااعلامیہ گزشتہ روز جاری ہوا ، انڈونیشیا کے اس جزیر ہ کی آبادی غیر مسلم اکثریت پرمشتمل ہے مسلمان یہاں اقلیت میں ہیں ،بدھ مت اکثریت رکھتے ہیں ،اس کانفرنس میں بھارت کو جی20کی سربراہی تفویض ہوگئی ، جب اس کانفرنس کا انعقاد ہو رہاتھا تب بھی یہ سوال اٹھا تا کیا بھارت اگلی کانفرنس بھارت کے کسی ایسے علا قے میں منعقد کرانے کا اہتما م کر ے گا جہا ں مسلما نو ں کی اکثریت ہو جیسا کہ انڈونیشیا نے کر دکھا یا ہے ، علا وہ ازیں ایک واقعہ اور نمو دار ہوا وہ یہ کہ جب انڈونیشیا کے صدر مالی کا نفرنس میں شرکت کے لیے پہنچے تو طیا رہ سے نکلتے وقت خاتون اول انڈونیشیا کا پاؤں پھسل گیا اوروہ گر پڑیں وہا ں موجو دایک دومرد خاتون اول کو اٹھانے کے لیے آگے بڑھے تو انڈونیشیا کے صدر نے ان کو روک دیا اور پھرخاتون اول کو اٹھانے کے لیے ایک خاتون آئیں جنہوں نے اٹھنے میںمدد دی ، ایسے مو قع پر پاؤں کا پھسل جا نا یا مڑ جانا کوئی انوکھی بات نہیں اہم بات یہ ہے کہ کانفرنس میںشریک افراد کی زیا دہ تر ترقی یا فتہ ممالک سے ہے جہا ں خاتو ن سے ہا تھ ملانا یا معانقہ کر نا کوعیب نہیں ہے مگر ایک مسلما ن معاشرے میںعیب ہے جو انڈونیشیا کے صدر نے اسلا می اصول کے مطا بق اپنا یا جو قابل تحسین ہے جبکہ اب مسلما ن بھی مغربی تہذیب کے شکار ہو چکے ہیں ۔ اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف یعنی بس وہی ایک ”گھڑی ” ، پاکستان میں انڈونیشیا میں منعقدہ کانفرنس کی جا نب کوئی خاص توجہ مرکو ز نہیں ہے ہر سو بس ایک گھڑی کا ذکر پھیلا ہوا ہے جس کے بہت چرچے بھی ہیں اور ڈھیر سارے چرکے بھی لگے ہوئے ہیں ، توشہ خانے سے نکال کر گھڑی کا چرچا تو کا فی ہو ہی رہا تھا کہ اس درمیاں ایک صاحب نے ایک نجی ٹی وی کی سکرین پر چہر ہ نمائی فرما تے ہوئے گھڑی کی خرید وفروخت بے پردہ کر دیا جس سے کئی نئے مو ضوع چھڑ گئے ، اب یہ سوال اہمیت کا حامل نہیں رہا کہ توشہ خانہ سے ایک دوست ملک کے وزیراعظم کا دیا گیا تحفہ نکال کر فروخت کردیا گیا ، بلکہ پوچھا جا رہا ہے کہ خریدار کون ہے ، خریدار عمر فاروق ظہو ر نا رویجن پاکستانی نژاد ہے یہ چار بھائی ہیںجو اس وقت نا روے کی جیل میں استراحت فرمائے ہوئے ہیں خود عمرفاروق بھی مطلوب ہیں مگر وہ ابو ظہبی کے شاہی خاندان کے مشیر ہیں جیسا کہ انھو ں نے خود بتلا رکھا ہے ، جس کی وجہ سے محفوظ ہا تھو ں میں پناہ گیر ہیں ، انھو ں نے پاکستان میں صوفیہ مر زا نامی خاتون سے شادی کی تھی ، جن کے بارے میں مبینہ طور پرکہاجاتا ہے کہ وہ شوبز کے شعبہ سے منسلک رہی ہیں ، عمر فاروق کی دو جڑواں بچیا ں ہوئیں ، اس کے بعد صوفیہ مر زا سے انکی نا چاقی شروع ہوگئی اور مقدمہ بازی بھی ہو تی رہی تاہم عمر فاروق بچیوں کو پاکستان سے متحدہ عرب اما رات لانے میں کا میا ب ہوگئے ، خیر اب تو عمر فاروق کی تصاویر سابق وزیر اعظم اور ان کے کئی وزراء کے ساتھ تصویر یں عام ہو چکی ہیں ، اس انوکھی و قیمتی گھڑی کے بارے میں جو گھڑی گھڑی خبر یں آرہی ہیں اس میں یہ بات اتنی اہم نہیں رہی کہ توشہ خانے سے نکال کر گھڑ ی بیچ دی گئی بلکہ اہم بات یہ ہے کہ جس شخص نے گھڑی خریدی اور اس گھڑی کو سکرین پر جلو ہ افروز بھی کیا بعض بہت اہم نوعیت کی باتیں کی ہیں مثلا ًعمر فاروق کا کہنا ہے کہ ا س گھڑی سے شہزاد اکبر نے تعریف کرایا اور فرح گوگی کے ذریعے لین دین کرایا ، یعنی فرح گوگی گھڑی لے کر دوبئی گئیں ، جہا ں سودا مکمل ہو ا ، یہا ں ان کے مطابق فرح گوگی نے قیمت کی نقد ادائیگی کا مطالبہ کیا جو عمر فاروق کے بقول کہ فرح گوگی نے بتایا کہ رقم کی یہا ں ضرورت ہے اس لیے نقدی وصول کی جائے گی چنانچہ نقدی ادا کی گئی ، اب سوال یہ ہے کہ نقد رقم پاکستان کیسے ننتقل ہوئی اگر ہوئی تو اس کا مطلب ہے کہ منی لانڈنگ ہوئی جیسا کہ پاکستان کے ایک سینئرصحافی حامد میر کا کہناہے کہ یہ نقد رقم جو ڈالر تھے پاکستان کے ایک بہت بڑے کا روباری شخصیت کے نجی جہا ز کے ذریعے پاکستان پہنچائی گئی اور پھر ایک بڑی شخصیت کے حوالے کردی گئی ،چنانچہ منی لا نڈرنگ کا بھی کیس بنتا ہے ، عمر فاروق کاکہناہے کہ گھڑی کی خریداری کے بعد ان کے شہزاد اکبر سے تعلقات اس لیے خراب ہوئے کہ انھو ں نے شہزاد اکبر کی بڑھتی ہوئی فرمائشوں کو پو را کرنے سے انکا ر کردیا تھا ، اب عمر ان خان کا کہناہے کہ وہ جیو نیو ز ، عمر فاروق اور شازیب خانزادہ کے خلاف پاکستان ، دوبئی اور لندن میںمقدما ت کریں گے ، جیو نیو ز کا کہنا ہے کہ ان کے پاس سارے ثبوت ہیں شوق سے مقدمات کیے جائیں یہ ان کاحق ہے ، لیکن لندن میں مقدمہ کرنے کی تُک سمجھ میں نہیںآئی کیو ں کہ خبر جنگ لندن میں شائع نہیں ہوئی جیو نیو ز پر بھی خبر پاکستان سے نشر ہوئی ہے ،ہا ں البتہ لند ن میں خان صاحب اگر کوئی مقدمہ کرنا چاہتے ہیں توہ فنانشیل ٹائمز کے خلا ف ہو سکتا ہے جس نے تقریبا ًایک ڈیڑ ھ ما ہ پہلے خان صاحب پرمبینہ طور پر کرپشن کے الزامات شائع کیے ہیں ، گھڑی کے بارے میں مئو قف یہ دیا ہے کہ گھڑی راولپنڈی میں فروخت کی تھی جس دکان کا حوالہ دیا ہے وہ ایک معمولی سی دکان ہے جہاں پر دوتین ہزار روپے مالیت کی گھڑیو ں سے زائد مالیت کی گھڑیا ں نہیں پائی جا تیں ، جب ایک معروف صحافی نے ما رکیٹ جاکر اس دکان کا سراغ لگایا اور دکاندار سے استفسار کیا تو معلوم ہو ا کہ گھڑی کی رسید 2019کی ہے اور موجودہ دکان دار نے یہ دکان 2022 میںخرید ی ہے گویا پرانا دکان دار اب لاپتہ ہے تاہم اسے تلا ش کیا جا سکتا ہے ۔ اور وہ عوام کے پیش ہو کر بتا سکتا ہے کہ اس نے گھڑی خرید یا نہیں پھر گھڑی کہا ں فروخت کی ، پی ٹی آئی کے ذرائع یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ دکاندار نے آگے یہ گھڑی پرویز نامی شخص کے ہا تھ فروخت کی جبکہ عمر فاروق کا ادعا یہ ہے کہ انھوں نے فرح گوگی سے خریدی جس کے پاس ان کے پورے ثبوت مو جو د ہیں ، قلقہ خان مفکر صافی یہ خبر دے رہے ہیں کہ گھڑی پاکستان میں فروخت کر نے کادعویٰ اس لیے ہو رہا کہ منی لانڈرنگ کو چھپایاجائے ، بات سچ ہے یا نہیں لیکن بات تو ہے ضرور ۔ یہ بھی ہے کہ اس گھڑی نے ساری دنیا میں گھڑی بھر میں پاکستان کی سبکی کردی ہے ۔

مزید دیکھیں :   پختونخوا میں عمران خان کی مقبولیت