تاب نظارہ نہیں ، آئینہ کیا دیکھنے دوں

ہمارے ایک عزیز بزرگ اپنے بالوں اور مونچھوں کو رنگنے اور نہانے دھونے کے بعد جب آئینہ سامنے رکھتے تو مسلسل ” آفرین آفرین ” کہے جاتے۔ کبھی آئینے میں ایک سمت سے تو کبھی دوسری سمت سے اپنا عکس دیکھنے لگتے۔ اچھا ہوا کہ آئینہ موجود تھا ورنہ ہزاروں سال قبل جب کسی قسم کا آئینہ ابھی ایجاد نہیں ہوا تھا تو قدیم یونان کے نارسیسس نامی نوجوان نے جب دن کی روشنی میں ایک جھیل کے شفاف پانی کے اندر پہلی بار اپنا عکس دیکھا تو بس دیکھتے ہی دیکھتے اپنے مردانہ حسن کی اس نادر تصویر پر فریفتہ ہو گیا۔ اس حیرانی اور بے خودی کی حالت میں جب جھک کر پانی میں اپنے عکس کو چومنا چاہا تو وہ جھیل میں گر کر ڈوب گیا۔ کہا جاتا ہے کہ جھیل کے اسی کنارے جب ایک پھول اُگ آیاتونوجوان کے نام کی مناسبت سے پھول کا نام نرگس رکھا گیا۔یوں کوئی شخص اپنے آپ کو زیادہ چاہنے لگے تو اس حالت کو نرگسیت (نارسیسیزم) کہتے ہیں ۔
قدیم یونان کے عظیم فاتح سکندر اعظم اور حسین و جمیل خاتون ہیلن آف ٹرائے کو نرگسیت کا شکار مانا جاتا ہے۔ یہاں بھی ہر شعبہ میںنرگسیت کی ماری شخصیات موجود ہیں مگر ان میں ایک خرابی ہے کہ جب انہیں آئینہ دکھایا جاتا ہے تو بّرا مان جاتی ہیں ۔ان کے اپنے آئینے شاید وہی دکھاتے ہیں جو یہ دیکھنا چاہتے ہیں اور دوسرے کے آئینوں میں تو کمال یہ ہے کہ سب کچھ نظر آجاتا ہے۔ آئینہ فارسی زبان کا لفظ ہے۔ پہلے یہ آہنہ لکھا جاتا کیونکہ قدیم ایران میں اسے آہن یعنی لوہے کی پلیٹ کو چمکا کر بنایا جاتا۔ دھات قبل مسیح کی ایجاد ہے اور یونانیوں کا دعویٰ ہے کہ سکندر اعظم کے عہد میں لوہے کی پلیٹ کو پالش کر کے آئینہ بنایا گیا،جسے سکندر نے بہت پسند کیا اور اس میں چہرہ دیکھ کر اپنی داڑھی مونچھ منڈوائی تھی ۔
اُردو کے معروف ادیب ڈپٹی نذیر احمد نے اپنی قوم کی بیٹیوں کے لیے ایک کتاب ”مراة العروس ” کے نام سے لکھی ۔ عربی کے ان الفاظ کے معنی ہیں ‘ دلہنوں کا آئینہ ‘ ۔اُنہوں نے اس کتاب کے ذریعے اپنی قوم کی بیٹیوں کو اچھی سیرت کا ایک اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے ۔ وہ ایک ایسا زمانہ تھا جہاں ہمارے اسلاف نے کتاب کو بھی ایسا آئینہ بنایا جس میں قاری کو اپنی ظاہری و باطنی خوبصورتی دکھائی دیتی مگر آج جدید سائنسی دَور میں ہر نئی ایجاد سے ایک ایسے آئینے کا کام لیا جاتا ہے جس میں مطلوب شخص کو ننگا ہی دیکھا جا سکے۔ اب آئینے اصل کی بجائے نقل دکھانے لگے ہیں ۔
ہمارے مُلک کے موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں آئینہ دیکھیں تو سرِآئینہ عکس کسی کا ہوتا ہے اور پسِ آئینہ کوئی اور موجود ہوتا ہے ۔ ادب زندگی کا آئینہ ہے ۔ دُنیا بھر کے ادب اور دیو مالائی قصوں میں آئینے کے استعمال اور اس کے مشاہدات کے حوالے سے بڑا دلچسپ مواد موجود ہے ۔انگریزی شاعر لارڈ ٹینی سن نے اٹلی کی ایک خوبصورت خاتون لیڈی آف شیلاٹ کی کہانی کو نظم کیا ہے ۔ دیوتاؤں کی بد دعا سے اگر یہ عورت اپنے ارد گرد کی دُنیا کو براہ راست آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرتی تو اس کی موت ہو جاتی ، اس لیے وہ شہر سے دورایک دریا کے وسط میں شیلاٹ جزیرے کے بند قلعہ میں رہنے لگی۔ اس کے کمرہ میں ایک بڑا طلسمی آئینہ نصب کیا گیاجس میں وہ باہر پیش آنے والے واقعات کا عکس دیکھتی۔ ایک دن آئینے میں خوبرو نوجوان شہسوار کا عکس نظر آتا ہے تو وہ اپنے آپ پر قابو نہ پا سکی اور اُسے دیکھنے کے لیے وہ بے تابی میں اپنے کمرے سے باہر نکلتی ہے ۔ ایسے میں یکا یک جادوئی آئینہ ٹوٹ جاتا ہے اور وہ سمجھ جاتی ہے کہ اب اس کی موت قریب ہے۔ وہ باہر موجود ایک کشتی پہ اپنا نام لکھ کر اس میں لیٹ جاتی ہے ۔ وہ مر کر بھی حسن و جمال کا مجسمہ نظر آتی ہے، نوجوان شہسوار اور لوگ اسے دیکھ کر دیوتاؤں سے اس کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں ۔ اس قصہ کی مناسبت سے بند کمروں میں بیٹھے عوام پہ کڑی نظر رکھنے والے اہل اقتدار اور حقیقت سے قطع نظر کاغذی رپورٹوں پر کاروائی کرنے والی افسر شاہی کو لیڈی آف شیلاٹ کا طعنہ بھی دیا جاتا ہے ۔ سنو وائٹ اور سات بونوں کی کہانی میں ننھی منی شہزادی سنو وائٹ کی سوتیلی ماں نرگسیت کا شکار ہوتی ہے ۔ محل میں نصب طلسمی آئینہ کے سامنے وہ روزانہ پوچھتی کہ کون سب سے خوبصورت ہے ؟ آئینہ جواب دیتا ”آپ ملکہ صاحبہ ” ۔ کچھ عرصہ بعد شہزادی نوجوان حسینہ بن جاتی ہے۔ اس وقت جب ملکہ نے آئینہ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ خوبصورت کون ہے ؟ تب آئینے نے جواب دیا کہ ”شہزادی سنو وائٹ ” ۔ بس اسی لمحے ملکہ شہزادی کو جان سے مار نے کے پیچھے پڑ گئی لیکن سات بونوں کی مدد سے سنو وائٹ زندہ رہی ۔ ہم بھی اپنے ہاں آئینوں کی سچائی سننے کے عادی ہر گز نہیں رہے اور یہاں کئی سنو وائٹ مار دی گئیں ہیں ۔ بد قسمتی سے ہمارے بونے بھی ملکہ کا ساتھ دیتے ہیں ۔ ہم اپنے دامن کے دھبے دھونے کی بجائے آئینہ دھونے میں ہی مصروف ہیں ۔ اس عمل میں کئی آئینے ٹوٹ بھی چکے ہیں لیکن توڑنے والے الزام دوسروں پر لگاتے ہیں جیسے ایک بیوی نے اپنے سنگھار میز کاآئینہ ٹوٹنے پر شوہر ہی کو موردِ الزام ٹھہرایاکہ مَیں نے یہ ڈنڈا تمہیں مارنے کے لیے دے مارا تھا اگر تم آگے سے نہ ہٹتے تو یہ آئینہ کبھی نہ ٹوٹتا ۔

مزید دیکھیں :   سیاسی مکالمے کو کامیاب بنانے کی ضرورت