غیر سنجیدگی کی انتہا

محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے پہلے یکطرفہ جے آئی ٹی کی تشکیل اور بعد ازاں عمران خان پر حملے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی پر وفاق کے اعتراضات تسلیم کرنے کا عمل غلطی کی درستگی کی حد تک تو صحیح ہے لیکن اس اہم کیس کو جس طرح کھلونا بنا دیاگیا ہے اس کے بعد اب اس پراسرار کیس کا کوئی قانونی انجام مشکل نظر آرہا ہے ۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے وفاق کے تحفظات سے سینئر حکام کو آگاہ کردیا ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب نے سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات درست ہیں، لہٰذا جے آئی ٹی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ اگر انٹیلی جنس کے نمائندے شامل نہ ہوں تو پنجاب کے افسران پر مشتمل کمیٹی ہی کہلائے گی۔محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں انٹیلی جنس اداروں کے نمائندے شامل ہونا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں وفاق کے تحفظات پر مشتمل مراسلے کو صوبائی سب کیبنٹ کمیٹی برائے امن وامان کے اجلاس میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اس مقدمے کو شروع ہی سے پراسرار بنانے اور خراب کرنے کی منصوبہ بندی کر لی گئی تھی وگرنہ میڈیکولیگل سے لے کر اس کی ایف آئی آر کے اندراج اور اب جے آئی ٹی تک کے معاملے میں اس قدر بے ضابطگی سمجھ سے بالاتر ہے اس واقعے میں گرفتار ملزم کوبھی ہفتہ عشرہ تاخیر سے اب کہیں جا کر عدالت میں پیش کر دیاگیا قبل ازیںان کے بیانات کی ویڈیوز برموقع وائرل کی گئیں اگر یہ سارا عمل سندھ میں ہوتا تواس کی ذمہ داری صوبائی حکومت اور اتحادی جماعتوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی گنجائش تھا مگرپنجاب حکومت کو اس کاالزام بھی نہیں دیا جاسکتا کہ کیس کو جان بوجھ کر خراب کیا جارہا ہے یہ درست ہے کہ اس طرح کے واقعات اورمقدمات کے بالاخر لاحاصل اور پراسراریت لئے دفن ہونے کا رواج ہے مگر جس مقدمے کا مرکزی ملزم برموقع گرفتار ہوچکا ہو اور انہوں نے قتل کی کوشش کااعتراف بھی کیا ہو اس کو اس قدرالجھانا سمجھ سے بالاتر ہے ہمارے تئیں تو بظاہر یہ سیدھا سادھا اقدام قتل کا کیس ہے جس میں جے آئی ٹی کی تشکیل کی بھی ضرورت نہیں تھی بلکہ پولیس اگردرست طریقے سے اس کی اب تک تفتیش کرتی تو ساراواقعہ طشت ازبام ہو چکا ہوتا اور اس میں ملوث عناصربھی کٹہرے میں کھڑے نظر آتے اس مقدمے کو خراب کرنے کی سوچی سمجھی سازش سے ہوشیارہونے اور قانون کے مطابق اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے سنجیدہ اور راست طریقہ اختیار کیا جانا چاہئے ۔
اب تیل کے بحران کا خدشہ
تیل فراہم کرنے والی کمپنیز کی جانب سے وزیرمملکت برائے توانائی کولکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رکھنے کیلئے تیل کمپنیز پر پانچ ارب روپے سے زائد بوجھ ڈال دیاگیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ تیل کی نقل و حمل کی لاگت دو سے تین روپے فی لیٹر کم کر دی گئی، نقل و حمل کادوارب85کروڑ روپے کا بوجھ کمپنیز پر ڈال دیا گیا ہے۔ اس معاملے پر فوری فیصلہ نہ کیا گیا تو تیل کی دستیابی چیلنج بن جائے گی۔ خیال رہے کہ15نومبر کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پرعوامی دبائواور مہنگائی کا سامنا ہوتا ہے جس کی حکومت اور عوام متحمل نہیں ہو سکتے مگر دوسری جانب اب محولہ حالات کے باعث ملک میں پٹرولیم مصنوعات کابحران سراٹھانے کا خدشہ ہے اس صورت میں بھی حکومت اور عوام ہی کودبائو اور مشکلات کاسامنا ہوگا پٹرولیم کمپنیاں بروقت ادائیگی اور پورا منافع لے کر ہی کاروبار کی عادی ہیں جاری صورت میں تعطل ہے جس کارد عمل تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کی صورت میں سامنے آسکتا ہے جو ظاہر ہے مشکل صورتحال کا باعث ہوسکتی ہے لہٰذا اس ضمن میں کوئی درمیانی راہ نکالنا ہی ہو گا عوام کو آئندہ پندرہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔
عدالتی بائیکاٹ کے اثرات
پشاور میں جائیداد تنازعہ پر سینئر وکیل پر قاتلانہ حملہ کے خلاف وکلاء نے دوسرے روز بھی عدالتوں میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ انصاف کا تقاضا نہیں وکلاء کے پیش نہ ہونے پر بیشترمقدمات پر پیش رفت متاثرہوئی اور سائلین کو نئی تاریخیں تھمائی گئیں جبکہ ضمانت کے منتظر قیدی مزید دن جیلوں میں پڑے رہیں گے۔سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ وکلاء اور موکلین کاایک نجی معاہدہ ہوتا ہے جس کی بلاوجہ وکلاء کی جانب سے خلاف وزری ہوتی ہے اور موکلین بری طرح متاثر ہوتے ہیں ساتھ ہی عدالتوں پربھی بوجھ میںاضافہ ہوتا ہے وکلاء کو احتجاج کاحق حاصل ہے لیکن اس کے لئے وہ موکلین اور عدالتوں کو تختہ مشق بنانے کی بجائے کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں تو بہتر ہو گا۔وکلاء کی جانب سے عدالتوں کے بائیکاٹ کا براہ راست متاثرہ فریق وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے وکلاء کو اپنے مقدمات کے لئے فیس کی رقم پیشگی ادا کی ہوتی ہے ۔ وکلاء برادری قانون اور انصاف کے عمل سے خود بخوبی واقف ہے اس لئے ان کو کوئی مشورہ دینا تو مناسب نہ ہوگا البتہ ان کی توجہ مبذول کرانا ضرور مطلوب ہے کہ ان کے بائیکاٹ کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مزید دیکھیں :   آلودگی اور بڑھتی ہوئی بیماریاں