بحرین بازارمیں دفعہ144ختم کرنے کیلئے ایک ہفتے کی ڈیڈلائن

ویب ڈیسک : تحصیل بحرین کے جرگہ نے اعلان کیا ہے کہ بحرین بازار میں سیلاب کے بعد آباد کاری پر اگر ایک ہفتے کے اندر اندر انتظامیہ دفعہ 144 ختم کرے بصورتِ دیگر ہم بحرین بازار کی دوبارہ بحالی شروع کرکے حکومت کے خلاف احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے ۔ جرگہ سے سابق صوبائی وزیر ملک محمد دیدار، ٹریڈرز فیڈریشن بحرین کے صدر خانزادہ، ہوٹلز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی معراج الدین، ملک جہانگیر، بشیر خان اور بخت نواز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب کے تین ماہ پورے ہونے کے بعد صوبائی حکومت بحالی کی بجائے متاثرین سیلاب کے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہے۔ وزیراعلیٰ محمود خان اور کمشنر ملاکنڈ سوات کے ہوتے ہوئے بھی عوام کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔
ہمارے ہوٹل آج سے پینتیس چالیس سال پہلے کے بنے ہوئے ہیں۔ٹی ایم او کل بحرین میں چارج سنبھالنے کے بعد ہمارے ہوٹلز کو کیسے غیر قانونی قرار دے سکتے ہیں۔ ہم اپنی جانیںدے دیںگے پر حکومت کے سامنے نہیں جھکیں گے ڈی سی سوات سے اپیل ہے کہ وہ بحرین آکر تمام حالات کا خود جائزہ لیں جو غیر قانونی تعمیرات ہیں۔
انکو بے شک مسمار کریں اور جو ہماری انتقالی اراضیات ہیں۔ انکو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔سیلاب میں تین سو سے زائد دکانیں اور چالیس کے قریب ہوٹلز متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے چھ سات سو لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں

مزید دیکھیں :   میٹروپولیٹن گورنمنٹ کاضلعی انتظامیہ کے بجلی بل بھرنے سے انکار