طالبان حکومت کی ذمہ داری

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے دفتر خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی سلامتی اور دہشت گردی کے حوالے سے فیصلوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ ہم چند معاملات میں غلط اور دیگر معاملات میں درست تھے لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہمیں دہشت گردی کے معاملے پر اپنے نقطہ نظر کا جائزہ لینا چاہیے وزیر خارجہ کی گفتگو موجودہ پاک افغان تعلقات کے تناظر میں اہم اور معنی خیز ہے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں نے ان دہشت گردوں کو بھاگنے پر مجبور کیا اور عوام سمجھتے ہیں کہ خطے میں کچھ دہشت گرد ایک بار پھر واپس آرہے ہیں جن کے خلاف عوام احتجاج کررہی ہے اور احتجاج کرنا ان کا حق ہے، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ہمیں اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ اب وقت آچکا ہے کہ ملکی سلامتی سے متعلق فیصلوں پر اندرونی معاملات کا جائزہ لیا جائے، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں امن، قانون کی حکمرانی اور ریاست کی رٹ کو یقینی بنائے، ہم ملک میں دہشت گردی کی واپسی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔امرواقع یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع خصوصا سابقہ قبائلی علاقے دہشت گردی سے شدید متاثر ہوئے تھے۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے فوجی آپریشنز ہوئے اور ایک طویل عرصے بعد امن قائم ہوا تاہم اب پھر سے ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جس سے صوبے کا امن متاثر ہورہا ہے ۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کے درجنوں واقعات پیش آئے جن میں سکیورٹی فورسز اور پولیس سمیت کئی شہری جاںبحق ہوئے۔مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے ساتھ مختلف شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ بھی کی گئی ہے۔جنوبی اضلاع میں حالات ایک بار پھر خراب ہوتے نظر آرہے ہیں۔ زیادہ تر واقعات کی ذمہ داری کالعدم ٹی ٹی پی نے قبول کی اور ان حملوں کو جوابی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت اب بھی افغانستان میں مقیم ہے جن کے خلاف کارروائی کی بجائے ان سے مصالحت پر زور دیا جارہا ہے۔پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری نے ان واقعات کی وجوہات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد بیشتر دہشت گرد جیل سے رہا کیے گئے اور اب امریکی فوجیوں سے رہ جانے والے ہتھیار دہشت گرد ہمارے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔امریکی فوجیوں کے انخلا کے ساتھ ہی دہشت گرد تنظیمیں مضبوط ہوگئی ہیں۔صورتحال کا تقاضاہے کہ طالبان کو چاہیے کہ وہ تمام سرحدی علاقوں میں مکمل کنٹرول حاصل کریں۔ دہشت گردی کا اثر ہمارے قبائلی اضلاع پر براہ راست پڑ رہا ہے۔ان تمام حقائق کوسامنے رکھنے سے یہ بات واضح طو رپرسامنے آتی ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت پاکستان میں امن و امان کی بہتری اور دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے خلاف توقع رہی فی الوقت چمن بارڈر پاکستان اور افغان حکومت کے درمیان باقاعدہ کشیدگی کی صورتحال ہے جب تک طالبان تک پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی مکمل روک تھام کی ذمہ داری نہیں نبھائیں گے نہ ہی اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی توقع ہے اور نہ ہی سرحدی کشیدگی کے باعث دونوںملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کی توقع ہے ۔طالبان حکومت کو اس ضمن میں اپنی ناکامیوں کی وجوہات پرغور کرنے اور اپنی ذمہ داری اور بین الاقوامی طورپرکئے گئے وعدے کی پاسداری میں سنجیدہ طرز عمل اختیار کرنا چاہئے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میںکشیدگی میں کمی آئے۔
مہنگائی میں مسلسل اضافہ
وفاقی ادارہ شماریات نے ہفتہ وار مہنگائی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مہنگائی میں0.62فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر ملک میں مہنگائی کی شرح 28.67فیصد ہوگئی۔ ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے23اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور13اشیاء کے نرخوں میں کمی آئی۔مہنگائی کا جن بدستور بے قابو ہے اس کوقابو میںلانے کے حکومتی دعوے بھی درست ثابت نہ ہوئے جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ حکومتی دعوے سیاسی اورکھوکھلے تھے بغیر کسی ٹھوس منصوبہ بندی کے محض اندازوں کی بنیاد پرکئے گئے دعوے کبھی پورے نہیںہو سکتے قبل ازیں مہنگائی کی بڑی وجہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیںاضافے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی ناقدری بتائی جاتی رہی ہے کافی عرصے سے یہ دونوں عوامل مستحکم چلے آرہے ہیں یا پھرتھوڑی سی ردوبدل ہوتی ہے بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئی ہے جس کافائدہ پاکستانی صارفین کوپھربھی نہیں دیاگیا اورالٹا پٹرولیم کمپنیوں کے خسارے اور نقصان کا ڈھونڈرا پیٹا جارہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مہنگائی میں کمی لانے کے لئے عملی اقدامات کرکے اورعوام کوطفل تسلیاں دینے سے باز رہاجائے ۔
احسن قدم
صوبائی حکومت کی جانب سے میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے امتحانی پرچوں کی مارکنگ اور معیار کے جائزہ کیلئے تمام تعلیمی بورڈز کے ٹاپ ٹونٹی پوزیشن ہولڈر طلبہ کے پرچے چیک کرنے کیلئے9رکنی کمیٹی قائم کرکے تسلی بخش اور احسن قدم اٹھایا ہے کمیٹی کو پرچوں کی مارکنگ کے طریقہ کار اور مجموعی معیار سے متعلق سفارشات کی تیاری کا ہدف بھی دیاگیا ہے اور یہ تمام کارروائی ایک مہینے میں کی جائے گیحکومت کا یہ احسن قدم ہے تاکہ نتائج کے حوالے سے اور غیر حقیقی نمبر حاصل کرنے بارے شکوک وشبہات کا ازالہ ہو اور آئندہ کے لئے بھی کوئی احسن لائحہ عمل تیار کیاج ائے جس پرعمل پیرا ہوکر حقیقی مارکنگ کی جائے اور شکوک و شبہات کی نوبت نہ آنے دی جائے اورامتحانی نتائج پر طلبہ اور والدین کا اعتماد بحال ہو۔

مزید دیکھیں :   عہد وسطیٰ کی یورپی جامعات