مفتی رفیع عثمانی انتقال

مفتی رفیع عثمانی کے انتقال پرپاکستانیوں کی بے حسی تاریخ کاحصہ

ویب ڈیسک : ان کا خلا پر نہیں ہوگا یا ایسی نابغہ روزگار شخصیت جنم نہیں لے گی جیسے جذباتی بیانا ت داغ کر ہم کسی اور کو بیوقوف بنا سکتے ہیں خود کو نہیں۔ کسی کا خلا قدرت خالی نہیں چھوڑتی اور نابغہ روزگار شخصیات کا جنم بھی قدرت کی منشا کے مطابق ہوتا رہتا ہے تاہم گزشتہ روز مفتی رفیع عثمانی کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی ہم پاکستانیوں نے جس بے حسی بلکہ شرمناک رویے کا مظاہرہ کیا یہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اور ہم لاکھ چاہتے ہوئے بھی اس داغ کو مٹا نہیں سکتے ۔
دوسری طر ف یہ بات بھی ظاہر ہو گئی کہ ہم اپنی علمی شخصیات کا بظاہر جو احترام کرتے ہیں وہ صرف ڈھکوسلا ہے ،سوشل میڈیا کی تمام سائٹس ٹویٹر،فیس بک ،انسٹاگرام وغیرہ پر مفتی رفیع عثمانی کی رحلت جیسا بڑا واقعہ دو چارہزار افراد کے ٹرینڈ کا باعث بھی نہ بن سکا بجائے اس کے ہم نے دن بھر جھوٹ اور پروپیگنڈے پر مبنی ٹرینڈ ز کی ہی بھرما ردیکھی جو ہمارا اب معمول بن چکا ہے ۔اگرچہ اس ملک کے اہم رہنمائوں اور چند ایک سماجی وصحافتی حلقوں کی جانب سے ان کے انتقال پر رسمی بیانات جاری کئے گئے تاہم عوامی سطح پر سوشل میڈیانے ان کے انتقال کی خبر کو اتنی اہمیت بھی نہیں دی جتنی اسی دن فوت ہونے والے ایک تھیٹرکے اداکار کو دی گئی-
جن کی وفات کے بعد دن بھر ان کے نام کا ٹرینڈ جاری رہا ۔اس کے ساتھ ہی پاکستانیوں کی اکثریت یا تو اس لاحاصل بحث پر سر کھپاتی رہی کہ تھپڑکس کو پڑا اورآرمی چیف کون بن رہاہے ؟مفتی محمد شفیع عثمانی کے اس فرزند اکبر کا نام محمد رفیع مولانا اشرف علی تھانوی جیسی علم پرور شخصیت نے تجویز کیا تھا ،اپنی 88 سالہ زندگی میںان کی دینی خدمات کا احاطہ کرنا بھی مشکل ہے تاہم جب وہ وفات پا گئے تو ہم میںسے اکثر اس خبر کو لاتعلقی سے سن کر جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے پر لگ گئے یہ لاتعلقی ہی ایسا شرمناک باب ہے جو ہم رقم کر چکے اور اسے اب مٹایا نہیں جا سکتا ،خلا بھی پورا ہو جاتا ہے اور نابغہ روزگار شخصیات کا جنم بھی خدا کی قدرت ازل سے کرتی آئی اور ابد تک یہ سنت جاری رہے گی۔

مزید دیکھیں :   پاکستانی فلم آسمان بولے گا کا آفیشل پوسٹر جاری کر دی گئی