ماں کے نافرمان کی بری موت

ماں کے نافرمان کی بری موت

ڈاکٹر نور احمد صاحب اپنے رسالہ ”قبر کی زندگی” میں لکھتے ہیں….
میرے وارڈ میں ایک نوجوان گردے فیل ہو جانے کی وجہ سے مرا، تین دن نزع کی حالت میں رہا….
اتنی بری موت کہ ایسی موت میں نے پچھلے٤٠ سال کے عرصے میں نہیں دیکھی۔ اس کا منہ نیلا ہو جاتا تھا۔ آنکھیں نکل آتی تھیں اور منہ سے درد ناک آوازیں نکلتی تھیں، جیسے کوئی اس کا گلا دبا رہا ہو۔
مرنے سے ایک دن قبل یہ کیفیت زیادہ ہو گئی، آواز اور زیادہ تیز ہو گئی اور وارڈ سے دوسرے مریض بھاگنے شروع ہو گئے، چنانچہ اس کو وارڈ سے دور ایک کمرے میں منتقل کر دیا گیا تاکہ آواز کم ہو جائے، مگر پھر بھی یہ حالت جاری رہی اس کا والد مجھے یہ کہنے کیلئے آیا کہ اس کو زہر کا ٹیکہ لگا دیں تاکہ مر جائے ہم سے ایسی حالت دیکھی نہیں جاتی۔
میں نے اس کے والد صاحب سے پوچھا کہ اس نے کیا خاص غلطی کی ہے؟
اس کا والد فوراً بول اٹھا کہ یہ شخص اپنی بیوی کو خوش کرنے کیلئے ماں کو مارا کرتا تھا اور میں اس کو بہت روکا کرتا تھا یہ بری موت اس کا نتیجہ ہے۔ (313انمول واقعات)

مزید دیکھیں :   سوات میں دوہرے قتل کی واردات