ٹیکسٹ بک بورڈ

فنڈزنہ ملنے سے ٹیکسٹ بک بورڈکومالی بحران کاسامنا

ویب ڈیسک :خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کیلئے فنڈز جاری کرنے کی درخواست پر محکمہ خزانہ نے دوبارہ یقین دہانی کرادی ہے تاہم پیسے جاری نہیں کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے بورڈ کے پاس اگلے سال کی کتب کی طباعت کیلئے فنڈز موجود نہیں اور صرف زبانی کلامی یقین دہانیوں پر پرنٹرز کے ساتھ معاہدے کئے جارہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے کئی سالوں سے مفت درسی کتب کی مد میں اخراجات ٹیکسٹ بک بورڈ کو ادا نہیں کئے ہیں
جس کی وجہ سے پچھلے سال بھی فنڈز کی عدم ادائیگی کے نتیجے میں درسی کتب کی پرنٹنگ میں تاخیر ہوئی تھی جبکہ رواں سال بھی صورتحال واضح نہیں ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں درخواست کے بعد رواں برس جون میں ٹیکسٹ بک بورڈ کو فنڈزجاری کرنے کیلئے محکمہ خزانہ کی جانب سے ایک تحریری مراسلہ کے ذریعے یقین دہانی کرائی گئی لیکن ان احکامات کے بعد ایک روپیہ بھی بورڈ کو اخراجات کی مدمیں نہیں دیا گیا ذرائع کے مطابق ٹیکسٹ بک بورڈ نے اپنے فنڈزاور دیگر شعبہ جات کیلئے مختص فنڈز کو استعمال میں لاتے ہوئے پرنٹرز کو ادائیگی کی
جس کی وجہ سے اب ٹیکسٹ بورڈ کے پاس اگلے تعلیمی سال کی درسی کتب کی طباعت کیلئے پیسے نہیں ہیں حکومت نے فنڈز کی ادائیگی کیلئے درخواست پر دوبارہ سے پیسے جاری کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے تاہم ٹیکسٹ بک بورڈ کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ محکمہ خزانہ کی جانب سے بھیجے گئے مراسلہ کی روشنی میں پرنٹرز کو سپلائی آر ڈر دے دئیے گئے ہیں اور جلد فنڈز جاری ہوجائیں گے دوسری صورت میں فنڈز کی عدم موجودگی کی وجہ سے ٹیکسٹ بک بورڈ کے مالی معاملات حکام کیلئے چلانا مشکل ہوجائے گا۔

مزید دیکھیں :   پشاور میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، خاتون سکول ٹیچر قتل