عمران خان کی فول پروف سکیورٹی کا معاملہ

پی ڈی ایم اور اتحادیوں کی حکومت کے خلاف تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست زوروشور سے جاری ہے البتہ گزشتہ شام روات کے مقام پر تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے حقیقی آزادی مارچ کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان 26 نومبر کو راولپنڈی میں منعقد ہونے والے جلسے میں تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کریں گے ، پچھلے سات ماہ سے طرفین الزامات اور جوابی الزامات لگائے تماشے میں سیاسی اقدار، سماجی روایات اور جمہوری سیاست کو روندتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے حامیوں کو 26نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے گزشتہ شب ایک ٹی وی انٹرویو میں انکشاف کیا کہ دشمن ممالک کی ایجنسیوں سے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے ان کا کہناہے کہ سازشی عناصر آئی ایس آئی، وزیراعظم اور مجھ پر الزام لگانا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ دعوی درست ہے تو وفاقی حکومت کسی تاخیر کے بغیر سابق وزیراعظم کی فول پروف سکیورٹی کا انتظام کرے۔ ایسا کیا جانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ گزشتہ سے پیوستہ روز عمران خان نے بھی خود کو دوبارہ ٹارگٹ کئے جانے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ وزیر داخلہ کے اس انکشاف کی حقیقت جاننے اور سازش سے نمٹنے کے لئے بھی پاکستانی ایجنسیوں کے تجربہ کار افسروں پر مشتمل ٹیم تشکیل دی جائے۔ یہ تحقیقاتی ٹیم مختلف پہلوئوں کو سامنے رکھ کر اپنا کام کرے اور دستیاب شواہد کی روشنی میں ان ممالک کو اقوام عالم کے ادارے اقوام متحدہ کے کٹہرے میں لے جایا جائے جو پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم اور ایک بڑے طبقے کے رہنما کو نشانہ بناکر ایسی ابتری پیدا کرنا چاہتے ہیں جس سے قومی سلامتی و وحدت اور سیاسی عمل لہو لہو ہوں۔ پی ٹی آئی کی مخالف سیاسی قوتیں یا حکمران اتحاد ہر دو کو یہ امر بہرطور مدنظر رکھنا ہوگاکہ عمران خان اس وقت رائے عامہ کے ایک بڑے طبقے کے رہنما ہیں خاکم بدہن کوئی بیرونی سازش کامیاب ہوئی تو اس سے ایسے مسائل جنم لیں گے جنہیں سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔ گزشتہ چھ سات ماہ سے انہوں نے اپنی سیاست کا جو بیانیہ بنایا اور ان کے حامیوں نے اسے جس طرح قبول کیا اس کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وفاقی حکومت اپنے اختلافات کوبالائے طاق رکھتے ہوئے ایسی حکمت عملی وضع کرے جس سے دشمن قوتوں کو منہ توڑ جواب دینے کے ساتھ ساتھ داخلی سیاست کو بھی کسی بحران یا تنازع سے محفوظ رکھا جاسکے۔
اس پر دو آرا نہیں کہ عمران خان کی جماعت اس وقت فیڈریشن کے دو صوبوں اور فیڈریشن سے منسلک دو اکائیوں میں حکومت میں ہے ان کے سیاسی مخالفین ایک اتحاد کی صورت میں وفاق میں برسراقتدار ہیں۔ فی الوقت وہ تنہا اپوزیشن لیڈر ہیں۔ اس طور نہ صرف ان کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے بلکہ اسے اس امر کو بھی یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی بیرونی قوت اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہونے پائے۔ عمران خان اگر اپنی حفاظت کے حوالے سے وفاقی حکومت اور وفاق کے ماتحت اداروں کو کوئی کردار نہیں دینا چاہتے تو یہ ان کی غلطی قرار پائے گا۔ اصولی طور پر انہیں پنجاب حکومت کے توسط سے وفاق سے فول پروف سکیورٹی پلان کے لئے بات کرنی چاہیے۔ اس کے لئے انہیں سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھنا ہوں گے۔ ان کی رضامندی سے ہی وفاقی حکومت اور پنجاب و خیبر پختونخوا کی حکومتیں مل بیٹھ کر کوئی مربوط حفاظتی پلان وضع کرسکتی ہیں۔ بہرصورت اگر عمران خان اس کے لئے آمادہ نہ بھی ہوں تو وفاقی حکومت کو براہ راست پنجاب اور خیبر پختونوا کی حکومتوں سے اس حوالے سے مشاورت کا آغاز کرنا چاہیے اور اس میں مزید تاخیر اس لئے نہیں ہونی چاہیے کہ اگلے چند دنوں میں عمران خان اپنے اعلان کے مطابق راولپنڈی میں اپنی جماعت کے لانگ مارچ میں شرکت اور خطاب کے لئے جائیں گے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی نے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو فیض آباد چوک پر دھرنے کے لئے درخواست دی ہے گو اس صورت میں تمام تر حفاظتی و قانونی ذمہ داری پنجاب حکومت پر ہوگی لیکن پنجاب حکومت کی صلاحیت کا مظاہرہ پاکستانی عوام وزیرآباد میں دیکھ چکے۔ قاتلانہ حملہ کی پیشگی اطلاع(وزیراعلی، عمران خان اور پی ٹی آئی رہنمائوں کے دعویٰ کے مطابق )کے باوجود لانگ مارچ اور بالخصوص عمران خان کے کنٹینر کی حفاظت کے لئے تسلی بخش انتظامات نہیں کئے جاسکے۔ افسوس کہ اس قاتلانہ حملہ کے بعد الزامات کی طومار تو ہوئی مگر کسی نے اس ضمن میں پنجاب حکومت اور اس کے ماتحت محکموں کی کھلی نااہلی پر سوال نہیں اٹھایا حالانکہ یہ بہت ضروری تھا کیونکہ دعویٰ یہ کیا جارہا تھا کہ حملے سے ایک دن قبل اس کی اطلاع مل چکی تھی۔ بدقسمتی سے اس واقعہ کے حوالے سے پنجاب حکومت نے جے آئی ٹی کی تشکیل کے وقت وفاقی حکومت کی درخواست اور مشورے کو نظرانداز کیا جبکہ ایسا نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ پنجاب حکومت کے اس طرزعمل کو غیرسنجیدہ قرار دیا گیا تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ صوبائی حکومت کی بنائی گئی جے آئی ٹی نے ابھی تک ان شخصیات کو بیان کے لئے نہیں بلایا جو یہ دعویٰ کرتی دکھائی دیں کہ عمران خان پر قاتلانہ حملہ کی انہیں پیشگی اطلاع مل گئی تھی۔ افسوس صد افسوس کہ پنجاب حکومت کی جے آئی ٹی نے اس معاملے کے ایک اہم پہلو پی ٹی آئی کے مقتول رکن اعظم گوندل کو لگنے والی گولی کے حوالے سے بھی نہ تو اپنی ابتدائی پیشرفت کو عوام کے سامنے رکھا اور نہ ہی قاتلانہ حملہ کے وقت عمران خان کے کنٹینر پر موجود سرکاری اہلکاروں اور نجی محافظوں کے پاس موجود اسلحہ کی تفصیلات کو تفتیش کا حصہ بنایا۔ ہم مکرر اس امر کی جانب توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ عمران خان پر وزیرآباد میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے حوالے سے عمران خان کے موقف اور الزام کی وجہ سے ایک کشیدگی بہرطور موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے موثر اقدامات کئے جائیں جن سے اولا تو اس کشیدگی میں اضافہ نہ ہو اور ثانیا عمران خان کی حفاظت کا ایسا نظام وضع ہو جس سے سازشی عناصر کو منہ کی کھانا پڑے۔ امید ہے کہ ارباب حکومت ان معروضات پر توجہ دیں گے۔

مزید دیکھیں :   دہشت گردی کے خاتمے کا عزم