بہترین تعلیم بہتر قوم سازی کی ضامن ہے

سب سے پہلے تو میں یہ کہوں گا کہ تعلیم اچھی یا بری، بہتر یا کم تر نہیں ہوتی۔ تعلیم فقط تعلیم ہوتی ہے یا جہاں تعلیم نہ ہو وہاں جہالت ہوتی ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کسی ایک فرد کا تعلیم حاصل کر نا، اس شخص، اس معاشرے اوراس سماج کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ تعلیم آپ کو فہم دیتی ہے، شعور دیتی ہے، قوم بننے کا جذبہ دیتی ہے۔ تعلیم یافتہ شخص ایک اچھا انسان اور ایک اچھا شہری ہوتا ہے۔ تعلیم اس کے کمانے میں مدد گار ہوتی ہے، اس کے لئے ترقی کے موقع بہتر ہوتے ہیں۔ تعلیم اسے اچھائی اور برائی، جائز اور ناجائز کا فرق بتاتی ہے۔ شعوری طور پر تعلیم یافتہ شخص انسانی حقوق کا علمبردار ہوتاہے۔
کتابیں ہمیں معلومات دیتی ہیں۔ ان معلومات کو عملی سانچے میں ڈھالنا علم ہے۔ علم ہمیشہ عمل سے عطا ہوتا ہے۔ میں جب ایسے لوگوں کی باتیں سنتا ہوں جو خود کوماہر تعلیم کہتے ہیں کہ تعلیم تو ہے تربیت نہیں۔ تو ان سے عرض ہے کہ تربیت تو تعلیم کا لازمی جزو ہے، جہاں تربیت نہیں وہ تعلیم نہیں۔ پچھلے75 سال سے ہم قوم سے مسلسل یہی دھوکہ کر رہے ہیں۔ سائنس دنیا کے بارے معلومات کا نام ہے۔ اس پر غور وفکر تحقیق کہلاتا ہے۔ اس کا فنی علم ٹیکنالوجی کہلاتا ہے۔ ہم سائنس کی معلومات تو خوب اکٹھی کر لیتے ہیں۔ بظاہر نہ سمجھ آنے والی تحقیق بھی دکھا دیتے ہیں اور اسی پر نازاں ہوتے ہیں کہ ہم بہت صاحب علم ہیں۔ لیکن فنی نقطہ نگاہ سے اس پر کچھ پیشرفت نہ تو کرتے ہیں اور نہ ہی کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکنالوجی میں ہم بانجھ ہیں۔ دنیا سائنس کی معلومات، اس کے فنی علم اور ریسرچ کے نتیجے میں روز نت نئی چیز تخلیق کرتی ہے اور ان ایجادات سے ہمارے سمیت پوری دنیا فائدہ اٹھاتی ہے۔ ان ایجادات پر مزید کام اور تحقیق کرنے سے کئی نئی اور اچھوتی چیزیں ہر روز منظر عام پر آتی ہیں۔ جن ملکوں میں یہ سب ہو رہا ہے وہ آج ہم سے بہت آگے ہیں۔ہمیں اگر دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو کتابی معلومات اور بے معنی ریسرچ سے آگے بڑھ کر ایجادات اور جدت پر کام کرنا ہو گا۔ جعلی اور گریڈ سوار تحقیق بے معنی اور فضول ہے جس کا ملک کو کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں جاننا اور سمجھنا چائیے کہ صرف اور صرف تعلیم ہی ہماری قوم سازی کی ضامن ہے۔
یہ چند باتیں میں نے ایوان قائداعظم میں کونسل آف نیشنل افیئرز کے زیر اہتمام ہونے والی ایک فکری نشست میں کہیں۔ مگر یہ سب باتیں حقیقت پر مبنی تھیں۔ہماری ریسرچ کا المیہ یہ ہے کہ یہ انڈسڑی سے ملحق نہیں۔ جب کہ باقی پوری دنیا ریسرچ کو انڈسٹری سے مربوط کر دیتی ہے۔ یونیورسٹیوں کا انڈسٹری سے الحاق ہوتا ہے، انڈسٹری یونیورسٹی کے ریسرچ سکالرز کے لئے ریسرچ کی لیبارٹری ہوتی ہے۔ وہاں ریسرچ سکالر بے معنی کاغذی ریسرچ نہیں کرتے بلکہ ساری ریسرچ کو عمل سے مربوط کرتے ہیں۔اس سے نئی نئی چیزیں وجود میں آتی ہیں۔ ایجادات ہوتی ہیں۔ ریسرچ سکالر اپنی سوچ کے عملی نتائج حاصل کرتے ہیں۔انڈسٹری آپ کو تحقیق کے بے پناہ مواقع مہیا کرتی ہے۔
ہم تعلیم کے ساتھ قومی لیول پر جو کر رہے ہیں، اس کا علم ہماری حکومتوں کو بھی پوری طرح ہے۔ ہم نے انٹری ٹیسٹ متعارف کرایا، اس لئے کہ نقل کی بدولت لوگ جس انداز میں نمبر حاصل کر رہے تھے وہ الارمنگ تھا۔ ہم نے نقل کے آگے تو ہتھیار ڈال دئیے، نقل کرنے والے نقل کرتے رہے اس لئے کہ ان میں بہت سے بچے با اثر لوگوں کی اولاد تھے جنہیں روکنا ممکن نہیں تھا۔ مگر اس نتیجے کو قبول کرنے کی بجائے اس کی مزاحمت میں ہم ا نٹری ٹیسٹ لے آئے۔ دوسری طرف ہماری یونیورسٹیوں نے پی ایچ ڈی کی ہیچریاں لگائی ہوئی ہیں۔ اس لئے کہ دنیا کی یونیورسٹیاں اپنی نمود کے لئے پی ایچ ڈی سکالرز اور ان کی موجود تعداد کا سہارا لیتی ہیں۔ ان کی نقل میں ہماری یونیورسٹیوں نے پی ایچ ڈی کی اساس پر بہت سے لوگوں کو پروفیسری دے دی ہے، ان کی علمیت یا تجربہ دیکھے بغیرکہ یونیورسٹیاں تو مقابلے پر نظر آئیں، بغیر یہ دیکھے کہ کسی کی ڈگری اصلی ہے، جعلی ہے یا جعلسازی سے ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ بہت سے معاملات میں ہمیں اپنے ان نئے سکالرز پر اعتبار نہیں۔ ہم وائس چانسلر کے انٹرویو میں لوکل پی ایچ ڈی حضرات کو بلاتے ہی نہیں حالانکہ بہت سے قابل اورحقیقی محقق لوگ موجود ہیں، جن کی سوچ اور جن کا فہم ان کی قابلیت کا پتہ دیتا ہے۔لیکن جعلسازوں کی موجودگی میں وہ بیچارے بھی استحصال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ عملی طور پر یہ نظام مکمل ناکام ہو چکا ہے۔ تعلیم کی ابتدا پرائمری لیول سے ہونی چائیے، ہم ہائر ایجوکیشن پر فن کارانہ توجہ دیتے ہیں۔پرائمری تعلیم مکمل نظر انداز کی ہوئی ہے۔ فنڈز کا زیادہ استعمال ہائر ایجوکیشن پر ضائع کیا جا رہا ہے۔ اس ملک میں تعلیم کے معاملے میں ایک مکمل اوور ہال کی ضرورت ہے۔ شاید کبھی حکومت میں ایسے سوچ اور فہم رکھنے والے لوگ آ جائیں۔ تو ہم اپنے بچوں کو صحیح معنوں میں تعلیم سے روشناش کر سکیں۔

مزید دیکھیں :   پختونخوا میں عمران خان کی مقبولیت