پائیدار ترقی، خواتین کافعال کردار ناگزیر

ہم نے پرامیدی کے ساتھ 21 ویں صدی کا خیر مقدم کیا، ہم نئی صدی میں ہزار سالہ (ملینیم) ترقیاتی اہداف کی اس بنیاد پر داخل ہوئے کہ زیادہ سے زیادہ خوشحالی کے ساتھ آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی کریں لیکن ہزار سال کی پہلی دہائی میں ہی ہمیں قدرتی آفات، دہشت گرد حملوں، شدید اقتصادی اور مالیاتی بحرانوں اور بین الاقوامی تنازعات سے لے کرکئی طرح کے سنگین نوعیت کے عالمی واقعات کا سامنا کرنا پڑا، ہم نے خود کو انتہائی بے یقینی اور افراتفری کے دور میں پایا، اس صورت حال سے خاص طور پر خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔
دراصل ہم بڑے پیمانے پر ایک لاتعلقی کی دنیا میں ہیں، جہاں خواتین کو معاشرے میں گھرانوں، کارپوریٹ سکیٹر، منتخب ایوانوں اور حکومتوں سمیت ہر سطح پر کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، دیکھا جائے تو پاکستان کی معاشی ترقی کی پالیسیوں پر عمل درآمد میں خواتین کی شمولیت اشد ضروری ہے کیونکہ وہ ہماری وضع کردہ پالیسیوں یا جن مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں،وہ ان سے براہ راست متاثر ہوتی ہیں، چنانچہ ہمیں اپنے اقدامات میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شمولیت یقینی بنانے کیلئے اپنی کوششوں کو مربوط بنانا چاہیے اور انہیں زیادہ سے زیادہ مفید اور تعمیری بنانے کی ضرورت ہے، ہمیں تمام شعبوں کے لیڈرز پر زور دینا ہوگا کہ وہ خواتین کے حقوق کی پاسداری کرائیں، چاہے وہ صحت کی دیکھ بھال میں فیصلہ سازی ہو، قومی سطح پر پالیسی سازی ہو، گھرانوں کے مالی معاملات ہوں، لڑکیوں کی تعلیم ہو، یا سماجی اور اقتصادی شراکت کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہو، خواتین کی شمولیت یقینی بنائی جائے۔
عالمی تنازعات، موسمیاتی بحران اور وبائی امراض واضح طور پر ہمیں یہ ذہن نشین کروا رہے ہیں کہ ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں خواتین کا حصہ لینا کتنا ضروری ہے؟ان تمام خطرات نے خواتین اور لڑکیوں کو متاثر کیا، خاص طور پر وہ طبقات متاثر ہو رہے ہیں جو پہلے ہی پسماندہ ہیں، یہ صورت حال صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا، پوری دنیا میں یہی حالات چل رہے ہیں، روس اور یوکرین کے درمیان جنگ اور اس کے غذائی تحفظ، توانائی بحران، مہنگائی ، ذرائع معاش اور جسمانی اور ذہنی صحت کی دیکھ بھال پر اس کے تباہ کن اثرات تقریباً بے قابو دکھائی دے رہے ہیں، اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں تقریباً دو کروڑ 30 لاکھ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، اس کا براہ راست اثر خواتین کی اپنے بنیادی حقوق کو حاصل کرنے اور خوشحالی میں حصہ ڈالنے کی صلاحیت پر پڑتا ہے۔ اس مشکل وقت میں سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ فیصلوں اور عملدرآمد میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان زیادہ ممکنہ فوائد کو حاصل کیا جا سکے جو ابھی تک حاصل نہیں ہوئے ہیں۔
2020 ء میں میڈیکل ٹیکنالوجی کمپنی”ہولوجک” نے گیلپ کے اشتراک سے ایک عالمی سروے کا آغاز کیا تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ وبائی امراض کے نتیجے میں خواتین کس طرح غیر متناسب طور پر متاثر ہوئیں، ممالک کو پانچ کیٹیگیریز میں خواتین سے متعلق سوالات کے جوابات کی بنیاد پر پرکھا گیا جن میں عمومی صحت، احتیاطی نگہداشت، ذہنی صحت، حفاظت اور خوراک اور پناہ گاہ جیسی بنیادی ضروریات شامل تھے،2021 ء میں عالمی خواتین کے ہیلتھ انڈیکس کا مجموعی سکور 100 میں سے صرف 53 تھا، جو 2020 کے مقابلے میں ایک پوائنٹ کم ہے۔ 2021 میں کسی بھی ملک نے70 پوائنٹس سے زیادہ سکور نہیں کیا، خواتین کے ہیلتھ انڈیکس میں بہتری میں تائیوان، لٹویا، آسٹریا اور ڈنمارک سرفہرست ہیں، علاوہ ازیں 2021ء میں پاکستان 181ممالک میں صنفی ترقی کے انڈیکس میں 178 ویں نمبر پر رہا، حالانکہ پاکستان ایجنڈا 2030، خواتین کے خلاف ہر طرح کے امتیاز کے خاتمے کے بارے میں اقوام متحدہ کے کنونشن (1966) اور بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن (1995) پر دستخط کنندہ ہے، لیکن پھر بھی یہ 55.6 فیصد صنفی تفریق کے ساتھ کم سے کم صنفی مساوات کا حامل ممالک میں شامل ہے۔
صنفی تفریق کو ختم کرنا زیادہ پیچیدہ ہے، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خواتین کی زیادہ تعداد کو ملازمت دینا اس کا حل ہے تو ایسا نہیں ہے، خواتین پاکستان کی نصف آبادی پر مشتمل ہیں لیکن ان میں سے کتنی خواتین فائدہ مند ثابت ہوئی ہیں، کیا ہم نے ان کی تعلیم پر سرمایہ کاری کی ہے، کیا ہم نے انہیں سماجی تحفظ دیا ہے، کیا ہم نے انہیں کیریئر کے انتخاب کے لیے فیصلہ سازی کا اختیار دیا، کیا ان کے پاس جائیداد، اثاثوں اور دیگر وسائل کے حقوق ہیں،کیا ہم نے ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں، کیا خاندان کے مرد حضرات خواتین کو مالی طور پر مضبوط ہونے کی ترغیب دیتے ہیں،کیا ہم نے انہیں سماجی تحفظ فراہم کیا ہے، کیا ان کی زچگی کی صحت اچھی ہے، کیا خواتین صنفی ترقی کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دیتی ہیں؟ دراصل یہ باہم منسلک اور حل طلب پہلو ان ڈھانچہ جاتی یا ساختی رکاوٹوں کا باعث بنتے ہیں جو پائیدار ترقی کے عمل میں پیشرفت کو روکتی ہیں، چنانچہ کھوکھلے نعروں اور مظاہروں کی بجائے ہمیں ایسا ماحول یقینی بنانے کی ضرورت ہے جس میں خواتین کے شمولیتی کردار، انہیں بااختیار بنانے اور ہماری برادریوں میں تعاون و روابط کو فروغ ملے۔
(بشکریہ، دی نیوز، ترجمہ: راشد عباسی)

مزید دیکھیں :   معیشت اور سیاست