سنگ میل خاموشی

مولانا فضل الرحمن سے یہ توقع تو نہیں کی جاسکتی کہ خدانخواستہ انہیں ناپ تول کا کچھ پتہ نہیں ‘ ماشاء اللہ وہ نہایت زیرک اور سمجھدار انسان ہیں مگر انہوں نے جن لوگوں سے یہ توقع لگائی ہے کہ وہ ان کے تازہ بیان کا مطلب سمجھنے میں دقت محسوس نہیں کریں گے تو اس حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار ضرور کیا جا سکتا ہے ‘ اب زیادہ سوچنے یا مفت میں الجھنے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے بہتر ہے کہ بات واضح کرکے پیش کر دی جائے ‘ گزشتہ روزمولانا صاحب کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس پر اخبارات نے جو سرخی جمائی اس نے نہ صرف سوچ کے درواکئے بلکہ نسل نو کے حوالے سے بھی کچھ سوال ابھارے ہیں ۔ شکار پورمیں ایک جلسہ عام سے خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ”عمران لانگ مارچ نہیں ‘ فرلانگ مارچ کر رہے ہیں” ویسے تو مولانا صاحب موصوف نے لانگ اور فرلانگ کے درمیان”وزن” کوقدر مشترک کے طور پراستعمال کیا ‘ جیسا کہ شعرائے کرام غزل میں ہم رنگ قافیے استعمال کرتے ہیں ‘ یوں لانگ اور فرلانگ جیسے قوافی سے انہوں ے ایک خاص رنگ جمانے کی کوشش ضرور کی ہے مگر نئی نسل کو اب کون سمجھائے گا کہ ”فرلانگ” کس چڑیا کا نام ہے ۔ تو ہم محولہ بیان کے سیاسی پہلو کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس میں استعمال شدہ لفظ فرلانگ کی وضاحت پر مجبور ہو رہے ہیں۔ دراصل دنیا میں میٹرک سسٹم کے آنے سے پہلے جو نظام رائج تھا اس میں کلو کی جگہ سیر اور اسی طرح انچ’ فٹ اور گز ہوتے تھے جنہیں ہم آج میٹرک سسٹم کے حوالے سے ملی میٹر ‘سنٹی میٹر ‘ میٹر وغیرہ سے جانتے ہیں تو یہ جو مولانا صاحب نے فرلانگ کا حوالہ دیا ہے اس کو آج کی نسل نہیں جانتی نہ ہی میل کے بارے میں زیادہ معلومات اسے حاصل ہیں ‘ اور صورتحال جب یہ ہو تو یہ جوسنگ میل کا لفظ اکثر تحریروں میں موجود ہوہے اس حوالے سے انہیں کیا پتہ چلتا ہو گا ‘ ویسے تو لغوی طور پرسنگ میل اس پتھر کو کہتے ہیں جو سڑک کنارے 8فرلانگ یا 1760گز کے بعد اسیتادہ کیا جاتا تھا جس پر کسی بھی قریبی شہر کی دوری کے حوالے سے فاصلہ لکھ دیا جاتا تھا( یہ کام آج کل کلو میٹر سے لیا جاتا ہے ) یعنی فرض کریں پشاور سے جی ٹی روڈ کے ذریعے آپ راولپنڈی اسلام آباد جا رہے ہیں تو ہر کلو میٹر کے بعد سڑک پرایستادہ پتھر کے اوپر رہ جانے والا فاصلہ تحریر ہوتا ہے ‘ موٹروے پراس کے برعکس ہر کلو میٹر پر تو یہ عبارت نہیں ملتی نہ وہ سنگ کلو میٹر نظرآتے ہیں البتہ راستے میں آنے والے علاقوں سے پانچ کلو میٹر وغیرہ سے پہلے نیلے رنگ کے بورڈ کی مدد سے اس شہر کی انٹرچینج کی نشاندہی کی جاتی ہے ‘ بہرحال جب تک میٹرک سسٹم کا اجراء نہیں ہوا تھا فاصلوں کے لئے یہ کام سنگ فرلانگ (چھوٹے سائز کے پتھر) اور ہر آٹھ فرلانگ کے بعدمیل کا ستون(سنگ میل) کااستعمال کیا جاتا ‘ چونکہ سنگ میل فاصلے کی ایک قطیعت کی نشانی ہوتی تھی اس لئے اس سے معاشرتی حوالوں سے بھی اس لفظ کا استعمال شروع ہو گیا اور کسی بھی شخصیت ‘ واقعہ یا بات ‘ قول کے حوالے سے کہا جاتا کہ یہ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ‘ گویا اپنا جواب آپ ہے ۔ اس کے بعد یہ میل اور فرلانگ کب رائج ہوئے قیاس یہی کیا جا سکتا ہے کہ برصغیرمیں انگریزوں کے اقتدارسنبھالنے کے بعد انہوں نے مغرب میںرائج اس نظام کو یہاں بھی لاگو کیا ‘ ایک فٹ میں بارہ انچ جبکہ ایک گزمیں تین فٹ ‘ اور یہاں انچ کے حوالے سے گرہ کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا تھا یعنی 16 گرہ کا ایک گز ‘ اب گز کی جگہ میٹر استعمال کیا جاتا ہے جوپیمانے کے حساب سے 0.9144 گز کے برابر ہوتا ہے ‘ اسی طرح ایک میل ایک اعشاریہ 6093 کلو میٹر کے برابر ہے ‘ سنگ میل کے حوالے سے ہمارا اپنا ہی ایک شعر جوچھوٹی بحر کی غزل میں شامل ہے ‘ ملاحظہ کریں
ہرقدم پہ سناٹا
سنگ میل خاموشی
ناپنے کے ان پیمانوں کے ساتھ ساتھ پرانے دور میں آج کے اعشاری نظام کے برعکس تول کے جوپیمانے رائج تھے ان میں تولہ ‘ ماشہ ‘ رتی ‘ چھٹانگ ‘ پائو ‘ سیر ‘ من وغیرہ ہوتے تھے ‘ اوراس حوالے سے جیسا کہ سنگ میل کے لفظ کی اپنی ایک اہمیت ہے اسی طرح اردو زبان میں ایک ضرب المثل ”رتی برابر فرق”کا استعمال کیا جاتا ہے ‘ یعنی جس میں کوالٹی یا اوزان کے حوالے سے فرق اجاگر کرنا ہوتا توکہدیا جاتا ہے اس میں رتی برابر فرق نہیں ہے آپ شاید یہ بھی نہ جانتے ہوں کہ برصغیرمیں اور تقسیم ہندوستان کے بعد بھی نقد روپیہ کا وزن ایک تولہ ہوتا تھا اور روپیہ چاندی سے ڈھالا جاتا تھا ‘ انگریز کے دور میں روپیہ کے سکے اور دوسرے سکوں پر بادشاہ جارج ششم کی تصویر کندہ ہوتی تھی جیسا کہ ہمارے ہاں مختلف سکوں پر مختلف شخصیات اور مشہور عمارتوں کی تصاویر کندہ کی جاتی تھیں کرنسی کے حوالے سے ہمارے ہاں کبھی روپیہ بنیادی اکائی ہوتا تھا جس میں دو اٹھنیاں ‘ چار چونیاں ‘ آٹھ دوآنے ‘ سولہ آنے ہوتے تھے ‘ اسی طرح ایک آنے میں چارپیسے یا دود دھیلے جنہیں ٹکہ بھی کہتے تھے ‘ یہاں بھی کچھ قول مشہور تھے یعنی کسی بات کو درست قرار دینے کے لئے کہا جاتا ‘سولہ آنے درست ہے ‘ ایک اوردلچسپ محاورہ ہے ٹکے کی گڑیاں آنا سرمنڈائی ‘ اسی طرح ٹکاپاس نہیں یعنی مفلسی ہے ‘ ٹکا سا جواب دینا ‘ گویا صاف منع کرنا مطلق انکار کرنا ‘ کرنسی کے اور پیمانے ایک پیسے میں دودھیلے یا ادھیلے ‘ یہاں بھی پنجابی زبان میں ایک ضرب المثل مشہور ہے کہ پلے نئیں دھیلا تے کردی میلہ میلہ ‘ اس کا مفہوم بالکل واضح ہے ‘ اسی طرح مزید نیچے آئیں توادھیلا یا دھیلا کے بعد پائی ‘ (پائی پائی کو محتاج ہوجانا پھر محاورہ ہے ) پائی کے سکے کے بعد دمڑی (چمڑی جائے پردمڑی نہ جائے ‘ کنجوس شخص کے بارے میں بولا جاتا ہے جو خرچ کرنے کے لئے کسی طور آمادہ ہی نہیں ہوتا) یوں کوڑی اورسب سے نیچے پھوٹی کوڑی جیسے کرنسی سکوں کاچلن ہوتا تھا’ اعشاری نظام کے بعد اگرچہ پیسہ کالفظ استعمال ہوتا ہے جس کا ذکر اب صرف حساب کتاب کی حد تک کاغذات میں ملتا ہے ‘ تب ایک پیسہ ‘ دوپیسے ‘ پانچ ‘ دس 25 اور پچاس پیسے کے سکے رائج تھے مگر جب سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے توقیری ہونا شروع ہوئی ہے ‘ کوئی فقیر بھی دس روپے کے نوٹ سے کم لینے پر تیار نہیں ہوتا ‘ یہاں ایک بات اچانک یاد آگئی ہے کہ اس وقت پشاور میں پانچ روپے کا سکہ توچلتا ہے جبکہ دکانداردس روپے والا سکہ کسی صورت قبول کرنے کوتیار نہیں ہوتے ‘ اس حوالے سے ایک افواہ یہ ہے کہ دس روپے والا سکہ بند ہو چکا ہے ‘ ہم نے بنک سے معلوم کیا توانہوں نے ایسی کسی اطلاع سے انکار کیا ۔اب سٹیٹ بنک ہی اس کی وضاحت کرسکتا ہے ۔

مزید دیکھیں :   درد دل کے واسطے