حکمرانوں کے کرپشن سکینڈلز

ہرحکمران جماعت کی طرح تحریک انصاف کے دس سالہ کارناموں کا بند توڑنے کی تیاریاں مکمل کر دی گئی ہیں۔ یہ بند جب ٹوٹے گا تو ہزاروں فائلوں کا سیلاب مقامی آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ تحریک انصاف کے درجنوں رہنما آپ کو گلے تک کرپشن میں ڈوبے نظر آئیں گے۔ یہ سلسلہ میڈیا سے شروع ہوکر عدالتوں اور پھر عوامی حلقوں تک پہنچ کر بیلٹ باکس والے دن اختتام کو پہنچے گا۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ ظاہری بات ہے کہ جب عوام نہیں بدلے تو تاریخ بھی نہیں بدلتی اور خود کو دہراتی رہتی ہے۔ ایک دانا سے کسی نے پوچھاکہ تاریخ اور ادب میں کیا چیز مشترک ہے تو جواب دیا کہ کچھ نہیں تاریخ میں سب جھوٹ ہوتا ہے سوائے تواریخ اور ناموں کے جب کہ ادب میں سب سچ ہوتا ہے سوائے تواریخ اور ناموں کے۔ تو جناب نام اور تاریخ شاید بدل جائیں لیکن کردار یہی رہیں گے۔ طبقات یہی رہیں گے اور جب طبقات یہی رہیں گے تو معاملات بھی ایسے ہی ہوں گے۔ اس وقت صوبائی حکمران یہ کہتے نہیں تھکتے کہ صوبے کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ صوبائی خزانہ خالی ہے۔ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیوں؟ تو جواب ملتا ہے مرکز صوبے کو این ایف سی ایوارڈ کا حصہ نہیں دے رہا ہے اس لئے صوبہ معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ تو جناب جب مرکز میں خود تحریک انصاف کی حکومت تھی ذرا یہ بتائیں کہ کون سا این ایف سی ایوارڈ صوبے کو دیا گیا۔ صحت کارڈ کے نام پر اربوں کمائے گئے۔ عوام کو ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ یہ انشورنس پالیسی کے تحت ہوا ہے۔ سرکار باقاعدہ پریمیم کے پیسے بھرے گی۔ یہ پیسے کہاں سے آئیں گے؟ یہ جو بی آر ٹی چلتی ہے اس کی سبسڈی کے پیسے کہاں سے آتے ہیں؟ اس پر آپ سوچیں گے تو معلوم ہوگا کہ اداروں کے پاس تنخواہوں کی کمی کیوں آ گئی ہے۔بھائی یہ پیسے یہ لوگ گھر سے یا اپنی جیب سے نہیں ڈالتے آپ ہی سے وصول کر رہے ہیں۔ کسی بھی حکومت کے پاس طاقت اور اختیار کے کچھ ہی محکمے ہوتے ہیں۔ صحت اور تعلیم کابجٹ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی افرادی قوت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ آڈٹ میں بے قاعدگیوں کے انکشافات بھی انہیں دو محکموں میں نکلتے ہیں۔ عوامی حلقوں میں سنا گیا کہ حال ہی میں لانگ مارچ کے لئے بلدیات تک کو کہا گیا کہ فی تحصیل انتظامیہ چار لاکھ روپے جمع کرائے ورنہ ہٹا دیا جائے گا۔ سنا ہے کہ متعلقہ تحصیل میں تبادلے بھی کئے گئے۔ بہرحال محکمہ صحت کا تو آوے کا آوا ہی بگڑ چکا ہے۔ حال ہی میں ایک ڈاکٹر نے وزیرصحت موصوف کی آنکھیں کھولنے کے لئے سرعام کرپشن کی نشاندہی کی اور بیچارہ ڈاکٹر ٹریننگ سے ہی محروم کردیا گیا۔ کئی ڈاکٹروں کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس وزارت صحت میں بے قاعدگیوں کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ لیکن عوامی سطح پر تحریک انصاف کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی اس کی وجہ یہ کہ خود ان کے منتخب نمائیندے کہتے ہیں کہ ان کو ووٹ تو عمران خان کی وجہ سے پڑا۔ اس لئے وہ خود کو بھی عوام سے زیادہ خود کو عمران خان کے سامنے جوابدہ قرار دیتے ہیں اور نجی محافل میں کہتے ہیں کہ عمران خان ان سے خوش ہیں اور عوام عمران خان سے خوش بات ختم۔ عوام سوشل میڈیا کے باعث اپنے اصل مسائل سے دور ہوچکی ہے۔واقفان حال کہتے ہیں اس وقت بھی ویسے صورتحال لگ بھگ ایسی ہی ہے۔ ہر ہسپتال میں لابی بیٹھی ہے۔ تمام ایم ٹی ائیز ہسپتال سرکار کے پیسوں پر چلتے ہیں۔ ہر ہسپتال میں لاکھوں تنخواہ پانے والے بیرون ملک سے پاکستان آنے والے کنسلٹنٹس بیٹھے ہیں۔ ان میں اکثریت نے بیرون ملک نوکری نہیں چھوڑی۔ بلکہ چھٹیوں پر یہاں آ کر حاضری لگا کر اب تک کروڑوں کما چکے ہیں۔ دوسری جانب سکولوں کی یہ حالت ہے کہ بمشکل ہی طلبا وطالبات پاس ہو پاتے ہیں۔ آگے میڈیکل کالج اور انجنئیرنگ کالج کے انٹری ٹیسٹ اور پھر وہاں کے خرچے۔۔۔لگتا ہے مستقبل میں اچھے تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لئے ایف بی آر سے والدین کا ریکارڈ طلب کیا جائے گا۔عرض یہ کہ مجموعی طور پر اقتصادی بدحالی پوری دنیا میں ہے لیکن اچھے ممالک میں عوام کے لئے ریلیف کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ پاکستان اور خصوصاً خیبرپختونخوا میں حکمرانوں نے صرف اپنے ریلیف کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ باریاں لگی ہیں سیاسی جماعتوں اور پھر خاندانوں میں جس کو جتنا موقعہ مل رہا ہے لوٹنے کے چکر میں ہے۔ بحیثیت قاری ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑا کر دیکھیں کہ حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے منتخب رکن کی حالت 2013 سے پہلے کیا تھی اور اب کیا ہے؟ پہلے اس کے پاس دولت کتنی تھی اور اب کتنی ہے؟ پہلے اس کا گھر حجرہ کیسا تھا اور اب کیسا ہے؟ پہلے کتنی گاڑیاں تھیں اور اب کتنی ہیں؟ پہلے اس کے رشتہ دار کیسے تھے اور اب کیسے ہیں؟ بس اس سے آپ پر واضح ہو جائے گا کہ”تبدیلی”کس میں آئی۔ذرا سوچیں لاکھ دو لاکھ کی تنخواہ میں نو سالوں میں کروڑوں کے اثاثے کیسے بنائے گئے۔ جہاں تک عوام کی بات ہے تو تحریک انصاف تو لائوڈ سپیکر پر اعلانات کر رہی تھی کہ وہ ”سونامی”یعنی تباہی لے کر آئیں گے۔ آپ ذرا لغت میں دیکھیں اگر سونامی کے مطلب اس سے ملتے جلتے نا ہوں تو پھر کہئے۔ تو جب وہ تباہی لا رہے تھے اورآپ نے ان کو منتخب کیا تو وہ تباہی ہی لاتے ناکہ خوشحالی۔ تو اب ہوگا کیا؟ کچھ نہیں عمران خان کا جادو چلا تو یہ لوگ پھر آئیں گے اگر نہیں چلا تو ان جیسے نئے ناموں اور چہروں کے ساتھ کچھ اور لوگ آئیں گے۔ زیادہ سے زیادہ آپ کو یہ لوگ کرپشن میں ڈوبے نظر آئیں گے اور پھر آپ ان کو بھول جائیں گے۔ پھر وقت گزرے گا لیکن ان کے منہ کو لگا خون ان کو چین سے نہیں بیٹھنے دے گا یہ باربار انتخابات لڑیں گے۔ یہ نہیں ہوں گے تو ان کی اولادیں انتخابات لڑیں گے۔ یہاں تک کہ یہ پھر آجائیں گے اور تب تک آپ ان کی گردن گردن کرپشن والی داستانیں بھول چکے ہوں گے۔ آپ کا کیا ہے؟ آپ تو بس کہہ دیں گے وہ فلاں نے جتنی کرپشن کی ہے اتنی تو انہوں نے نہیں کی۔ اس طرح یہ چکر پھر شروع ہوگا اور تاریخ خود کو دہراتی رہے گی۔

مزید دیکھیں :   یہ گلستان ہے نہ اس کو قفس میں کرتبدیل