مشرقیات

بخاری اور مسلم میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک ارشاد کا مطلب ہے کہ ۔۔۔۔ اذان دینے کی فضیلت معلوم ہو جائے تو پھر مسلمان اس سعادت کو حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے حتیٰ کہ قرعہ ڈالنا بھی پڑے تو تیار ہوجائیں گے کہ یہ فضیلت انہیں حاصل ہو ۔ ابودائود میں ہے ‘ ارشاد نبوی ہوا۔۔۔ اے اللہ ! امام کو رشد و ہدایت عطا فرما اور موذن کو بخش دے اس سعادت اور فضیلت کاکیا کہنا اسی لئے اسلام نے یہ پسند نہ کیا کہ کوئی اس سے محروم رہے چنانچہ حکم ہے کہ جب اذان دی جائے تو سب مسلمان جو اذان کے الفاظ سنیں انہیں دہراتے چلے جائیں۔ مسلم اور ابودائود میں ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اذان کے الفاظ دہرانے کی ترغیب دی اور ارشاد فرمایا کہ ۔۔۔ جودل سے ان کلمات کو دہرائے گا جنت میں داخل ہو گا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اتنے میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دینی شروع کی جب اذان ختم ہوچکی تو آپۖ نے کچھ اس طرح فرمایا کہ ۔۔۔۔ جو یقین کے ساتھ اسی طرح کہے یعنی اذان کے الفاظ دہرائے وہ جنت میں داخل ہو گا۔
مسلم کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے آپۖ نے فرمایا کہ ۔۔۔ جو اذان سن کر دہرائے اس کے بعد دعائے ماثورہ پڑھے اس کے لئے بڑا درجہ ہے ۔ امید ہے کہ وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔ اذان کے الفاظ دہرانے کی صورت یہ ہے کہ جو موذن کہتا جائے سننے والا خود بھی وہی کہتا جائے البتہ جب موذن حی علی الصلواة اور حی علی الفلاح کہے تو اس وقت لاحول ولا قوة الا باللہ کہا جائے ۔
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ موذن اذان کے الفاظ ٹھہر ٹھہر کر ادا کرتا ہے اس لئے ان الفاظ کو دہرانے کے بعد وقت مل جائے تو درمیان درود پڑھا جائے حکم ہے کہ اذان کے الفاظ ہر وہ شخص دہرائے جسے کوئی شرعی عذر نہ ہو اگر کوئی نماز پڑھ رہا ہے تو اذان کے الفاظ نہ دہرائے خطبہ سننے والے پڑھنے پڑھانے والے اور کھانے میں مشغول لوگوں کوبھی حکم ہے کہ اذان کا جواب نہ دیں یہی حکم موذن کے لئے بھی ہے حکم ہے کہ کلمات اذان کی طرح اقامت کے الفاظ بھی دہرائے جائیں جب اقامت کہنے والے کی زبان سے قدقامت الصلواة کے الفاظ نکلیں تو جواب میں کہا جائے ۔اقامھا اللہ وادامھا۔
اذان کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ شعائر اسلام میں شامل ہے اور اس کی اتنی اہمیت ہے کہ اذان کو نبوت کے شعبوں میں سے ایک شعبہ قرار دیاگیا ہے کیونکہ اس میں ایک بہت بڑی عادت اور ایک بہت بڑے رکن کی طرف ترغیب پائی جاتی ہے فتح الباری میں ہے جب نماز کے لئے اذان پکاری جاتی ہے تو شیطان بے تحاشا بھاگتا ہے ۔
سورہ مائدہ میں ایک ا رشاد ربانی کا مطلب ہے کہ ۔۔۔ اور جب تم نماز کے لئے اعلان کرتے ہو تو بعض لوگ اس کے ساتھ ہنسی اور کھیل کرتے ہیں وہ ایسا اس لئے کرتے ہیں کہ وہ عقل اور شعور نہیں رکھتے ۔۔۔ یہ اذان کے وقت ہنسی کھیل کرنے والے دشمنان اسلام تھے جوبھی ایسا کرے گا وہ اسلام دوست نہیں ہوگا۔
معلوم ہوا کہ اذان کے وقت خاموشی اختیار نہ کی جائے اور الفاظ اذان دہرائے نہ جائیں تو یہ بڑی بے ادبی ہے ۔۔ ایسی بے ادبی جو ایمان اور احترام کی کمی کی نشانی ہے۔

مزید دیکھیں :   ایک بار پھر مذاکرات