سیاست سے گریز

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ فوج کی قیادت کچھ بھی کرسکتی ہے لیکن کبھی بھی ملک کے مفاد کے خلاف نہیں جاسکتی، کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں ایک بیرونی سازش ہو اور مسلح افواج ہاتھ پر ہاتھ دھری بیٹھی رہیں گی، یہ ناممکن ہے آرمی چیف نے دم رخصت بہت سی غلط فہمیوں کو احسن انداز میں دور کیا جس کے باعث عوام مخمصے کاشکار چلے آرہے تھے جی ایچ کیو میں یوم دفاع اور شہداء کی پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ فوج پر تنقید عوام اور سیاسی جماعتوں کا حق ہے لیکن الفاظ کے چنائو اور استعمال میں احتیاط برتنی چاہئے۔آئندہ فوج کسی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی، یقین دلاتا ہوں کہ اس پر سختی سے کاربند ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ہمیں جمہوریت کی روح کو سمجھتے ہوئے عدم برداشت کی فضا کو ختم کرتے ہوئے پاکستان میں سچا جمہوری کلچر اپنانا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اب سیاستدانوں کو بھی اب اقتدار کے لئے بیساکھی کے حصول کی بجائے عوام کی حمایت اور انتخابی نتائج پر بھروسہ کرنے کاوتیرہ اختیار کرنا چاہئے تاکہ ہردو فریق اپنی اپنی جگہ درست پوزیشن پرجائیں ملک میںاس کے بغیر جمہوری کلچر کا فروغ اور سیاست کوآلودگی سے پاک کرنے کا کوئی اور طریقہ نظر نہیں آتا۔ مشکل امر یہ ہے کہ پاک فوج کومختلف عناصر مختلف انداز سے تنقید کا نشانہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیںدیتے البتہ فوج کی سیاست میں مداخلت وہ متفقہ الزام ہے جس پر اس وقت ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے اور یہ کوئی ا لزام بھی نہیں بلکہ اب تواس کا جنرل باجوہ نے اعتراف بھی کیا اس کے بعد ظاہر ہے اس غلطی کے دوبارہ نہ دہرائے جانے کا سوال ہی اہم نہیں بلکہ عملی طور پر ایسا ہوتا ہوا نظربھی آجانا چاہئے جنرل قمرجاوید باجوہ نے فوج پرتنقید کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستانی فوج جو دن رات قوم کی خدمت میں مصروف رہتی ہے، گاہے بگاہے تنقید کا نشانہ بنتی ہے۔ فوج کے عملی طور پر سیاست سے دوری اختیار کرنے کے بعد انگشت نمائی کے مواقع میں خود بخود کمی آئے گی اور ایسا ہونا فطری امر ہوگا۔ انہوں نے اس کی وجہ بجا طور پردرست نشاندہی کی اور اعتراف کیا کہ ان کے نزدیک اس کی سب سے بڑی وجہ70سال سے فوج کی مختلف صورتوں میں سیاست میں مداخلت ہے جو کہ غیر آئینی ہے، اس لئے پچھلے سال فروری نے فوج میں سوچ و بچار کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ فوج کسی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی، میں یقین دلاتا ہوں کہ اس پر سختی سے کاربند ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔یاد رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پاک فوج کی کمان سنبھالنے کے6برس بعد ریٹائر ہونے والے ہیں، نومبر2016میں ان کا تقرر بطور آرمی چیف کیا گیا تھا، بعد ازاں2019میں پارلیمان میں آرمی چیف کی مدت کے حوالے سے عدالتی حکم پر قانون سازی کے بعد انہیں تین سال کی توسیع دی گئی تھی۔ان کی سبکدوشی کے موقع پر نئے آرمی چیف کی تقرری کے معاملے کو سیاستدانوں ے جس طرح متنازعہ بنایا اس کے نتیجے کے اثرات سے نئے آرمی چیف کے حوالے سے بھی اگر سوالات اٹھے توفوجی قیادت کی سیاست سے بیزاری کے باوجود سیاست میں ان کا نام لیاجاتا رہے گا اور سیاستدان اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے رہیں گے اس کی روک تھام کی بھی ضرورت ہو گی تاکہ فوج کا نام سیاست میں کسی بھی حوالے سے نہ آئے۔اس کا ایک خاص پس منظر ہے کہ ملکی سیاست میں دخل اندازی نے فوج کی پیشہ وارانہ مہارت اور قومی سلامتی کی اہم ذمہ داری سے متعلق سوالات کا باعث رہے۔سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ شروع سے ہی بلواسطہ یا بلاواسطہ ملکی سیاست پر حاوی رہی ہے۔ آمریت کے طویل ادوار اب مختصر اور غیر موثر سویلین حکومتوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ فوج کے سیاسی کردار نے سویلین اداروں اور ملک میں جمہوری سیاسی کلچر کے فروغ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ75سال گزرنے کے باوجود ملک میں طاقت کے بنیادی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔نئی عسکری قیادت کے لئے ادارے کو درپیش متعدد مسائل سے نمٹنا انتہائی مشکل ہوگا۔ یہ صرف اسٹیبلشمنٹ کے مستقبل کے سیاسی کردار کا معاملہ نہیں بلکہ ادارے کی ساکھ کا بھی معاملہ ہے جو داو پر لگی ہوئی ہے۔ملکی سیاست کے انتہائی اہم موڑ پر قیادت سنبھالنے والے نئے آرمی چیف کے لئے یہ امتحان کی گھڑی ہوگی۔ دہائیوں سے چلتی آرہی روایات سے دور رہنا ان کے لئے بہت مشکل ہوگالیکن انہیں ایسا کرکے دکھانا ہوگا۔سیاسی امور میں عدم مداخلت والی یہ پالیسی تب ہی تسلسل سے آگے بڑھے گی جب اسے ہر سطح پر لے جایا جائے گا۔ جب کاکول میں کیڈٹس کو یہ پڑھایا جائے گا کہ فوج کے سیاسی کردار کی وجہ سے ملک کا بہت نقصان ہوا ہے تو پھر شاید آئندہ ایسی مداخلت کا رستہ بند ہو سکے۔ریٹائرمنٹ پر کی جانے والی تقریر درست تصویر نہیں دکھا سکتی بلکہ اس کے لئے نئی تعیناتی کے بعد جو ہو گا وہ اہمیت کا حامل ہوگا۔

مزید دیکھیں :   صدرمملکت کا قابل غور مشورہ