حکومت اسمبلی توڑنے اور اپوزیشن بچانے کیلئے متحرک

حکومت اسمبلی توڑنے اور اپوزیشن بچانے کیلئے متحرک

ویب ڈیسک :پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان کی جانب سے خیبر پختونخوا کی اسمبلی تحلیل کرنے کے اعلان پر صوبائی حکومت نے منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ استعفوں کے باضابطہ اعلان کے بعد گورنر سیکرٹریٹ کو صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش ارسال کی جائے گی ۔ ادھر اپوزیشن نے صوبائی اسمبلی کو تحلیل سے بچانے کیلئے وزیر اعلیٰ کے خلاف دوسری مرتبہ تحریک عدم اعتماد کی تحریک جمع کرانے سمیت مختلف دیگر تجاویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ صوبائی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق عمران خان کی جانب سے اسمبلی توڑنے کی ہدایات پر عمل در آمد میں ایک منٹ کی بھی تاخیر نہیں کی جائے گی۔
اس مقصد کیلئے پارٹی کی مرکزی قیادت نے پارلیمانی پارٹی کے عہدیداروں سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے اور جیسے ہی اتفاق رائے ہوجائے گا تو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ حرکت میں آجائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ آئین کے مطابق کسی بھی صوبائی اسمبلی کو تحلیل کرنے کیلئے وزیراعلیٰ کو صرف گورنر سیکرٹریٹ کو ایک خط ارسال کرنا پڑے گا اور اگر گورنر اس خط کی سفارش پر عمل در آمد نہیں کرتے تو صوبائی اسمبلی 48 گھنٹوں کے اندر خود بخود تحلیل ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آئین کے آرٹیکل112کے تحت گورنر صدر کی اجازت کے بعد خود بھی اسمبلی توڑنے کے پابند ہیں لیکن گورنر کا تعلق اپوزیشن جماعت سے ہونے کی وجہ سے گورنر نہ تو وزیراعلیٰ کی سفارش کو قبول کریں گے اور نہ صدر کی جانب سے اس قسم کی اجازت دی جائے گی۔ اس لئے تمام کھیل پی ٹی آئی کے میدان سے ہی کھیلا جائے گا اور کوئی بھی اس کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔
ادھر خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی توڑنے کے اعلان نے اپوزیشن جماعتوں کی صف میں بھی ہلچل پیدا کردی ہے۔ اپوزیشن نے صوبائی اسمبلی بچانے کیلئے وزیر اعلیٰ کے خلاف دوسری مرتبہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانے سمیت مختلف دیگر تجاویز پر تبادلہ خیال شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے گذشتہ شب اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنمائوں کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا تھا جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنمائوں نے اسمبلی کی تحلیل سمیت دیگر کئی امور پر بحث کی ہے۔ آئین کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک جمع ہونے کے بعد اسمبلی کو تحلیل نہیں کیا جاسکتا ہے اس لئے اب کے مرتبہ بھی اسی فارمولا کے تحت آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی ہوگی۔ صوبائی اسمبلی توڑنے کی صورت میں اعلیٰ عدالتوں سے بھی رجوع کرنے کا امکان ہے ۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کی جانب سے خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد حکومت سے زیادہ اپوزیشن کو فکر لاحق ہے۔ اس وقت پی ڈی ایم الیکشن کیلئے بالکل بھی تیار نہیں اس لئے کسی بھی اچانک سیاسی مہم جوئی سے قبل ہی پارٹی رہنماء سر جوڑ نے پر مجبور ہوئے ہیں دوسری جانب صوبائی اسمبلی کا سیشن بھی جاری ہے اور اجلاس کو ختم نہیں کیا گیا ہے اس تناظر میں صوبائی اسمبلی توڑنے کا امکان کم ہوگا تاہم وزیراعلیٰ محمود خان کی جانب سے اسمبلی کی تحلیل کیلئے گورنر کو سفارش ارسال کرنے کے بعد صورتحال پیچیدہ ہوجانے کا خدشہ ہے جس کیلئے اپوزیشن کی جانب سے پیشگی حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن کے پاس اسمبلی کو بچانے کیلئے آئینی راستے بند نہیں ہوئے ہیں اس کے علاوہ عدالتوں کا آپشن بھی موجود ہے جس کی روشنی میں اسمبلی کی تحلیل کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

مزید دیکھیں :   پی ٹی آئی کے 43 ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل