مشرقیات

ناکامی سے سیکھ کر آپ اسے کامیابی کازینہ کیسے بناتے ہیںیہ آپ محمود غزنوی سے سیکھیں جو خود ایک چیونٹی سے سبق سیکھ کر اپنے ہارے ہوئے لشکر کی معیت میں کامیابی کی منزل سے سرفراز ہو گئے تھے۔ساری اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ کی جدوجہد میں کتنا خلوص اور لگن شامل حال ہے بخدا ہم آپ کو کسی لڑائی بھڑائی میں کامیابی کے گر نہیں سکھارہے یہ اصول ہر شعبہ حیات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہے۔ وہ کیا نام تھا بجلی کا بلب بنانے والے بابا کا ایڈیسن۔۔۔ اس نے کون سا پہلی کوشش میں بلب بنا لیاتھا ناکا م ہوتے ہوتے ہی روشنی کا گولہ ایجاد کر بیٹھا تھا۔ریڈیو سنتے تھے کسی زمانے میں آپ کے بزرگ اب ”سمارٹ ”ہو گئے ہیں جوانوں کے ساتھ ساتھ مقابلہ جو ٹھہرا،اس لیے سمارٹ فون میں انہیں ایک ٹکٹ میں سب کچھ فراہم کر دیا گیا ہے تاہم اپنی جوانی دیوانی کے دنوں میں یہ ریڈیو سے صرف خبریں ہی نہیں سنتے تھے دل پشوری بھی کر لیتے تھے اس ریڈیو کو ایجاد کرنے والے چچا مارکونی بھی ٹرائی اگین ٹرائی اگین کرکے منزل مقصود تک پہنچے تھے۔ایسے ہی آپ کو علم ہے کہ ہیلر کیلر نامی نابینا خاتون کون تھیں اور علم کے شوق اور لگن میں کیسے انہوں نے ناکامیوں کو سیڑھی بناتے ہوئے کامیابی کی معراج پائی ،سیاست کی بات کریں تو اپنے محمد علی جناح ایک قوم کی آزادی کے لیے دو قوموں سے چو مکھی کی لڑائی کس ذہانت سے لڑ کر کامیاب ہوئے کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ ایک بار مایوس ہوکر انگلینڈ چلے گئے تھے تاہم ٹرائی اگین کا نسخہ وہ بھی آزمانے پر اترے تو ایک مملکت خداداد وجود میں آگئی اور ہم تم آزاد شہری قرار پائے ، غرض کوئی بھی شعبہ حیات لیں آپ کو دو کام کرنے ہیں ایک تو ان تھک محنت دوسرا اپنے مقصد سے دیانت داری۔دونوں خوبیاں آپ میں موجود ہوں تو اس مقصد کے لیے ہر ناکامی سیڑھی بنتی جائے گی آپ ان ناکامیوں پر پائوں رکھ کر پہلی منزل سے لے کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچ سکتے ہیں ،آپ نے اپنے علامہ صاحب کا فرمان نہیں سنا ستاروں سے آگے جہاں اوربھی ہیں۔۔توجناب ستاروں پر کمند ڈالنے والے اپنی ہم عصر قوموں کی لگن دیکھ لیں کوئی کام بھی شروع وہ کریں ناکامی کو ناکامی سمجھتے ہیں اسے کامیابی کا زینہ جان کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔آپ سے ایک التجا ہے کہ اپنے بچوں کی چھوٹی چھوٹی ناکامیوںپر انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنے کی بجائے یہ بتائیے کہ وہ کس طرح ان ناکامیوں کو سیڑھی بنا کر اوپر جا سکتے ہیں بصورت دیگر آپ قوموں کی صف میں احساس کمتری کے مارے پیچھے ہی کھڑے نظر آئیں گے۔بچوں سے آگے یہ بات اپنے ہاں کے جوانوں کو بھی ازبر کرانے کی ضرورت ہے کہ وہ حالات سے گبھرا کر کہیں بھاگنے کی بجائے ان کا مقابلہ کیوں نہیں کرتے ،ہوا موافق نہ بھی ہوتو جوانی ہوائوں کا رخ پھیرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

مزید دیکھیں :   ڈیفالٹ کا خطرہ اور ہماری بے حسی