سینی ٹیشن کمپنی

ضلعی حکومت اور سینی ٹیشن کمپنی میں سیاسی جنگ، مسائل بڑھ گئے

ویب ڈیسک : پشاور کی واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی اور کیپیٹل میٹرو پولیٹن گورنمنٹ کے درمیان شروع ہونیوالی سیاسی جنگ نے انتظامی صورتحال اختیار کر لی، بلدیاتی انتخابات میں ایک دوسرے کے مخالفین نے انتظامی محاذ کھول کر دونوں اداروں کی ساکھ کو دائو پر لگا دیا، 19دسمبرکوہونیوالے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پشاور سٹی میئر کیلئے جمعیت علماء اسلام کے زبیر علی اور پاکستان تحریک انصاف کے رضوان بنگش کے درمیان مقابلے کے بعد جمعیت علماء اسلام کے زبیر علی فاتح رہے تھے
بعدازاں صوبائی حکومت نے پی ٹی آئی کے شکست خوردہ رضوان بنگش کو سینی ٹیشن کمپنی پشاور کے بورڈ کا چیئرمین مقرر کر دیا تھا جس کے بعد کیپیٹل میٹرو پولیٹن گورنمنٹ اور سینی ٹیشن کمپنی کے معاملات سنبھل ہی نہیں رہے، صفائی آپریشن، ملازمین احتجاج اور انتظامی مسائل سمیت سروس ڈیلیوری پشاور میں شدید حد تک متاثر ہوئی ہے، ملازمین احتجاج کرتے ہوئے میئر پشاور کی حمایت حاصل کر لیتے ہیں جبکہ کمپنی ملازمین کو کیپیٹل میٹرو پولیٹن واپس بھیجتی ہے تو کیپیٹل میٹرو پولیٹن اثاثے مانگ لیتی ہے، سیاسی چپقلش اور اختلافات کے باعث دونوں اداروں میں انتظامی مسائل مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں اور کمپنی کے ملازمین اب کمپنی ختم کرنے یا اسے میئر کے دائرہ اختیار میں لانے کیلئے مہم شروع کرچکے ہیں جس کے باعث اختلافات میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔

مزید دیکھیں :   موجودہ اور سابق گورنرکی بیان بازی میں عوامی مسائل نظرانداز