حاجی غلام علی کونسلر تا گورنر

ایوب خان نے ملک میں بنیادی جمہو ریت کا نظام روشناس کر ایا تھا، یہ نظام بلدیاتی سطح تک بہت کامیاب رہا تھا مگر ایوب خان نے اپنی آمریت کو برقرار رکھنے کے لیے عوام کو پارلیمنٹ اور صدر کے چناؤ سے محروم کر کے بلدیا تی نمائندوں کو چناؤ کی نیا بت عطا کر دی تھی جس سے ملک براہ راست عوام کی نمائندگی سے محروم ہوگیا تھا، جنرل یحییٰ خان نے ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر انتخابات کرائے اس طرح عوا م کو براہ راست صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کا حق نیابت مل پایا، یحییٰ خان کے بعد بھٹو مرحوم کی سربراہی میں سیاسی حکومت تشکیل پائی تاہم ان کے دور میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات نہ ہو پائے البتہ جنر ل ضیاء الحق جو ایک زیرک سیا سی داؤ پیچ کی گتکا بازی کرتے تھے چنانچہ انہوں نے یہ جانا کہ عوامی سطح بغیر حمایت کے ان کی ترپ کی چالیں کامیاب نہیں ہو پائیں گی، چنانچہ انہوں پاکستان میںایک طویل عرصہ بعد منتخب بلدیاتی اداروں کی تجدید کرنا ٹھانی اس سلسلے میں ان کا ایک وطیرہ یہ بھی تھا کہ عوام کو سیاست دانوں سے بچائے رکھنے کی غرض سے وہ تمام سیاسی کام بھی غیر سیاسی حوالوں سے کرتے تھے جنرل مشرف بھی جنرل ضیاء الحق کی ہی بساط پر کھیلتے رہے ہیں، چنانچہ جب پہلی مرتبہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں بلدیا تی اداروں میں عوام کی نمائندگی بحال ہوئی توا س وقت بھی بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر استوار کرائے گئے ، اس کلیہ کا یہ فائدہ تو ضرور ہو ا کہ اس طرز کے چناؤ سے نئی نسل کی ایک بڑی کھیپ مقامی سیا ست میں وارد ہوگئی جس نے بعد ازاں صوبائی اور قومی سیا ست میںکر دار ادا بھی کیا، اس نوجوان نسل میں پشاور سے جو افراد بے حد طمطراق سے جلوہ گر ہوئے، ان میں سابق میئر سعید احمد جان ، امان اللہ خان ، غلا م علی اور شفیق پوپلزئی نمایاں ہیں، ان سب نے عوام کی ایسی بے لو ث خدمت کی کہ خود کو پشاور کے تجمل ثابت کردیا، سیعد احمد جان اور امان اللہ تو اللہ کو پیارے ہوگئے ، بہر حال ان افراد نے عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں اٹھائے رکھی یوں تو اس مو قع پر نئی پود میں سے اور بھی چہر ے سامنے آئے تھے، جو اخلاص کا مقام ا ن کے حصے میںآیا وہ یکتا تھا، پاکستان کی سیا ست میںعموماً یہ دیکھنے میںآیا ہے کہ انتخابات جیتنے کے بعد منتخب نمائندہ عوام کی جا نب سے لسی پی سو رہتا ہے، اور اسی بے خبری کے عالم میںعوام کوبھول جاتا ہے، غلا م علی جب کو نسلر منتخب ہوئے تو انہوں نے خودکو عوام سے گانٹھے رکھا، یہ ہی وجہ ہے کہ وہ صوبے کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہوئے، عام طو پر کہا جا تا ہے کہ غلا م علی جمعیت العلمائے اسلا م کے امیر مولانا فضل الرّحما ن کے سمدھی ہیں جس سے یہ تاثر پھیلا نے کی سعی ہوتی ہے کہ ان کو سیاست میں اس لیے مقام حاصل ہے کہ وہ امیر جمعیت کے رشتے دار ہیں حقیقت کا اس سے کو سوں دور کا واسطہ نہیں ہے، حاجی غلا م علی نے سیاست میں پہلے قدم رکھا، پھرکہیںجا کر جمعیت العلمائے اسلام کو چنا، پشاورکی سو سالہ سیاسی تاریخ کو دیکھاجائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ شہر شروع میںخلا فت تحریک کا گڑھ رہا ، پھر کانگر س کا اثر رسوخ شامل ہوا اور پاکستان بننے سے کچھ عرصہ پہلے مسلم لیگ کی سیاست کو فروغ حاصل ہوا، جمعیت العلما ئے اسلا م کو صوبہ کے پی کے میں جنو بی اضلاع میں پذیر ائی حاصل رہی ہے۔ ووٹ بینک کی بنیاد پر بھی بعض سیاست دان پارٹیوںمیںشامل ہوتے ہیں مگر پشاور میں جمعیت کا ووٹ بینک قابل ذکر نہیں تھا، البتہ حاجی غلام علی کی شمولیت کے بعد سے پشاور میں جمعیت کا ووٹ بینک میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے ، جیسا کہ اعظم سواتی جب سیاست میں وارد ہوئے تب انہوں نے جمعیت السلام میںشمولیت اس لیے حاصل کی کہ ان کے حلقے میں جمعیت کا ووٹ بینک اکژیت میں تھا اور وہ جمعیت کے ٹکٹ پر سینیٹرمنتخب ہوئے اور جب سیا سی تبدیلی آئی اور ان کے حلقے سے جمعیت کا ووٹ قلیل ہو ا تو وہ جھٹ سے پی ٹی آئی کے ہو گئے۔ حاجی غلا م علی نے بلدیا تی سطح پراچھی پذیرائی پائی اور وہ مشرف کے دور میںمئیر پشاور بھی منتخب ہوئے آج پشاور میں ان کی دوسری نسل میئر پشاور کی نشست پربراجما ن ہے، مئیر پشاور پورے ضلع کا حکمر ان ہو تا ہے لیکن جب پارٹی نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ عہدہ چھوڑ کر سینیٹ کا انتخاب لڑیں تو انہو ں نے ایک طاقت ور عہدہ فوری طور پر چھو ڑ دیا اور سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لیا، اب خیر سے صوبے کے عہدہ جلیلہ گورنر پر فائز ہیں، چنانچہ ان کے بارے میں یہ تاثر پھیلانا کسی طور مناسب نہیںکہ ان کو سیاست میں جو مقام مل رہا ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ مولانا فضل الرّحما ن کے سمدھی ہیں اس لیے غلط قرارپا تا ہے، حاجی غلام علی نے جمعیت العلمائے اسلا م میںشمولیت سے بہت پہلے سیاست میں قدم رکھا، جمعیت العلمائے اسلام میں تب شمولیت کی جب وہ سیاست میں شہرت کے بام عروج پر تھے، ان کی شمولیت سے پارٹی کو فائدہ ہوا ہے ناکہ انہیں، جہا ںتک سمدھی ہو نے کا تعلق ہے تووہ بھی کئی سال بعد رشتہ جڑا، خیر یہ گفتگو کچھ طویل ہوگئی، اب دیکھنا یہ ہے کہ ماضی کی طر ح حاجی غلام علی اپنی نئی ذمہ داریاں کیسے نبھاتے ہیں وہ خود کو جمعیت کا کارکن ثابت کرتے ہیں یا صوبے اور وفاق کی علا مت قرار دیتے ہیں، پاکستان کے عوام کو عارف علوی کے طرزعمل سے مایوسی ہوئی ہے، گورنر، اور صدر مملکت دو ایسے عہد ے ہیں جو قطعی غیر جانبداری اور غیر سیا سی ہونے کے متقاضی ہیں ارباب سیف الرّحما ن کے پی کے کی صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر رہے ہیں وہ اے این پی سے تعلق رکھتے تھے، جب ڈپٹی سپیکر منتخب ہوئے تو انھو ں نے پارٹی کی ہر قسم کی سرگرمی سے علیحدگی اختیار کرلی تھی حتیٰ کہ بھٹو مرحوم نے جب بلوچستان کی حکومت توڑی اور گورنرکو بھی برخاست کیا اسی طرح صوبہ کے پی کے میں گورنر ارباب سکند ر خان کو برطرف کیا تو مفتی محمود کی مخلوط حکومت جس میںنیپ بھی شامل تھی احتجاجاً مستعفی ہوگئی، ارباب سیف الرّحما ن نے غیر سیاسی عہدہ کی بناء پر استعفٰی نہیں دیا، علاوہ ازیں بیرسٹر مسعود کو ثر جو شبلی فراز کے چچا تھے وہ بھی سپیکر کے عہد ے پر فائز رہے ہیں پی پی کے بہت معروف رہنماء تھے انہو ں نے بھی سپیکر کے عہدے کی حثیت سے انتہائی غیر جانبداری کا کردار ادا کیا ایسا محسوس نہیں ہوا کہ وہ کبھی پی پی کے مر کزی رہنماؤں میں شمار ہو تے تھے، توقع یہی ہے کہ حاجی غلا م علی اپنی ماضی کی صلاحیتوںکی بنیاد پر صوبے کے حقوق اور وفاق کے نمائندگی کا لوہا منوائیں گے اور اپنانا م ان نیک سعید افراد میں لکھوائیں گے جن کو قوم آج بھی یاد کرتی ہے اور ان کی نیک نامی کو سلا م کرتی ہے ، یقینی طور پر ان کا کر دار غیر سیا سی رہے گا، ان کی طرح نہیںہو پائے گا جو ملک کے سب سے ارفع ومحترم عہد ہ کی شناخت سینے پر سجائے بیٹھے ہیں مگر خود کو ایک پارٹی کے سربراہ کے تابع بنا رکھا ہے ۔

مزید دیکھیں :   ڈیفالٹ کا خطرہ اور ہماری بے حسی