بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے کیا فیصلے درکار؟

دنیا میں توانائی کے مسائل ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہے ہیں اور مہنگا ہوتا ایندھن ہر ملک کی معیشت کو متاثر کررہا ہے۔ یہ توانائی کا بحران ہی ہے جس کی وجہ سے معیشتوں کو مہنگائی میں اضافے، افراطِ زر یا انفلیشن کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں توانائی کا مسئلہ دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہے، پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں اس سال ہوش ربا اضافہ دیکھنے میں آیا اور اس اضافے کا اثر بجلی کے بلوں پر بھی پڑا ہے مگر ایندھن اتنا مہنگا کیوں ہوا اس کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں ہونے والا اتار چڑھاؤ ہے جس کی وجہ سے بجلی کی فی یونٹ قیمت بڑھ گئی ہے، بجلی مہنگی ہونے سے قومی خزانے پر توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ دن بدن بڑھ رہا ہے اور حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ گردشی قرضہ ہی بنا ہوا ہے۔
بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے شعبے میں نقصانات، بلوں کی وصولی نہ ہونا، سستی بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس کا کم استعمال، نادہندگان کو بجلی کی فراہمی جاری رکھنا اور سبسڈی کی ادائیگی میں تاخیر گردشی قرضے کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، پاکستان میں وضع کردہ بجلی کے ٹیرف کے مطابق اس میں80 فیصد لاگت ایندھن کی ہوتی ہے۔ اگر ایندھن کی قیمت میں کمی ہوجائے تو پھر اس کا فائدہ صارفین کو پہنچایا جاتا ہے اور اگر ایندھن کی قیمت بڑھ جائے تو اسے وصول بھی صارفین سے ہی کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں گیس کے نئے ذخائر کی تلاش نہ ہونے کی وجہ سے قدرتی گیس کے ذخائر میں ہر گزرتے دن کے ساتھ کمی ہورہی ہے۔ قدرتی گیس کے ذخائر کی کمی کی وجہ سے قطر سے گیس کی خریداری کا معاہدہ کیا گیا تاکہ بجلی کی تیاری کے لیے فرنس آئل کے بجائے آر ایل این جی کو استعمال کیا جاسکے۔ پاکستان میں آر ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کی مجموعی پیداواری گنجائش5ہزار47میگاواٹ ہے۔
اگر عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ جولائی2021 میں آر ایل این جی کی فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت کی فوری مارکیٹ میں قیمت12.17ڈالر تھی جو جون2022میں بڑھ کر19.07ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی۔ اس طرح گیس کی قیمت میں6 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کا اضافہ ہوا۔ ایک موقع پر تو آر ایل این جی کی قیمت39ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پہنچ گئی تھی جس کے سبب طویل مدتی معاہدے کے تحت آر ایل این جی سپلائرز نے گیس فراہمی کے بجائے جرمانہ ادا کرنے کو ترجیح دی۔
بجلی کی پیداوار کے حوالے سے کوئلے کو بھی ایک سستا ایندھن تصور کیا جاتا تھا ،عالمی منڈی میں ایک سال کے اندر کوئلے کی فی ٹن قیمت 177 ڈالر سے بڑھ کر 407 ڈالر ہوگئی جس کے سبب کوئلے سے بنائی جانے والی بجلی کی لاگت 10.17 روپے فی یونٹ سے بڑھ کر 29.12 روپے ہوگئی یوں 18.95 روپے فی یونٹ بجلی مہنگی ہوئی۔ دوسری جانب پاکستان میں مقامی کوئلہ جو تھر سے نکالا جارہا ہے اس سے بنائی گئی بجلی کی قیمت 7 سے 9 روپے فی یونٹ رہی، عالمی منڈی میں کوئلے کی قیمت تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے افغانستان سے کوئلے کی درآمد کی اجازت دی گئی مگر افغانستان کا کوئلہ پاکستان کی طلب پورا کرنے سے قاصر ہے۔ اب یہ بات کی جارہی ہے کہ درآمدی کوئلے کے بجائے پاکستان میں دستیاب تھر کے کوئلے کو سپلائی چین میں شامل کیا جائے تاکہ سستے کوئلے سے سستی بجلی بنائی جاسکے اور قیمتی زرِمبادلہ بھی بچایا جائے، تھر کوئلے پر چلنے والے پاور پلانٹس کو جلد کمیشن کرنے کی ضرورت ہے۔
نیپرا نے بگاس سے بجلی بنانے کے لیے کل 940میگا واٹ کے27پاور پلانٹس لگانے کے لائسنس جاری کیے ہیں مگر اس میں سے صرف 260میگاواٹ کے8پاور پلانٹس مکمل ہوئے ہیں اور ان سے سسٹم میں13روپے فی یونٹ بجلی دستیاب ہوئی ہے۔ متعلقہ اداروں کے غیر پیشہ ورانہ اور غیر خوش آمدیدی رویے کی وجہ سے 616میگا واٹ کے شمسی توانائی کے12 منصوبوں پر بھی کام شروع نہیں ہوسکا۔
یہ بات تو طے ہے کہ جدید طرزِ زندگی کے لیے بجلی کی اہمیت سے انکار نہیں ہے۔ انسان نے کاروبارِ زندگی کو چلانے کے لیے جو بھی جدید ذرائع بنائے ہیں وہ سب کے سب توانائی پر کام کرتے ہیں۔ بجلی کے بغیر پاکستان کو ترقی نہیں دی جاسکتی۔ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں بعض مفادات کی وجہ سے متبادل توانائی منصوبوں کی منظوری دیے جانے کے باوجود ان کی تکمیل میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں، اس وقت1500میگا واٹ سے زائد کے منظور شدہ منصوبے زیرِ التوا ہیں۔ اس پر پالیسی سازوں کو سوچنا ہوگا اور ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا تاکہ صارفین کو سستی بجلی مل سکے۔ اس کے علاوہ بجلی کی پیداوار کے لیے مقامی وسائل پر انحصار کو بڑھانا ہوگا تاکہ ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی سے پیدا ہونے والے مسائل سے بچا جاسکے۔

مزید دیکھیں :   ڈیفالٹ کا خطرہ اور ہماری بے حسی