سیاسی کشمکش میں اضافہ

26 نومبر کو راولپنڈی میں ”حقیقی آزادی مارچ” کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اسمبلیوں سے باہر آنے کے حوالے سے جو اعلان کیا تھا اس کو حتمی شکل دینے کے لئے گزشتہ روز زمان پارک لاہور میں پارٹی رہنماؤں کے اجلاس میں خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلیوں کی تحلیل پر غور و خوض کے بعد پارٹی سربراہ کے محولہ اعلان کی بالآخر توثیق کرتے ہوئے دونوں اسمبلیوں کے پارلیمانی اجلاس بلوا کر حتمی فیصلہ کیا جائے گا’ پارٹی کے رہنما فواد چوہدری نے اجلاس کے بعد زمان پارک رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس بلوانے کے لئے جمعہ اور ہفتہ کے دنوں کا تعین کرتے ہوئے کہا ہے کہ محولہ اجلاسوں میں اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا حتمی اعلان کیاجائے گا’ دوسری جانب حکمران اتحاد نے پنجاب اسمبلی بچانے کے لئے کوششیں تیز کر دی ہیں’ وزیر اعظم شہباز شریف نے سابق صدر آصف علی زرداری سے رابطہ کیا ہے جس میں پنجاب میں حکومت کی تبدیلی سمیت تمام آپشنز پر غور کیا گیا’ نون لیگ کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کو روکنے کے لئے آخری حد تک جایا جائے گا’ نون لیگ پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں گورنر راج اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے سمیت کئی آپشنز پر غور کیا گیا ‘ اسمبلی کی تحلیل روکنے کے لئے سیاسی اور قانونی آپشنز استعمال کئے جائیں گے’ جب کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے آدھے سے زیادہ لوگ رابطے میں ہیں کہ استعفے منظور نہ کئے جائیں’ دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ گورنر راج لگانا آسان نہیں’ اور اسمبلی اجلاس جاری ہو تو تحریک عدم اعتماد بھی نہیں لائی جا سکتی’ قطع نظر اس سب کے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہونے پر ضمنی الیکشن ہوگا اور تمام خالی نشستوں پر 60 روز میں ضمنی انتخاب کرانا ہوتا ہے’ الیکشن کمیشن کے اس وضاحتی بیان کے بعد یہ تاثر اب ختم ہو گیا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے دو اسمبلیاں تحلیل کرنے کے بعد ملک میں عام انتخابات کاانعقاد لازمی ہو جائے گا’ اگرچہ فواد چوہدری نے زمان پارک کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بلوچستان اور سندھ اسمبلیوں سے بھی ہمارے ارکان باہر آجائیں گے’ اس تناظر میں ایک اور خبر بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے استعفے پارٹی کو موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔ تاہم نہ تو سینیٹ اور نہ ہی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر اسمبلیوں کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا گیا ہے’ جہاں تک خیبر پختونخوا اسمبلی کا تعلق ہے اگر پارٹی کی ہدایات کے مطابق اسے تحلیل کرنے کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا جاتا ہے تو اسے روکنا ناممکن ہوجائے گا’ البتہ پنجاب میں سیاسی کشمکش کا انجام کیا ہو سکتا ہے اس حوالے سے آئینی اور قانونی ماہرین ہی کوئی حتمی رائے دے سکتے ہیں’ کیونکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسمبلی کے رواں اجلاس کے دوران تحریک عدم اعتماد نہیں لائی جا سکتی تو پھر اسمبلی کو تحلیل کرنا کیا ممکن ہوسکتا ہے’ ادھر بعض تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ پنجاب میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد کا ڈول ڈالاجا سکتا ہے’ بہرحال یہ سب قانونی موشگافیاں ہیں اور ماہرین آئین و قانون کے علاوہ الیکشن کمیشن ہی اس حوالے سے آخری رائے دے سکتے ہیں’ مگر صرف دو اسمبلیوں کی ممکنہ تحلیل کے بعد بقول الیکشن صرف انہی اسمبلیوں یا پھر تحلیل میں ناکامی کے بعد اراکین اسمبلی کے استعفوں کی صورت میں متعلقہ خالی نشستوں پر ہی دوبارہ انتخابات کرائے جائیں گے یوں تحریک انصاف اپنے دباؤ کے نتیجے میں پورے ملک میں انتخابات کرانے کے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے’ ادھر ایک اور اہم خبر یہ بھی سامنے آتی ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کے حامی گروپ کے ایک اہم رہنما جو کچھ عرصے سے ملک سے باہر تھے وہ واپس آچکے ہیں اور ان کے زیر اثر اراکین پنجاب اسمبلی ایک بار پھر اکٹھے ہو کر اسمبلی تحلیل کرنے کے خلاف مبینہ طور پر سرگرم ہو چکے ہیں’ بہرحال کھیل ایک دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور سیاسی رسہ کشی میں تیزی آرہی ہے اگرحکومتی اتحاد کسی طور پنجاب اسمبلی کو بچانے میں کامیاب ہو گیا تو پھر صورتحال کچھ اور ہوگی اور صرف خیبر پختونخوا اسمبلی کی ممکنہ تحلیل کے بعد پورے صوبے میں جبکہ پنجاب’ سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں سے استعفے دینے والے اراکین کی خالی نشستوں پر ہی ضمنی انتخابات کرانا ہی ممکن ہو سکے گا’ اس لئے اردو کے ایک محاورے کے مطابق تیل دیکھو اور تیل کی دھار کی صورتحال کے اختتامی لمحات تک انتظار کرنا پڑے گا جو چوہدری فواد حسین کے مطابق زیادہ دور نہیں بلکہ آئندہ جمعہ اور ہفتہ کے مقررہ دنوں میں آنے والے ہیں۔

مزید دیکھیں :   ڈیفالٹ کا خطرہ اور ہماری بے حسی