سودی نظام

سودی بینکوں کومزیدشاخیں کھولنے سے روک دیاجائے،وزیرخزانہ کاتجویزسے اتفاق

ویب ڈیسک :وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مفتی تقی عثمانی کی اس تجویزسے اتفاق کیا کہ معیشت کوسودی نظام سے پاک کرنے کیلئے سودی بینکوں کی مزیدشاخیں کھولنے پرپابندی لگادی جائے ۔کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی)اور مرکز الاقتصاد الاسلامی کے زیر اہتمام حرمت سود کے عنوان سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ سود کے ذریعے پیسہ کمانا آسان ہوجاتا ہے لیکن یہ جائز نہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں رائج سود کے نظام کو ختم کرنا ہے، اگر ہم خلوص نیت سے صرف اللہ کی رضا کے لیے فیصلہ کریں تو 5 سال میں ملک سے سود کا خاتمہ ہو سکتا ہے
 زکوٰ ة و عشر کا نظام اپنانا چاہیے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ سودی نظام کے خاتمے کیلئے شرعی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، ملک میں 20 سے 21 فیصد بینکاری نظام پہلے سے اسلامک بینکاری ہے، کوشش ہے 5 سالوں میں مکمل طورپر اسلامی بینکاری نظام رائج کر دیاجائے، ہم نے اسلامک بینکاری نظام کو پاکستان میں ایک کامیاب نظام کے طور پر رائج کرنا ہے۔ہم نے اسلامی نظام معیشت کیلئے 2013میں بھی بہت کام کیامگر 2016 کے بعد ملک میں پاناما کے ڈرامے شروع ہوئے جس میں تمام کام رک گیا اور آج ہم وہاں کھڑے جہاں پہلے کھڑے تھے۔انہوں نے مفتی تقی عثمانی کی اس تجویز کی تائید کی کہ سودی بینکنگ کو مزید برانچ کھولنے کی اجازت نہ دی جائے اور ان کو جواب دیا کہ ملک ادھار پر چلتا ہے اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اسلامی بینکوں میں رکھے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مفتی تقی عثمانی نے جو قراردادیں پیش کی ہیں ان کی نقل وزیر اعظم کے پاس لے کر جائوں گا۔اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وفاقی شرعی عدالت نے سود سے پاک معیشت ملک میں نافذ کرنے کا فیصلہ کیاتومیں نے وزیر اعظم سے اس پر عملدرآمد کے لیے بات کی، اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کی طرف سے اس فیصلے پر دائر درخواستوں کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ سودکے خاتمے کے مقدس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عملی کوششیں کی جائیں۔اگر ہم سب مل کر ان مسائل کی طرف پوری توجہ اور صلاحیتیں صرف کریں تو ان کا حل نکالنا کچھ مشکل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری مدت سے یہ تمنا تھی کہ ایسے فورم کی مستقل ضرورت ہے جو مسلکی اور سیاسی وابستگی سے الگ ہو کر اجماعی مسائل مثلاً فحاشی اور عریانی کے خاتمے، نظام تعلیم کی تطہیر، عوام کی اخلاقی اور معاشرتی تربیت وغیرہ کے حوالے سے فریضہ انجام دیں، اس سے بڑی خیر کی امید ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ ہم نے جامع ٹرانسفارمیشن پلان پر پہلے ہی کام شروع کر دیا ہے جس کا مقصد روایتی بینکاری کو اسلامی بینکاری نظام میں تبدیل کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جلد ہی تمام اسٹیک ہولڈ سے رابطہ کرکے تاکہ سود کے خاتمے میں آنے والے متعلقہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جاسکیں۔

مزید دیکھیں :   تباہ کن زلزلہ، ترکیہ و شام میں اموات کی تعداد 8 ہزار سے تجاوز کر گئی