ریلیف کا بڑا موقع

عالمی منڈی میں تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی گئی ہے لیکن کمی کی شرح ایک مرتبہ پھر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کی شرح کے مقابلے میں کم ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے واضح اثرات کی منتقلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ اضافی ٹیکس اور لیویز ہیں جس کے باعث تیل کی قیمتوں میںکمی کے باوجود تیل سستا نہیں ہوتا۔ تیل کی قیمتوں میں عالمی کمی کے اثرات اور اس کی شرح کے مطابق بھی تیل کی قیمتوں میں کمی نہیں کی جاتی، ٹیکس کی رقم میں کمی کی حکومت متحمل ہی نہیں ہو سکتی اور نہ ہی حکومت اس کیلئے تیار ہے بلکہ ایسے موقع کو تو ٹیکس کے ہدف کو پورا کرنے کیلئے موزوں موقع خیال کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمت کا چالیس فیصد تیل کی خریداری اور چالیس فیصد ہی حکومت کا منافع یعنی پیٹرولیم لیوی وٹیکس ہیں جبکہ باقی بیس فیصد پیٹرولیم کے کاروبار سے وابستہ افراد کا حصہ ہے۔ اس طرح حکومت کو بیٹھے بٹھائے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت کے مساوی رقم ملتی ہے جو غریب عوام پر اتنا بوجھ اور بار ہے جو مدینہ کی ریاست ہونے کی دعویدار حکومت عوام سے وصول کر تی ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کے عوام کو ریلیف دینے کے دعوؤں میں کتنی سچائی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے اوپیک سے لیکر سعودی عرب روس محاذ آرائی اور تیل کی پیداوار کم نہ کرنے پر امریکی صدر ٹرمپ کی سعودی عرب سے افواج واپس بلا لینے کی دھمکی کی نوبت آئی۔ تاریخ میں پہلی بار کھپت کم اور ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہونے کی بناء پر ریٹ منفی میں چلا گیا تھا لیکن اس ساری صورتحال سے بھی پاکستان کی حکومت خاطرخواہ فائدہ نہ اُٹھا سکی، بہرحال اس کی کئی وجوہات ہیں جس میں سعودی عرب سے تیل کی خریداری کے پیشگی معاہدوں کی پابندی بھی شامل ہے، ایک عام آدمی کیلئے ان معاملات کو سمجھنا آسان نہیں ہوتا، عام آدمی بس اتنا سمجھتا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی آتی ہے لیکن اسے ساتھ ہی یہ شکایت ضرور رہتی ہے کہ حکومت کی پالیسی اضافہ کے وقت کچھ اور، کمی کے وقت کچھ اور ہوتی ہے جس کی وجہ سے عام آدمی تک تیل کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات نہیں پہنچتے۔ اس وقت ملک میں نیم دلانہ لاک ڈاؤن، کاروبار کی بندش اور رمضان المبارک کے اکٹھ کے باعث مہنگائی میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔ بیرون ملک بھیجنے کے مواقع نہ ہونے پر سبزی اور پھل مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے سے اصولی طور پر تو قیمتوں میں کمی آنی چاہئے تھی مگر یہاں معاملہ اُلٹا ہی چل رہا ہے، حکومتی مشینری کورونا سے نمٹنے میں اتنی مصروف ہے کہ انتظامیہ کو قیمتوں سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں کمی حکومت کیلئے عوام کو ریلیف دینے کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتا ہے حکومت عوام کیلئے یکساں طور پر امدادی پیکج اور ریلیف دینے کی سکت ہی نہیں رکھتی اور نہ ہی اس کی توقع کی جا سکتی ہے۔ عوام کو ریلیف دینے کا حکومت کے پاس جو موقع حالات کے باعث میسر آیا ہے اس بحث میں پڑے بغیر کہ جس شرح سے کمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوئی ہے، اس شرح سے کمی نہیں ہوئی بہرحال جتنی بھی کمی حکومت نے کی ہے اب اس قسم کے اثرات کی عوام تک منتقلی یقینی بنانے کیلئے اقدامات حکومت کی ذمہ داری ہے جس طرح تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات اسی دن ہی اشیاء کی قیمتوں کو پر لگانے کا باعث بنتے رہے ہیں، اشیاء کی درآمد بند ہے، کاروبار میں تیزی نہیں، مقامی اشیاء مقامی مارکیٹ ہی میں فروخت ہونے لگی ہے، تیل کی قیمتوں میں بھی معقول کمی آگئی ہے، ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اس کی نسبت سے اب فوری کمی اور اس کے عملی اطلاق میں اب حکومت کے پاس تاخیر کی گنجائش نہیں، اگرچہ پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے لیکن ٹرانسپورٹ کے بعض ذرائع کھلے ہیں، حکومت کو سواریاں اُٹھانے والی ٹرانسپورٹ کی ان کمپنیوں اور انفرادی طور پر اس شعبے سے وابستہ تمام لوگوں کو اب اس امر کا پابند بنانا چاہئے کہ وہ کرایوں میں معقول کمی لائیں، باربرداری کے کرایوں میں کمی لانے سے منڈیوں میں اشیاء کی قیمتوں میں کمی آنی چاہئے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی اور منڈی کے محولہ حالات اور تبدیلیوں کے باعث حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کا موقع میسر آگیا ہے، اس موقع کو ٹھوس انتظامی اور مارکیٹ کے رجحانات کو قابو کر کے عوام کیلئے ریلیف کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ حکومت نے جلد اقدامات نہ کئے تو حسب دستور قیمتیں معمول بن جائیں گی اور عوام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںکے اثرات سے محروم رہ جائیں گے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر27روپے، پندرہ ، پندرہ روپے اور تیس روپے کی بڑی کمی ہے جس کے اثرات عوام تک اولاً خود بخود پہنچ جانے چاہئیں۔ توقع ہے کہ اس کے اثرات کافی حد تک منتقل ہوں گے لیکن ان اثرات کو پوری طرح پہنچانے کیلئے حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت کو بھی پیٹرولیم مصنوعات میں اپنا منافع کم کرنا چاہئے اور ٹیکس کی شرح میں کمی کر کے تیل کی قیمتوں میں مزید کمی لائی جائے۔