کورونا کی صورتحال اور منصوبہ بندی کا فقدان

وزیراعظم عمران خان کے لاک ڈائون اشرافیہ کے کرانے اور دنیا کے مقابلے میں پاکستان کے حالات کی بہتری کے دعوے اور ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت یونٹس کے اب تک بھر جانے کے اندازوں کے غلط ثابت ہونے کے خیالات سے قطع نظر خیبرپختونخوا میں کورونا سے مزید 9اموات اور دوسو چالیس نئے کیس رپورٹ ہونے کی صورتحال انتہائی پریشان کن اور تشویش کا باعث ہے۔ پنجاب میں ٹیسٹوں کی تعداد میں کمی کر کے اس کا حل تلاش کر لیا گیا ہے، ملک بھر میں نجی لیبارٹریز بھاری فیسیں لیکر ٹیسٹ کرتی ہیں، خیبرپختونخوا میں یہ سہولت دستیاب نہیں۔ اب سوات کی ایک لیبارٹری کو غالباً اجازت مل گئی ہے البتہ صوبائی دارالحکومت کے بڑے ہسپتالوں میں بغیر اجازت اور استعداد کے دھڑا دھڑ غلط رپورٹوں پر مبنی ٹیسٹ جاری ہیں جس کے باعث پیداہونے والی صورتحال میں لوگوں کی جانیں ہی خطرات سے دوچار نہیں بلکہ اب اس قسم کی صورتحال عوام اور طبی عملے وانتظامیہ کیلئے بھی وجہ تنازعہ بن گئی ہے۔ حال ہی میں ایک نوجوان کو اس قسم کی رپورٹ پر ہسپتال میں داخل ہونے اور ان کی موت پر کورونا کے مریض کے طور پر دفنائے جانے اور بعد ازاں سرکاری لیبارٹری سے ٹیسٹ منفی آنے کے واقعے کی شنید ہے، بہرحال اس کی صداقت وعدم صداقت سے قطع نظر بغیر اجازت کے ان ہسپتالوں میں کورونا ٹیسٹ جاری ہیں جس کی روک تھام میں ہیلتھ کیئر کمیشن سنجیدہ نہیں یا پھر ہیلتھ کیئر کمیشن کو دبائو کا سامنا ہے۔ دوسری جانب ٹیسٹ کم ہونے اور مریضوں کی تعداد میں اس کے باوجود اضافہ کہ لوگ سماجی ومعاشرتی خوف کے مارے ہسپتالوں سے رجوع کرنے سے کتراتے ہیں، صوبائی حکومت کی جانب سے علاج کی سہولتوں پر توجہ دینے کی بجائے اور لوگوں کو سہولیات علاج کا یقین دلا کر راغب کرنے کی بجائے مریضوں کی اطلاع دینے کا پابندی بنایا گیا ہے۔ اس اقدام کی مخالفت مطلوب نہیں لیکن اگر حکومت عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو کہ مریضوں کا مناسب علاج ہوگا تو جس طرح دیگر بیماریوں کا شکار مریض تکلیف میں ہسپتال ہی سے رجوع کرتے ہیںکورونا کے خدشے پر وہ کیوں کر ایسا نہیں کریں گے۔ ہسپتالوں کی انتظامیہ ہر جاں بحق مریض کو کورونا زدہ بنانے اور ان کی اس انداز میں تدفین کا جو طرزعمل اپنا رہی ہے اس کے بعد لوگوں کا مریضوں کو ہسپتال لانے میں کمی واقع ہونے کا خدشہ ہے۔ مکمل اور حتمی رپورٹ کے بعد ہی اس کا فیصلہ قانونی اور اخلاقی طور پر درست ہوگا جس کی پابندی ہونی چاہئے۔
بھارت کا لائن آف کنٹرول پر مسلسل گولہ باری
ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا بشمول بھارت اور پاکستان دونوں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی بڑھتی تعداد اور ملک میں لاک ڈائون کے باعث کاروبار حیات پوری طرح معطل ہے، بھارت کی لائن آف کنٹرول پر مسلسل فائرنگ وگولہ باری جاری ہے جس کا مسکت جواب دینے کے علاوہ پاک فوج کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجودہ معاملات کا جائزہ لینے کیلئے ایک دوروزقبل ہی کنٹرول لائن کا دورہ کر چکے ہیں جس سے اس امر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے لائن آف کنٹرول پر حالات کافی سنگین ہیں بعض مبصرین تو یہاں تک خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ آمدہ موسم سرما تک صورتحال خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے، بہرحال بھارت کیساتھ اس قسم کے حالات اور بزدل دشمن کا موقع بے موقع اور بلا وجہ اشتعال انگیزی کوئی نئی بات نہیں دراصل بھارت بالاکوٹ میں ناکام کارروائی اورپاکستان کی کامیاب جوابی دفاعی کارروائی اور خاص طور پر بھارتی طیارہ مار گرانے اور پائلٹ کی گرفتاری کیساتھ ساتھ بعض اطلاعات کے مطابق حساس نوعیت کے اشاروں کے باعث اب تک انگاروں پر لوٹ رہا ہے جس کا اظہار وہ مسلسل سرحدی خلاف ورزیوں کے ذریعے کر رہا ہے۔ انتہا پسند ہندئوں کی بھارت میں مسلمانوں کیخلاف نفرت اور تعصب بھی انتہا کو پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے ملک میں خواہ جس قسم کے بھی حالات ہوں پاک فوج کو مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر پوری طرح چوکنا اور تیاری کی حالت میں رہنا ہے۔ بھارتی فوج نے تازہ ترین واقعے میں معصوم آبادی کو بلا جواز نشانہ بنایا جس کے نتیجے میںایک فوجی جوان سمیت دو خواتین شہید اور درجنوں افراد زخمی اور متاثر ہوگئے۔بھارت کی جانب سے کشیدگی مسلسل بڑھانے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے سلامتی کونسل او آئی سی اور عالمی فورموں کی آن لائن اجلاس طلب کر کے بھارت پر دبائو ڈالا جائے کہ وہ اپنے شہریوں کو کورونا وائرس سے بچانے پر توجہ دینے کی بجائے پاکستان سے کشیدگی بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، بھارت پچھلے چار ماہ میں فائر بندی معاہدہ2030ء کی نو سو تیرہ بار سے زائد خلاف ورزیاںکر چکا ہے۔عالمی دنیا کودونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے، بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم، بھارت بھر میں مسلمانوں کیخلاف تعصب اور کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات کو روکنے کیلئے دبائو ڈالنا چاہئے اور اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دینی چاہئے۔