جان ہے تو جہاں ہے پیارے

خبرتو خیر جو ہے سو ہے ‘ ہمیں اس سے ایک مشہور کہانی کے کردار اور کچھ پاکستانی کردار یاد آگئے ہیں’ خبر تو یہ ہے کہ پشاور کے ایک نواحی علاقے چغر مٹی میں دیواروں پر مبینہ طور پر ایک کالعدم تنظیم کی جانب سے وال چاکنگ کی گئی ہے جس سے علاقے میں خوف وہراس کی صورتحال نے جنم لے لیا ہے ‘جبکہ پولیس نے وال چاکنگ مٹا دی ہے ‘ اب یہ الگ بات ہے کہ اگر یہ خبر درست ہے تو پولیس نے جو کام کیا ہے اسے کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرنے سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے کیونکہ وال چاکنگ نے جن خطرات کو جنم دیا ہے ان سے بچنے اور ان کاتدارک کرنے کے بجائے اگر ان کومٹانے سے کام بنتا ہے تو پھرتو خیر کوئی بات نہیں مگر ہمیں ایسا لگتا تو نہیں ۔ اب ذرا اس کہانی کو یاد کر لیں جو قدیم داستانوں کاحصہ ہے اور اس کے کرداروں کے حوالے سے اردوزبان میں ایک محاورہ بھی داخل ہوگیا ہے یعنی علی بابا ‘ چالیس چور ‘ یہ کہانی اتنی مشہور ہے کہ اس کے بارے میں تفصیل سے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ‘ البتہ وال چاکنگ کے حوالے سے اس کہانی کا ایک کردار بہت ہی نمایاں ہے اور وہ ہے علی بالا کی گھریلو ملازمہ مرجینا ‘ جسے کہانی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے’ وہ بہت ہی ذہین ‘ چالاک اور حالات کے مطابق حکمت عملی اختیار کرنے اور گردو پیش پر گہری نگاہیں رکھنے والی خاتون اور جب علی بابا جنگل سے لکڑیاں کاٹتے ہوئے چالیس ڈاکوئوں کے خفیہ غار سے بے پناہ سونا ‘ جواہرات اٹھا کر لے آتا ہے اور اس کے بھائی قاسم کو اس کا یہ رازمعلوم ہو جاتا ہے تو وہ لالچی شخص علی بابا سے غار کا دہانہ کھلنے اور بند ہونے کا راز پا کر وہاں چلا جاتا ہے تو دولت اکٹھی کرنے میں اتنا مگن ہوجاتا ہے کہ وہ ”کوڈ ورڈ” بھول جاتا ہے اوربالآخر چوروں کے ہتھے چڑھ کر قتل ہو جاتا ہے ‘ مگر اس کی لاش کے چار ٹکڑے کرکے غار کے دہانے پرلٹکا کرڈاکو واردات کے لئے نکل جاتے ہیں ‘ ادھر قاسم کے دو تین روز تک واپس گھر نہ لوٹنے کے بعد اس کی بیوی کے کہنے پر علی بابا اسی جنگل میں جاتا ہے اور اپنے بھائی کی لاش اٹھا کرساتھ ہی مزید دولت سمیٹ کر واپس لوٹتا ہے تو ڈاکوئوں کو فکر پڑ جاتی ہے کہ آخر وہ کون ہے جوان کے لوٹے ہوئے مال پر ہاتھ صاف کر رہا ہے ‘ ایک ڈاکو شہر آکر معلومات اکٹھی کرتے کرتے بالآخر اس خیاط(درزی)کے پاس پہنچ جاتا ہے جس نے مرجینا کے ساتھ آنکھوں پر پٹی بندھوا کر قاسم کی لاش کے ٹکڑوں کو سیا ہوتا ہے ‘ وہ ڈاکو سے اچھی خاصی رقم لے کر اسے اپنی یادداشت کے بل پرعلی بابا کے گھر پہنچا دیتا ہے تو وہ علی بابا کے گھر کے دروازے پر چاک سے کراس کا نشان بنا کر خوش خوش واپس چلا جاتا ہے ‘ اس دوران مرجینا جو بازار کسی کام سے گئی ہوتی ہے وہ واپس آتی ہے اور گھر کے دروازے پر وال چاکنگ کا نشان دیکھتی ہے تو محلے کے تمام گھروں پر اسی قسم کے نشان لگا دیتی ہے اور جب ڈاکو رات کو گھر پرچھاپہ ڈالنے آتے ہیں تو محلے کے ہر گھر کے دروازے پر ایک ہی رنگ کے نشان دیکھ کر مایوس لوٹ جاتے ہیں ‘ اگلے روزایک زیادہ زیرک اور چالاک ڈاکو اپنے ساتھی کے بتائے ہوئے درزی کے پاس جا کرایک بار پھراس کی مدد سے علی بابا کے گھر کو تلاش کرکے ایک اور رنگ کے چاک سے دوسری قسم کا نشان لگا کر واپس چلا جاتا ہے مگر مرجینا باہر نکلتی ہے تو اسے پھر خطرے کی گھنٹی بجتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور وہ بازار سے اسی رنگ کا چاک خرید کرایک بار پھرمحلے کے تمام گھروں پر ویسا ہی نشان لگادیتی ہے ‘ ڈاکو ایک بارپھر ناکام و نامراد لوٹتے ہیں ‘ اب کی بارڈاکوئوں کا سردارخود آتا ہے اور علی بابا کے گھر کوذہن نشین کرکے چلا جاتا ہے’ اور رات کے وقت سرداراپنے چالیس ساتھی ڈاکوئوں کو تیل کے مٹکوں میں چھپا کر تیل کے سوداگر کی حیثیت سے علی بابا کے گھر پڑائو ڈالتا ہے ‘ مگر مرجینا کی عقابی نگاہیں سب کچھ جان لیتی ہیں اوراس کے بعد ڈاکوئوں کا کیا حشر ہوتا ہے یہ کہانی کا اختتام ہے اور جن لوگوں نے کہانی پڑھی ہے وہ سب کچھ جانتے ہیں یعنی
دامن پہ کوئی چھینٹ ‘ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کروہو
اب ذرا اپنی تاریخ کوبھی کھنگالتے ہیں ‘ اب خدا جانے یہ جوواقعہ اپنے دور میں بہت مشہور ہوا تھا ‘ سچا تھا یا اس کو صرف تفنن طبع کے لئے اسی طرح گھڑا گیا تھا جیسا کہ اکثرسیاسی لطیفے ہر دور میں مشہور ہوجاتے ہیں ‘ شنید ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور کے آخری دن تھے’ ملک میں پی این اے کی تحریک نظام مصطفیٰۖ عروج پر تھی’ اسی دور میں ایوان صدر کی دیواروں پر اچانک صبح صبح وال چاکنگ نظر آئی ‘ جن کے الفاظ یہ تھے کہ ”ہمارے محبوب صدر کو رہا کرو”۔ اس زمانے میں صدر چوہدری فضل الٰہی ہوا کرتے تھے جو منکسر المزاج ‘ سادہ اور بقول شخصے ڈائون ٹو ارتھ قسم کی شخصیت تھے’ ان کے کچھ لطیفے پہلے ہی بہت مشہور تھے’ خیر یہ وال چاکنگ دیکھ کرسکیورٹی والوں نے ان کو مٹا دیا ‘ مگر دوچار روز بعد ایک بارپھروہی الفاظ ایوان صدر کی چاردیواری پرنظرآئے اور کسی نامعلوم شخص نے وال چاکنگ کرکے ”محبوب صدر” کو رہا کرنے کی درخواست کی تھی ‘ اب کی بار سیکورٹی والوں نے نہ صرف وال چاکنگ کوصاف کردیا بلکہ چار دیواری کی نگرانی بھی شروع کردی ‘ رات کے لگ بھگ ڈھائی تین بجے ایک شخص کمبل میں خود کواچھی طرح لپیٹ کر ہاتھ میں چونے کی چھوٹی بالٹی اور برش لے کر آیا اور دیوار پراپنا مطالبہ لکھنے میں مصروف ہوگیا ‘ کہ ہمارے محبوب صدر کو رہا کرو ‘ سیکورٹی والوں نے اسے پکڑ کر جب اس کا کمبل الٹا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کمبل میں لپٹا ہوا شخص کوئی اور نہیں خود صدرمملکت فضل الٰہی چوہدری تھے ۔ جواس دورکے سیاسی حالات سے دلبرداشتہ ہو کرصدارت کے منصب سے جان چھڑانا چاہتے تھے ۔ یعنی بقول شاعر
بہت کوشش میں کرتا ہوں اندھیرے ختم ہوں ‘لیکن
کہیں جگنو نہیں ملتا ‘ کہیں پہ چاند آدھا ہے
اب دیکھنا یہ ہے کہ سیکورٹی حکام اس وال چاکنگ کے ذمہ داران کوکیسے بے نقاب کرتے ہیں ‘ اس لئے کہ ماضی میں اکثر اس قسم کی دھمکیاں دینے والوں کے بارے میں بعد میں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ ان کی جانب سے دی جانے والی دھمکیاں بعض ان لوگوں کو’ جن کو یہ دھمکیاں مل رہی تھیں ‘ صرف بلیک میل کرکے بھتہ وصول کرنا تھا ‘ اور یہ کہ جن مبینہ کالعدم تنظیموں کے نام پر دھمکیاں دی گئی تھیں ‘ ان تنظیموں کا ان سے کوئی تعلق نہیں تھا اور انہوں نے ان دھمکیوں سے لاتعلقی کا اعلان کرکے ”غبارے” سے ہوا نکال دی تھی ‘ بہرحال یہ معلوم کرنا توسیکورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس وال چاکنگ کی حقیقت کیا ہے ‘ اگر واقعی ان خبروں میں کوئی صداقت ہے تو وال چاکنگ مٹانا کبوتر اوربلی کا کھیل ہی ہوسکتا ہے اور کبوتر کی آنکھیں بند کرنے سے بلی کا خوف دور نہیں ہوسکتا ۔ بقول میر تقی میر
میر عمداً بھی کوئی مرتا ہے
جان ہے توجہاں ہے پیارے

مزید دیکھیں :   کیا پاکستان پٹڑی پر آ سکتا ہے؟