خصوصی افراد کا عالمی دن

تین دسمبر کو ہرسال معذوروںیعنی خصوصی افراد کا عالمی دن منایا جاتا ہے عموماً اس دن کو خصوصی افراد کے لئے مختص اکثر نظرانداز ہوتاہے اس مرتبہ پشاور سے پولیو سے متاثرہ بھائی مشتاق حسین نے بطور خاص واٹس ایپ کرکے اس موضوع کی طرف توجہ دلائی ہے کہ خصوصی افراد کے حقوق اور معاشرے کے فرائض بارے کچھ تحریر ہوجائے خصوصی افراد سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو کسی بھی قسم کی جسمانی عضو یا دماغی بیماری سے متاثر ہوں یا بصارت سے محروم ہوں۔ خصوصی افراد کا عالمی دن منانے کا مقصد دنیابھر میںان کو درپیش مسائل کا اجاگر کرنا اور معاشرے میں ان افراد کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالنا ہے ‘ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اس وقت چھ سوملین افراد معذور ہیں یعنی دنیا میں ہر دس میں سے ایک شخص معذور ہے ترقی یافتہ ممالک میں خصوصی افراد کے حقوق پر تو توجہ دی جاتی ہے اور ان کو اپنے حالات کے ساتھ ممکنہ طور پر جینے اور معاش کی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے حکومتی اور معاشرتی دونوں سطح پر کچھ نہ کچھ شعور اور عملی اقدامات موجود ہیں لیکن ترقی پذیر ممالک میں ایسا نہیں ترقی پذیر ممالک میں اس سے نوے فیصد خصوصی افراد کو زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع میسر نہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی صورتحال بہتر ہونے کے باوجود پچاس سے ستر فیصد ہی ہے ایک اندازے کے مطابق خصوصی افراد کے اسی فیصد کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے ۔ اقوام متحدہ نے اپنے 2030 کے ترقیاتی اہداف کا حصہ بناتے ہوئے خصوصی افراد کو خاص اہمیت دی ہے تاکہ خصوصی افراد کے بنیادی انسانی حقوق کو پوری طرح سمجھا اور محسوس کیا جائے اقوام متحدہ کی نظر میں خصوصی افراد کے حقوق کا احساس صرف عدل و انصاف کا تقاضا ہی نہیں بلکہ انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے لئے سرمایہ کاری بھی ہے عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر کے ایک ارب انسان کسی نہ کسی طرح معذوری کا شکار ہیں جواپنی زندگی کسی کی مدد کے بغیر نہیں گزار سکتے۔1992ء میں اقوام متحدہ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں خصوصی افراد کو بنیادی انسانی حقوق اور ضروری سہولیات کی حفاظت کی ضمانت دی گئی تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ محض قرارداد کی حد تک ہی رہی اور عالمی اداروں کے ساتھ ساتھ عالمی برادری بھی اس عہد کی پاسداری میں عدم دلچسپی کے باعث کوئی مثبت پیش رفت نہ کر سکی اور دیگر قراردادوں کی طرح یہ بھی محض ایک قرارداد کی حد تک ہی ہنوز محدود ہے اور اس پر عملدرآمد باقی ہے ۔ وطن عزیز پاکستان میں تو خصوصی افراد کے حقوق اور ان کی معاشرتی حیثیت کا ذکر نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہوگا اس لئے کہ پاکستان میں جہاں کسی شہری کو بھی جب سہولیات اور حقوق کے نہ ملنے کا رونا رویا جاتا ہے تو خصوصی افراد کا کون پوچھے وطن عزیز میں خصوصی افراد کا کوئی مستند ڈیٹا ہی موجود نہیں ان کے حوالے سے اعداد و شمار کو متنازعہ قرار دیا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں مردم شماری کو کبھی وہ اہمیت نہیںدی گئی جس کی ضرورت ہے 1998ء میں پاکستان میں مردم شماری ہوئی اس میں بتایاگیا کہ پاکستان کے دو اعشاریہ 38فیصد لوگ معذور ہیں تاہم جب 2017ء میں مردم شماری ہوئی تو بتایا گیا کہ ملکی آبادی کا صفر اعشاریہ 48فیصد حصہ خصوصی افراد پر مشتمل ہے جوکسی بھی طرح سمجھ میں آنے والی بات نہیں لگتی ۔ بطور مسلمان ہمیں ہمارے دین نے خصوصی افراد کے حوالے سے خاص طور پر حسن سلوک کی تاکید کی ہے عرب معاشرے میں معذور افراد کی حالت زار بیان سے باہر ہے اسلام نے سب سے پہلے ان افراد کے حقوق اور عزت نفس کا اعلان کیا اور جاہلانہ رسموں کا قلع قمع کیا گیا۔ دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق خصوصی افراد پوری طرح معاشرے کے باعزت اور برابر کے شہری ہیں حضور اقدس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر خلفائے راشدین کی زندگی میں بے شمار واقعات خصوصی افراد سے حسن سلوک کے ملتے ہیں مختصراً خصوصی افراد کے ساتھ جس حسن سلوک کا درس آج دیا جارہا ہے وہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت پہلے دے چکے ہیں اسلامی تعلیمات میں بتایا گیا ہے کہ خصوصی افراد کے ساتھ دیگر انسانوں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ بہتر سلوک کیا جائے ۔ اسلامی مملکتوں میں ان افراد کا خاص خیال رکھنے کی خاص طور پر ہدایت کی گئی ہے حال ہی میں قطر میں فیفا ورلڈ کپ کا افتتاح ایک خصوصی فرد سے کرانا اور ان کی خوبصورت آواز میں دنیابھر کے انسانوں اور انسانیت کے حوالے قرآن کریم کی جامع آیت کی تلاوت اور ترجمہ اس ہدایت و اہمیت کی ایک جھلک ہے جو اس موقع پر پیش کی گئی اس اہم موقع پر خصوصی افراد کو بھی امید کی جو کرن دکھائی گئی وہ حوصلہ افزاء ہے دنیا بھر میں ہر اہم موقع پر کسی نہ کسی طرح خصوصی افراد کی شمولیت و نمائندگی کی خاص طور پر ضرورت ہے۔دیگر افراد کو ایک طرف رکھ کر اگر ہم اس موقع پراس امر کاجائزہ لیں کہ خصوصی افراد پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت کیوں ہے اور ان کو خصوصی اہمیت کیوں دینی چاہئے تو میرا سیدھا سا جواب ہوگاخصوصی بچوں اور خاص طور پر ان کی تعلیم کوترجیح اور اولیت دینے کی ضرورت ہے میرے نزدیک خصوصی افراد باہم معذوری کے مستقبل کے لئے ان کی تعلیم و تربیت خاص طور پر اہم ہے خصوصی افراد روایتی نظام تعلیم سے استفادہ نہیں کر پاتے اور نہ ہی اس سے ان کی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں اس لئے ان کو ایک ایسا نظام تعلیم کے تحت تعلیم دینے کی ضرورت ہے جو ان کی صلاحیتوں اور ضرورتوں سے ہم آہنگ ہو خصوصی بچوں کو اساتذہ کی خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے افراد باہم معذوری کوپڑھانا صرف اساتذہ کے لئے ہی مشکل نہیں ان کی تعلیم وتربیت والدین کے لئے بھی مشکل اور باعث چیلج ہے مشکل امر یہ ہے کہ اکثر والدین یہ سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ ان کے خصوصی بچے کو خصوصی توجہ اور تربیت کی ضرورت ہے اور ان کی ضرورتیں بھی مختلف ہیں بہرحال موجودہ دور کی تحقیق و تعلیم اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے اس عمل کو بڑی حد تک آسان ضرور بنا دیا ہے تربیت یافتہ اساتذہ بھی موجود ہیں جن کو بچوں کی ضروریات و احساسات کا بخوبی علم ہے لیکن بہرحال خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت کوئی آسان کام نہیں خو ش آئند امریہ ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں خصوصی افراد بھی عام لوگوں کے شانہ بشانہ تعلیم کے منازل طے کر رہے ہیں اور اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز ہیں اقوام متحدہ میں بصارت سے محروم خاتون افسر کا پاکستان کی نمائندگی کرنا ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے ۔ خصوصی افراد کو معاشرے میں جن ناموں سے پکارا جاتا ہے وہ حد درجہ افسوسناک ہے اس سے اجتناب کیا جانا چاہئے خصوصی افراد کے لئے ملازمتوں کا جوکوٹہ مقرر ہے اس کی پوری پابندی اور میرٹ کی پابندی کی ضرورت ہے ایک اچھے مسلمان اور پاکستانی کی حیثیت سے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان افراد سے عزت واحترام سے پیش آئیں اور ان کے مدد گار بنیں۔

مزید دیکھیں :   احتجاج کی نوبت نہ آئے