آسامیوں کے غیرضروری ٹیسٹ

ہم اس ملک کے باسی ہیں کہ جہاں بے روزگاروں کو بھی لوٹا جاتا ہے۔ ذرا سوچیں آج کل لگ بھگ تمام سرکاری نوکریوں کے لئے ٹیسٹ لیا جاتا ہے۔ ہر ٹیسٹ میں بیٹھنے کے لئے ہزاروں روپے کی فیس اکٹھی کی جاتی ہے۔ مطلب نوکری کی تلاش پر بھی ایک لحاظ سے بھتہ وصول کیا جاتا ہے۔ بھتے کا لفظ میں نے کیوں استعمال کیا اس کی بھی ایک وجہ ہے۔ حال ہی میں کئی آسامیوں کے لئے ٹیسٹ کے اعلانات کئے گئے۔ ان ٹیسٹوں کے لئے سینکڑوں نہیں ہزاروں امیدواروں نے پیسے جمع کئے۔ تاہم یکایک اعلان ہوا کہ یہ اسامیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ میں نے ایک امیدوار سے پوچھا کہ وہ جو فیس جمع کی گئی اس کا کیا تو اس نے جواب دیا کہ وہ تو بس ضبط کردیئے گئے۔ اب اس کو بھتہ نا کہوں تو کیا کہوں؟ کھلے عام یہ ظلم جاری ہے۔ لیکن یہ ظلم ببانگ دہل چل رہا ہے۔ ہزاروں نوجوان خوشی خوشی یہ رقم جمع کراتے ہیں۔ نوکری ملے نا ملے اگلی آسامی کے لئے پھر رقم کا بندوبست کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ غور فرمایئے گا کہ دو تین آسامیوں کے لئے جب ہزاروں امیدوار امتحان دیں گے تو کتنی رقم جمع ہوتی ہوگی؟ جب سرے سے امتحان ہی نہیں لیا جاتا تو کتنی رقم ان کی جیبوں میں جا چکی ہو گی؟ ایسا بے حس معاشرہ ہے کہ آج تک خود نوجوانوں کو اس مسئلہ پر نکلتے احتجاج کرتے نہیں دیکھا نا ہی کسی سیاسی جماعت کو یہ توفیق ہوئی کہ نوجوانوں کے اس مسئلہ کی طرف توجہ دلائیں۔ خود نوجوان سوشل میڈیا کے بھنور میں ایسے پھنس چکے ہیں کہ ان کو کچھ نظر نہیں آ رہا۔ البتہ ان کے والدین بے چارے اے ٹی ایم کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اگر مغربی ممالک کی طرح ان نوجوانوں کو بھی خود کمانے اور لگانے پر مجبور کیا جاتا تب ان سے کوئی پوچھتا کہ آٹے دال کا بھائو کیا ہے تو ان کا ردعمل دیکھنے کا ہوتا۔ بہرحال اس طرح کے مسائل سے نمٹنے کے لئے جو پارلیمنٹ بنایا گیا ہے ان کو نان ایشو سے فرصت نہیں ہے تو وہ عوامی ایشو پر کیا خاک بات کریں گے۔ کم ازکم نوکری کے لئے ان ٹیسٹوں کو تو سرکار کی ذمہ داری پر ڈال دیا جانا چاہئے۔ ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر ان چند منٹوں یا گھنٹوں کے ٹیسٹ سے ہی قابلیت کا معیار جانچنا ہے تو پھر یہ اتنے طویل امتحانی نظام کی ضرورت کیا ہے۔ بس پندرہ سال پڑھیئے اور آخری سال ٹیسٹ دے کر میٹرک کی سند پائیے۔ پھر دو سال پڑھئے اور دوسرے سال انٹرمیڈیٹ کا ٹیسٹ دیجئے۔ پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ میں ٹیسٹ لے کر انجینئرنگ اور میڈیکل کے تعلیمی اداروں میں طلبا وطالبات کو جانے دیجئے۔ اگر یہ نہیں کرنا تو پرائمری سے لے کر میٹرک تک نصاب اور نظام تعلیم کو بدلئے تاکہ رٹا لگا کر سینکڑوں طلبا وطالبات ایک ہی جیسے نمبر نا لا سکیں۔ یا سکول سے ہی رحجانات کے حساب سے طلبا وطالبات کے مستقبل کا تعین کیا جائے۔ جہاں تک ان ٹیسٹوں کی بات ہے اب تو یہ اطلاعات آنے لگی ہیں کہ ان کے نتائج میں بھی ہیرپھیر ہوتی ہے۔ یہ انسان بھی کسی اور معاشرے، ملک یا دنیا کے نہیں بلکہ یہی پاکستانی ہوتے ہیں۔ جب یہاں تک مان لیا تو یہ بھی مان جائیں کہ اس میں ہیر پھیر ہوتی ہے۔ جب اس میں ہیرپھیر ہو سکتی ہے تو پھر نوکری والے ٹیسٹس تو زیادہ متنازغہ ہو سکتے ہیں۔ سب کے علم میں ہے کہ نوکریاں پاکستان میں کس طرح ملتی ہیں۔ یہ بھی خوب ہے ہمارے ہاں تو حکمرانوں کی تقدیر کا فیصلہ بھی یہی نوکریاں کرتی ہیں۔ ایک زمانہ تھا بلکہ آج بھی مقامی سطح پر امیدوار اپنے حلقے میں فخر سے کہتا ہے کہ میں نے دوسو نوکریاں اپنے حلقے میں دی ہیں۔ گو کہ اب یہ حربہ ووٹ نہیں لا پاتا اس کی وجہ بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثریت نوکریاں لے کر بیچی جاتی ہیں۔ ہر حلقہ میں حکمران رکن اسمبلی کے اپنے ٹائوٹس ہوتے ہیں۔ یہ اس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ نوکریاں "نکالے” مطلب بیچے۔ یہ کمائی پوسٹنگ ٹرانسفر سے علیحدہ ہوتی ہے۔ یہاں تک سنا گیا ہے کہ کلاس فور کی نوکریاں بھی لاکھوں روپے میں بیچی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ جو اچھی ملازمتیں ہیں اس کے لئے چونکہ یہ امتحان کی پخ نکالی گئی ہے۔ تو کیا اس کا مطلب وہ نوکریاں برائے فروخت نہیں ہیں؟ ناں ناں ناں یہ مت سمجھئے بس اس کا بھائو بڑھ جاتا ہے۔ ٹیسٹ انٹرویو یہ دراصل بھائو بڑھانے کے چونچلے ہیں۔ آج کے دور میں تو نوکریاں دی نہیں جاتیں آرڈر پر تیار کی جاتی ہیں۔ صحت اور تعلیم کا تو خدا ہی حافظ باقی شعبوں میں بھی جیک کا دھندہ عروج پر ہے۔ گو کہ مانتا کوئی نہیں ہے کیونکہ جس کو نوکری مل گئی اس کا دماغ خراب ہے کہ وہ یہ بات ظاہر کرے۔ جہاں تک حکومت ہے تو کون وزیر یا سیکرٹری ہوگا کہ وہ یہ بات قبول کرے کہ اس کا عملہ نوکریوں کی خرید وفروخت میں ملوث ہے۔ لیکن اصل مسئلہ تو اس نوجوان کا ہے جو شدید بے روزگاری کے باعث اپنے والدین پر بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب بیٹیوں کو بوجھ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب وہ وقت آ گیا ہے کہ بیٹے بھی بوجھ بننے لگے ہیں۔ ہمارے ہاں اس صورتحال پر بحث ہونی چاہئے تھی جو کہ بدقسمتی سے نہیں ہو رہی ہے۔ خود نوجوانوں کو اس کا احساس نہیں ہے تو باقی کوئی کیا کرے۔ لیکن پارلیمنٹ میں اس پر ضرور بات ہونی چاہئے کہ یہ طرح طرح کے ٹیسٹ کسی ڈاکٹر کے کمیشن کے لئے غیرضروری ٹیسٹ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ اس سلسلہ کو روکنا ہو گا اگر روک نہیں سکے توبدلنا ہوگا۔

مزید دیکھیں :   وقت کی ضرورت