افغان حکومت ذمہ داری کا احساس کرے

وفاقی وزیرداخلہ راناثناء اللہ نے افغانستان کی طالبان حکومت کوخبردارکیا ہے کہ اگر دنیاکے ساتھ چلناہے توافغان سرزمین کادوسرے ممالک کے خلاف استعمال روکنے کاوعدہ پورا کیا جائے۔ اسلام آبادمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان نے کوئٹہ میں ہونے والے خود کش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے ملک میں حملوں کی ذمے داری قبول کرنا تشویشناک ہے، کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو افغانستان میں ہر طرح کی سہولت میسر ہے۔وزیرداخلہ نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کو ہر طرح کی سہولیات ہیں، ان کی سرزمین کا ہمارے خلاف استعما ل ہونا طالبان حکومت کے لیے بھی باعث تشویش ہونا چاہیے، یہ صورتحال خطے کے امن کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ہم ہر طرح کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اگر کسی آپریشن کی ضرورت ہوئی تو پھر اسے بلا تاخیر کیا جائے گا۔پاکستان اور افغانستان کے حالات کاایک دوسرے پرپڑنا فطری امرہے افغانستان میں جنگ کے حالات سے پاکستان کس قدرمتاثر ہوا اس کے اعادے کی ضرورت نہیں ۔ افغانستان اورپاکستان کے حالت امن اورمعمول کے تجارتی تعلقات بھی ایک دوسرے سے جڑے ہیںاس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بوجہ تعلقات کی نوعیت اور سرحدی معاملات کی صورتحال اچھی نہیں رہتی جودونوںممالک کے لئے مشکلات کا باعث ہے ۔افغانستان میں روس کی مداخلت سے شروع ہونے والے حالات میں پاکستان نے جس طرح افغانستان کی مدد کی اوراگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کے بعض علاقے اور شہر کے شہر کسی افغان شہر کامنظر پیش کرنے لگے تھے تومبالغہ نہ ہوگا اس وقت بھی لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں مقیم ہیں برسوں سے جاری اس ناتے کوایک مضبوط تعلق میں ڈھل جانا چاہئے تھا مگرشاید یہ افغانوں کی فطرت کا حصہ نہیں یاپھر وقت اور حالات کی تبدیلی کے ان موقف پراثرات پڑنے سے معاملات کواحسان مندی کے تناظر میں نہیں دیکھا جاتا بہرحال وجہ جوبھی ہوقبل ازیںکی حکومتوں کے پاکستان سے متعلق پالیسیوںکا جواز جوبھی تھا لیکن افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان کے حوالے سے پالیسیوں میں بہتری اور تعلقات کی نوعیت تبدیل ہونی چاہئے تھی مگرافسوس ناک حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان میںشدت پسندی کے واقعات میںکافی اضافہ ہوا ہے اور ظاہر ہے ان عناصر کے ٹھکانے اور مراکز سرحد پار ہی واقع ہیں جہاں سے پاکستان کے اندر دہشت گردی ‘ ٹارگٹ کلنگ ‘ اغواء برائے تاوان اور اس جیسے دیگر عوامل کی منصوبہ بندی ہوتی ہے اصولی طور پراوردوحہ معاہدے کے تحت افغانستان اپنی سرزمین کوکسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا پابند ہے مگربدقسمتی سے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف نہ صرف مسلسل استعمال ہو رہی ہے بلکہ سرحدی جھڑپوں میں بھی کمی نہیں آئی حال ہی میں چمن بارڈر پر پاکستانی سیکورٹی فورسز کے اہلکار کی شہادت کا واقعہ ہو اس کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی ضلع کرم کے سرحدی علاقے میں باڑ ہٹانے کا تنازع بھی شدت اختیار کرگیا دونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز کے درمیان شدیدجھڑپیں ہوئیں۔ سرحدی معاملات کوبجائے اس کے کہ مذاکرات اور مفاہمت کے ساتھ حل نکالنے کی سعی ہو طالبان حکومت کے قیام کے بعد جھڑپوں اور تصادم کا جوسلسلہ جاری ہے وہ اب ناقابل برداشت ہو گیا ہے۔آئے روز پیش آنے والے شدت پسندی کے واقعات کے باوجود افغان حکومت کی جانب سے اپنی سرزمین کوپاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے میں ناکامی یاپھر اس ضمن میں طالبان حکومت کی سرد مہری اس امر پردال ہے کہ ٹی ٹی پی کی سرپرستی ہو رہی ہے اور بادی النظر میں افغان طالبان اور ٹی ٹی پی میں بس نام ہی کا فرق ہے اس صورتحال پرپاکستان کی جانب سے صبر و تحمل کا مظاہرہ اپنی جگہ ا گر اس طرح کی صورتحال جاری رہی تو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے جن دیگرممالک کے مفادات کو خطرات لاحق ہیں ان سب کا مشترکہ طور پر لائحہ عمل مرتب کرکے اس صورتحال کا سدباب کرنے کا عمل خارج ازامکان نہیں افغان حکومت کو اب اس امر کا فیصلہ کرنا چاہئے کہ وہ ایک مرتبہ پھر دنیا سے الجھنے کے لئے تیار ہیں اور جنگ زدہ ملک کومزید سختیوں کی طرف دھکیلنے کے متحمل ہو سکتے ہیں یا پھر ان کو اپنے وعدے کی تکمیل اور عالمی معاہدوں کی پاسداری اختیار کرنی چاہئے ۔ محولہ صورتحال سے قطع نظر پاکستان میں سیاسی عوامل کی بنیاد پر اس صورتحال بارے یکسوئی اور اتحاد کا فقدان مناسب امر نہیں ملکی سلامتی کی صورتحال بارے کسی اجلاس میں سیاسی اختلافات کے باعث عدم شرکت کا رویہ قابل قبول نہیں اور وہ بھی اس صوبے میں جوصوبہ افغانستان سے علاقائی طور پر متصل اور حالات سے متاثرہ ہو۔ اس حوالے سے سیاسی قیادت کاایک صفحے پر ہونا اور متفقہ پالیسی اختیارکرنا ازحد رضروری ہے تاکہ مشاورت کے ساتھ پالیسی تشکیل دی جائے اور اقدامات کا فیصلہ کیا جائے اس کے بعد ہی سیکورٹی کے اداروں کے لئے صورتحال سے یکسوئی سے نمٹنے کی راہ ہموار ہو سکے گی بہتر ہوگا کہ آئندہ اس طرح کی صورتحال پیدا نہ ہو اور ملک کودرپیش صورتحال اور امن وامان کی صورتحال پرقابوپانے کے لئے مشترکہ طور پرمسکت اقدامات کئے جائیں اور ان کو ہر قیمت پرموثر بنانے کی ذمہ داری پوری کی جائے۔

مزید دیکھیں :   نامعلوم معلوم ہیں