پاکستانی شفاف ہوا کے حق سے محروم

اگست2022ء میں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک تاریخی قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا کہ کرہ ارض پر ہر فرد کو صاف وشفاف ہوا، پانی اور فضاء سمیت صحت مند ماحول کا حق حاصل ہے، سیکرٹریٹ کلائمیٹ اینڈ کلین ایئرکولیشن کی سربراہ مارٹینا اوٹو نے کہا” ہم نے ہوا کو، جو ہمارے زندہ رہنے کیلئے اہم عنصر ہے، اسے اپنی صحت کے لیے پہلا خطرہ بنا دیا ہے، دنیا بھر میں 99 فیصد لوگ ایسی فضاء میں سانس لے رہے ہیں جو عالمی ادارہ صحت کی ایئر کوالٹی گائیڈ لائنز سے ہم آہنگ نہیں ہے، ممالک اور خطوں میں فضائی آلودگی کے حوالے سے صورت حال مختلف ہے، کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کی آبادی فضائی آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہے، پاکستان میں2021ء میں اوسطاً پی ایم2.5 کا ارتکاز156 تھا، جو عالمی ادارہ صحت کے سالانہ ایئر کوالٹی گائیڈ لائن کے معیار سے 13.4 گنا زائد ہے، نقل و حمل، صنعت، فصلوں کی باقیات اور فضلہ کو جلانے کے ساتھ ساتھ کھانا پکانے کے لیے غیرشفاف ایندھن اور ٹیکنالوجیز پر انحصار فضائی آلودگی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور پھر صحت کا نظام فضائی آلودگی کے نتیجے میں ہونے والی بیماریوں کی قیمت چکاتا ہے۔
ملک کے مشرقی شہر لاہور میں گزشتہ چند برسوں میں خاص طور پر سردیوں کے مہینوں میں دھند سموگ کا مترادف بن چکی ہے، جو پورے شہر کو خطرناک حد تک اپنے لپیٹ میں لے لیتی ہے، لاہور میں اوسط ایئرکوالٹی انڈکس زیادہ تر157 سے176 کی غیر صحت بخش سطح کے ارد گرد رہتا ہے، یہاں تک کہ شہر کے کچھ حصوں میں یہ اوسط 450 کی سطح تک پہنچنے کی بھی اطلاع ہے، اس کے علاوہ ایسے بھی دن ہوتے ہیں جب ایئر کوالٹی انڈکس600 سے بھی اوپر ہوتا ہے، جو عالمی ادارہ صحت کی ایئر کوالٹی گائیڈ لائنز کے تحت انتہائی خطرناک ہے، جنوری2021ء میں ”دی جرنل آف کلینر پروڈکشن” میں شائع ہونے والو ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق لاہور میں ہوا کے ناقص معیار اور سموگ کی بڑی وجہ شہری آبادی کا تیزی سے بڑھنا، صنعت کاری اور فوسل فیول کا بڑھتا ہوا استعمال ہے، اس تحقیق میں سموگ کے سنگین اقتصادی نتائج کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے بھی خطرہ کے ممکنہ ذریعے کے طور پر نشاندہی کی گئی ہے، اس تحقیق میں کہا گیا کہ کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، گاڑیوں سے دھوئیں کے اخراج اور فوسل فیول کا جلانا سورج کی روشنی کے ساتھ ملکر زہریلے فوٹو کیمیکل پیدا کرتے ہیں، جس سے خراب اوزون(O3) بنتا ہے، جسے آلودگی کا باعث بننے والی بدترین سموگ قرار دیا جاتا ہے۔ شہر کی آبادی کے مختلف حصوں پر سموگ کے اثرات کو لاہور میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں دستاویزی شکل دی گئی ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مختلف پیشوں سے وابستہ افراد، خواہ وہ بیرونی یا اندرونی ماحول میں ہوں، خصوصاً سردیوں کے موسم میں سموگ سے یکساں طور پر متاثر ہوتے ہیں، ان میں سے درمیانی عمر اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا لوگ خاص طور پر سموگ سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔
فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے، ناسا کی ایک رپورٹ میں ہوا میں پیٹرو کیمیکلز کی زیادہ مقدار کی وجہ سے لاہور کو پاکستان کا سب سے آلودہ شہر قرار دیا گیا، اس مسئلے کا پیمانہ بہت وسیع ہے اور صحت اور معیشت کے حوالے سے اس کے سنگین نتائج پہلے ہی ملک کے تمام بڑے شہروں خاص طور پر لاہورکی آبادی محسوس کر رہی ہے، شکاگو یونیورسٹی کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ فضائی آلودگی کی طویل عرصے سے پی ایم2.5 اوسط کی ہر پاکستانی کی اوسط عمر کو دو سال سے زیادہ کم کر رہی ہے، گلوبل الائنس آن ہیلتھ اینڈ پولوشن کے ایک جائزے کے مطابق سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار پاکستانی فضائی آلودگی سے لاحق ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
سوال یہ کہ ہے کہ ہمیں اس صورت حال میں کیا کرنے کی ضرورت ہےِ؟ دراصل فضائی آلودگی کے ان اسباب کو جو ہر سال اس پریشانی کا باعث بنتے ہیں، ان کو دور کر کے ہی ہم آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کر سکتے ہیں، سب سے پہلی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ فصلوں کی باقیات کو جلانے کے قدیم طریقہ کار پر مکمل پابندی عائد کی جائے، اس حوالے سے پاک بھارت سرحد کے دونوں اطراف آبادی کی صحت پر مرتب ہونے والے سنگین اثرات کے حوالے سے اپنے پڑوسی ملک سے بھی بات چیت کی جائے، دوسراہے کہ ماحولیاتی تحفظ کے صوبائی اداروں کو صنعتی علاقوں سے اخراج کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں صنعتی احاطے میں ہوا کے معیارکو جانچنے کے آلات کی تنصیب کے لیے واضح ہدایات جاری کرنی ہوں گی، جن کی انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی باقاعدہ نگرانی کرے، اسی طرح دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر پابندی لگانے، الیکٹرک گاڑیوں کوفروغ دینے اور ایک پائیدار ماس ٹرانزٹ سسٹم فراہم کرنا بھی اس مسئلے کی شدت کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔
(بشکریہ ، عرب نیوز، ترجمہ: راشد عباسی)

مزید دیکھیں :   انتخابات ہوگئے توپھر؟