احیائے دین کیلئے تنظیم اسلامی کے مساعی

شہر کے ہنگاموں سے قدرے باہر اسلام آباد کے شمال مشرق میں پیہونٹ کے پرفضا مقام پر تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام سالانہ اجتماع گزشتہ اتوار کو اختتام پذیر ہوا۔ یہ متبادل دو روزہ سالانہ اجتماع ان چھ اجتماعات میں سے ایک تھا جو اسلام آباد سمیت بیک وقت کراچی، لاہور، فیصل آباد اور مردان میں منعقد ہوئے۔ ان سارے اجتماعات کو براہ راست لاہور سے لنک کیا گیا تھا جہاں سے مرکزی امیر محترم شجاع الدین شیخ نے بڑی سکرین کے ذریعے ملکی مجموعی سیاسی، معاشی اور اخلاقی صورتحال پر خطاب کرتے ہوئے رفقائے تنظیم کو اپنی ذمہ داریوں کا بھر پور احساس دلایا۔ مجھے بھی اس بابرکت محفل میں شریک ہونے کا شرف ملا۔ شجاع الدین شیخ نے وڈیو لنک کے ذریعے اجتماع کی اہمیت اور غرض وغایت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ آج کے پر فتن دور میں اس قسم کے دینی اجتماعات جہاں مسلمانوں کو دینی حرارت بہم پہنچانے کا سبب بنتے ہیں تو وہاں ان کو اپنے تزکیہ نفس کے لئے ایک مناسب ماحول بھی فراہم کرتے ہیں۔جہاں یہ اجتماعات جذبہ ایمانی سے سرشار مومنین کے لئے انفاق جان ومال کا ایک نادر موقع فراہم کرتے ہیں وہاں ان کے علم اور انقلابی فکرمیں یقینی اضافے کا باعث بھی بنتے ہیں۔اسی دوروزہ سالانہ اجتماع میں موضوعات کے مناسب چناؤ، مضامین میں تسلسل اور بہترین ربط کی وجہ سے ایسا لگا جیسے پورے دین کو ایک عام قاری کے لئے ایک ہی دن میں سکھانے کی بھر پور سعی کی گئی ہے۔ مقررین نے سامعین کے فکر کو تازہ کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ دین کی اصل روح اور اسکے تقاضے کیا ہیں؟ سامعین کو جہاں قرآن کی عظمت سے روشناس کرایا گیا وہاں انہیں رسول انقلاب کے طریقہ انقلاب کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ اقامت دین کے لئے تزکیہ نفس کے ساتھ ساتھ التزام جماعت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے شرکائے اجتماع کو بتایا گیا کہ ہمارے اسلاف نے احیائے دین کے لئے کیسی کیسی قربانیاں دی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دین اسلام کی تکمیل کی لیکن ان کی وصال کے بعد یہ ذمہ داری امت مسلمہ کے کندھوں پر ڈال دی گئی کہ وہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو عام کردے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ وقت کے پردوں میں بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ دین کے احکامات پر دھول پڑتا ہے تو عقائد میں کمزوری کا آ جانا ایک فطری عمل ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے کہ وہ اس دھول کو ختم کرنے کے لئے وقتا فوقتا اپنے برگزیدہ بندوں کو بھیجتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر سو سال بعد ایک مجدد کو بھیج دیتا ہے جو ان کے دین پر جمی دھول کو ختم کرکے پاک و شفاف صورت میں وقت کے لوگوں کے سامنے لے آتا ہے اور احیائے دین کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا ہے۔ یہ مجدد عرب دنیا میں امام غزالی اور ابن تیمیہ کی شکل میں آتے رہے ہیں۔ لیکن پچھلے چار سو سال میں یہ سلسلہ گیارہویں صدی میں بر صغیر پاک و ہند میں مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کے آنے سے شروع ہوا جنہوں نے اکبر بادشاہ کے دور میں پیدا ہونے والے واہیات کے خلاف آواز اٹھائی اور دین کو فکری آلائشو ں سے پاک کیا۔اس کے بعد شیخ عبدلحق محدث دہلوی نے علم حدیث کے حوالے سے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ بارہویں صدی میں امام الہند شاہ ولی اللہ نے اپنی تحریک کے ذریعے معاشرے میں ہر سو پھیلی معاشرتی برائیوں کے خلاف جہاد کیا۔ ان کے بیٹوں میں سے شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدلقادر کے بعد تیرہویں صدی میں ان کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے سید احمد شہید کی امارت میں جماعت صحابہ کے طرز پر ایک جماعت کا التزام کیا۔ چودھویں صد ی میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے ریشمی رومال کی تحریک سیدین کی بے پناہ خدمت کی۔ان کے ان گنت شاگردوں میں مولانا حسین احمد مدنی، مولانا شبیر احمد عثمانی اور شاہ انور شا ہ کاشمیری کے نام خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ مولانا شبیر احمد عثمانی کی شاگردوں میں حمیدالدین فراحی اور مولانا ابوالکلام آزاد نے بعد میں احیائے دین کے لئے بے پناہ کام کیا۔ اسی دور میں مولانا الیا س رحمت اللہ علیہ نے تبلیغی جماعت کی بنیاد ڈالی اور علامہ اقبال نے مسلمانوں کے اندر اپنی شاعری کے ذریعے ان کے جزبہ ایمانی کو جگایا۔ابوالاعلیٰ مودودی نے ابولکلام آزاد کے کام کو مزید نکھارا۔اسی دوران ڈاکٹر اسرار احمد نے انیس سو پچھتر میں نظیم اسلامی کی بنیاد ڈالی اور تا دم حیات اقامت دین کی جدوجہد میں لگے رہے۔تنظیم اسلامی مروجہ مفہوم کے اعتبار سے نہ کوئی سیاسی جماعت ہے اور نہ کوئی مذہبی فرقہ بلکہ ایک اصولی اسلامی انقلابی جماعت ہے جو اولا پاکستان اور بالآخر ساری دنیا میں دین حق یعنی نظام خلافت کو قائم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔تنظیم اس وقت ملک میں انجمن خدام القرآن کے زیر اہتمام قران ایک ڈیمیز کے ذریعے اسلامی تعلیمات کو عام کرنے میں ہمہ وقت کوشاں ہے۔ تنظیم اسلامی ملک میں منکرات کے خلاف جہاد کے ساتھ ساتھ تربیتی اجتماعات میں مسلمانوں کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے لیکن موجودہ حالات میں ایک سالہ فہم القرآن کورس کے ذریعے نوجوانوں میں دین کے حوالے سے شعور بیدار کرنا تنظیم اسلامی کا ایک ایسا گراں قدر کارنامہ ہے جو یقیناً اسلام کی بہت بڑی خدمت ہے۔

مزید دیکھیں :   انتخابات ہوگئے توپھر؟