خود شناسی کی طرف بڑھیں!

رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے باغوں میں چلے ہولے سے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے
لوگوں میں باتیں کرنا اور لوگوں سے باتیں کرنا ایک معمول ہے۔کبھی تنہائی میں اپنے آپ سے باتیں کرنا خود کلامی ہے مگر ذرا مشکل ہے۔ یہ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب انسان خود شناسی کی منازل طے کر رہا ہوتا ہے۔ خود شناسی یا خوآگہی اتنا آسان کام تو نہیں۔ اگر انسان کو یہ پتہ چل جائے کہ وہ ہے کیا، اس دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے، کیا اس میں کوئی صلاحیت بھی ہے، اگر ہے تو اس کا استعمال ٹھیک کیا یا وقت برباد کیا، خود شناسی کے لیے انسان کو اپنے بچپن کی طرف لوٹنا پڑتا ہے۔ بچپن بھی کیا خوبصورت زمانہ ہے۔ بے فکری اور بے دھیانی کا زمانہ۔ ہوا میں کاغذ کے جہاز چلانا اور بارش میں ننگ دھڑنگ بھیگنا، چھوٹی چھوٹی معصومانہ شرارتیں، نہ حسد، نہ بغض نہ کینہ۔ دوستی میں اخلاص اور بانکپن۔ دوستوں کی خاطر کوئی بھی رسک لے جانا۔ نہ احسان، نہ جتلانا نہ شرمندگی نہ ندامت۔ واہ کیا زمانہ تھا جیب میں کوئی پیسہ نہیں مگر اطمینان کی بھی کوئی حد نہیں۔ نہ انٹر نیٹ، نہ سیل فون، نہ موٹر بائیک نہ کار مگر رشتوں میں اخلاص، مروت، رکھ رکھاؤ اور اپنائیت۔ ہر بچہ اپنی فیملی سے جڑا ہوا۔ ماں کا لاڈ اور باپ کا خوف اسی ماحول میں بندہ پہلے نوجوانی اور پھر جوانی میں قدم رکھتا۔ بچپن سے نوجوانی اور پھر نوجوانی سے جوانی، اک بے فکری اور لا ابالی پن کا دور تھا۔ وقت تھا، جوانی تھی، زور تھا مگر معاشی تنگدستی غالب تھی۔
اس کے باوجود اطمینان تھا، سکون تھا، قناعت تھی، افرا تفری نہ تھی۔ رشتوں میں اخلاص تھا، مروت تھی، لوگ آپس میں جڑے ہوئے تھے۔ رشتوں کی قدر اور احترام تھا۔ اکثر شادیاں قریبی رشتے داروں میں ہوتیں اور چل جاتیں۔ ابھی انسان پورا کمرشل نہ ہوا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم بھی جوانی سے ادھیڑ عمری اور بڑھاپے کی طرف گامزن رہے اور معاشرتی قدروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے بڑی بیدردی اور تیزی سے زوال کی جانب گامزن ہوتے دیکھتے رہے۔ اس نفسا نفسی میں خود کلامی کا موقع کب ملتا ہے۔ ہم چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر احساس تفاخر میں لوگوں کے جذبات مجروح کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش میں کب خود شناسی کی مشکل مشق کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے لیے تو اس دنیا کا مقصد اچھی تعلیم کے بعد اچھی جاب اور پرکشش مراعات اور اپنی اولاد کو کسی نہ کسی طریقے سے ایڈجسٹ کرنا ہی سب سے بڑا مشن ہوتا ہے۔ مگر خود کلامی کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ زندگی اس کے سوا بھی تو بہت کچھ تھی اور ہے۔ یہ تو درد دل رکھنے والے ہی جانتے ہیں۔کوئی خود غرض ساہو کار اسے خود غرضی کی عینک سے دیکھے گا اور کوئی بے غرض اسے ایثار و محبت کی نظر سے۔ انسان خواہ کتنا ہی ذہین و فطین ہو، اس کے علم و عرفان کا پایہ کتنا ہی بلند ہو، اس کی وجاہت، فہم و فراست کا کتنا ہی غلغلہ ہو، اگر عاجزی سے محروم ہے، قناعت سے بے بہرہ ہے تو صریحاً خسارے میں ہے۔ مگر خود کلامی کے بغیر اس بات کا ادراک کیسے ممکن ہے۔ اگر قول و فعل اور عمل میں تضاد نہیں تو سودا خسارے کا نہیں۔ اگر انسان کے قول و فعل میں تفاوت ہے تو اسے خود کلامی کی اشد ضرورت ہے۔ اگر انسانی زندگی مجمع عام اور کنج عزلت میں یکساں ہے تو انسانی معراج کی طرف گامزن ہے۔ انسان کی طبیعت میں بخل، ریاکاری اور منافقت اسے قدرت کی طرف سے عطا کردہ سخاوت، استغراق، محویت، تواضع، انکسار اور فرط شوق و جذب سے کوسوں دور لے جاتے ہیں اور یہ پھر خسارے کا سودا ہے۔ ہمارا دین مبین انسان سے وسیع القلبی اور تسامح کا تقاضا کرتا ہے، اس کے لیے دیدہ حق شناس درکار ہے جو اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جو لوگ اس کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اور ناشکری کرتے ہیں ان سے وہ نعمتیں واپس لے لی جاتی ہیں۔آنکھیں بند کرکے پوری محویت وانہماک کے ساتھ اگر خود کلامی کرتے ہوئے اپنے گزرے کل پر پشیمانی نہ ہو اور زندگی کی بقیہ مہلت کو غنیمت جانتے ہوئے دل انسانی خدمت اور تواضع پر گامزن ہے تو خود شناسی کی منازل آسان ہیں۔ اس انتظار میں زندگی بسر کرنا کہ لوگ تعریف کریں گے تو خدا کے بندو، منہ پر تو دشمن بھی تعریف کر دیتے ہیں۔ مزا تو تب ہے کہ آپ کی عدم موجودگی میں بھی کوئی آپ کی تحسین کرے اور اگر آپ خود شناسی کی منازل طے کر چکے ہیں تو پھر خود احتسابی کی طرف بڑھ سکتے ہیں مگر یہ خود احتسابی بڑا کٹھن سفر ہے اور میرے جیسے لوگوں کے بس کی بات نہیں۔ ہم تو خود شناسی کی منزل ہی طے کر جائیں تو بڑی بات ہے۔ خود شناسی کی اولین شرط اپنا صاف اور شفاف اور غیر جذباتی تجزیہ کرنا ہے۔ آپ کیا ہیں، کیا زندگی میں کیا اور کیا کر سکتے تھے مگر بوجوہ نہ کر سکے۔ غیر ضروری توقعات، ہوائی قلعے، وہم و گمان کے گھوڑے، اپنی صلاحیتوں کا غلط اندازہ اور پھر ان صلاحیتوں کا نامناسب استعمال آپ کو خود فریبی کا شکار تو کر سکتا ہے خود شناسی سے ہمکنار نہیں۔ خود شناسی کے لیے صرف اخلاص اور عاجزی درکار ہے۔ تکبر اور نخوت،گھمنڈ اور خود پرستی انسان کو یہ موقع ہی نہیں دیتی کہ وہ خود شناسی کی منزل کی طرف گامزن ہو سکے۔ آج خود کلامی کرتے کرتے بات نجانے کہاں سے کہاں نکل گئی اور کتنے ہی منظر آنکھوں کے سامنے آتے چلے گئے۔ ان میں کچھ لمحے فخر و انبساط کے بھی تھے اور کچھ ندامت کے بھی۔ اگر میرے اللہ نے وہ ندامت کے آنسو قبول کر لیے تو بات بن جائے گی۔ بقول اقبال،
موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے میرے عرق انفعال کے

مزید دیکھیں :   اساتذہ کبھی خوش نہیں ہوتے