آرمی چیف کا بھارت کو انتباہ

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے لائن آف کنٹرول کے دورہ کے موقع پر کہا کہ ہم نے حال ہی میں گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے بارے میں بھارتی قیادت کے انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیانات کا نوٹس لیا ہے، آرمی چیف نے بھارت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف مادر وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنے کیلئے پوری طرح سے تیار ہوں گی بلکہ دشمن کو بھرپور جواب بھی دیں گی اور لڑائی دشمن کے علاقے میں لے جائیں گے، اس موقع پر آرمی چیف نے مطالبہ کیا کہ دنیا انصاف کو یقینی بنائے، اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں سے کئے گئے وعدوں پر عمل کرے۔امر واقعہ یہ ہے کہ چند روز قبل مقبوضہ کشمیر میں تعینات فوجی افسر نے بے بنیاد دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی فوج آزاد کشمیر پر قبضے کیلئے حکومتی احکامات پر عمل درآمد کیلئے تیار ہے۔ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے بھارتی فوجی افسر کے بیان کو اگرچہ نا معقول قرار دیتے ہوئے اس دعوے کی تردید کی تھی، پاک فوج کے ترجمان نے یہ بھی کہا تھا کہ بھارتی فوج مقبوضہ وادی میں طاقت کے جابرانہ استعمال سے توجہ ہٹانے کیلئے اس طرحکے بیانات دیتی ہے، تاہم آرمی چیف نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے، کہ اگر جارحیت کی گئی تو لڑائی بھارت کے علاقوں تک پھیل جائے گی۔ بھارت کو دراصل ایسے ہی جواب کی ضرورت تھی، کیونکہ اگست2019ء میں جب بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا اقدام اٹھایا گیا تو یہ تاثر قائم ہوا کہ شاید پاکستان نے بھارت کے اس یکطرفہ اقدام کو قبول کر لیا ہے، اسی لئے بھارت نے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے آزاد کشمیر میں جارحیت کا بیان دے دیا، بھارتی افسر کے بیان پر رد عمل کے بعد آرمی چیف نے کنٹرول آف لائن کا دورہ کر کے پیغام دیا ہے کہ بھارت آزاد کشمیر پر جارحیت کی بات کر رہا ہے حالانکہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا باقی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں کشمیر اور پاکستان مخالف نعرے لگا کر سیاسی مقاصد پورے کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے، بھارت کے سیاسی رہنما بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان مخالف نعرے لگا کر کیسے سیاسی مقصد حاصل کرنا ہے۔ نریندر مودی کے دور میں پاکستان دشمنی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے میں بہت حد تک اضافہ ہوا ہے، یہ سلسلہ ہنوزجاری ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو اہمیت نہیں دی جاتی ہے، تاہم آرمی چیف نے لائن آف کنٹرول کے دورہ کے موقع پر جو کہا ہے وہ بھارت کیلئے دو وجہ سے بہت اہم ہے، ایک یہ کہ جارحیت کا جواب جارحیت سے دیا جائے گا، دوسرا یہ کہ کشمیر کے مسئلے سے پاکستان کے مؤقف میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں آئی ہے۔ بھارت کی طرف سے آزاد کشمیر اور گلگت پر اس لئے بھی بات کی جاتی ہے تاکہ پاکستان مقبوضہ کشمیر پر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ جائے، غور طلب امر یہ ہے کہ بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیے جانے کے اقدام کو تین برس بیت گئے ہیں، بھارت نے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے کشمیریوں پر مظالم کئے، کئی مہینوں تک کرفیو نافذ رہا، لاکھوں افراد سب سے بڑی جیل میں مقید ہو کر رہ گئے، انٹر نیٹ بند کر دیا گیا، بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی رہی، مگر کیا بھارت کشمیریوں کی آواز کو بند کر سکا؟ مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو تبدیل کرنے کیلئے بھارت کی طرف سے ہندوئوں اور سکھوں کو کشمیر میں آباد کئے جانے کا سلسلہ شروع کیا گیا، کشمیر کی حریت قیادت کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا، یٰسین ملک جسے حریت رہنما کو ایک طویل عرصے سے جیل میں رکھا گیا ہے، چند ماہ قبل انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی، مگر کیا کشمیری آزادی کے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے؟
یہ حقیقت ہے کہ طاقت کے زور پر کسی بھی قوم کو محکوم بنا کر نہیں رکھا جا سکتا، بھارت بھی کشمیریوں کو طاقت کے زور پر یرغمال بنائے ہوئے ہیں، دنیا نے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے باوجود آنکھیں بند کر رکھی ہیں دنیا کی بے اعتنائی کے باوجود پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کی ہر طرح سے حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، پاکستان کشمیر کو سیاسی مسئلہ قرار دیتا ہے کہ اسے سیاسی انداز میں حل ہونا چاہئے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیریوں کو بھارت سے آزادی دلانے میں اپنا کردار ادا کرے، اقوام متحدہ نے مگر سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی آنکھیں بند کر رکھی ہیں، یہ دہرے معیار کے مترادف ہے، دنیا کو پاکستان کے صبر و تحمل کی قدر کرنی چاہئے ورنہ جس طرح بھارت نے اگست2019ء میں یکطرفہ اقدام اٹھاتے ہوئے کشمیر میں بھارتی فوج اتارکر اس کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی تو جواباً پاکستان بھی اگر جارحیت کا جواب جارحیت سے دیتا تو پورے خطے کا امن خطرے سے دو چار ہو جاتا، کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوت کے حامل ممالک ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب بھی پاکستان اور بھارت کے معاملات کشیدہ ہوتے ہیں تو ترقی یافتہ ممالک فوری مداخلت کر کے معاملات کو معمول پر لانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن واضح رہنا چاہئے کہ دونوں ممالک میں وجہ نزاع مسئلہ کشمیر ہے جب تک اسے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل نہیں کر لیا جاتا ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کوختم نہیں جا سکے گا۔

مزید دیکھیں :   ناتجربہ کاروں سے تجربہ کاروں تک