تمہی کہو کہ یہ اندازگفتگو کیا ہے !

ایک بادشاہ نے مُلک کے معروف دست شناس سے اپنی قسمت کا حال معلوم کیا تو دست شناس نے ہاتھ دیکھنے کے بعد کہا کہ بادشاہ سلامت ! آپ کے تمام رشتہ دار آپ کے سامنے فوت ہو جائیں گے۔ یہ سن کر بادشاہ کو غصہ آیا اور دست شناس کو جیل میں ڈال دیا۔اب بادشاہ پریشان رہنے لگا کہ کہیںایسا ہو نہ جائے ۔ آخر وزیر نے کسی دوسرے مُلک کے مشہور دست شناس کو دربار میں بلایا،جس نے بادشاہ کا ہاتھ دیکھا۔ اُس دست شناس نے بادشاہ سے کہا کہ آپ نے اپنے خاندان میں سب سے زیادہ لمبی عمر پائی ہے۔ یہ سن کر بادشاہ خوش ہوا جبکہ دست شناس سے کہا کہ مانگ جو کچھ مانگنا ہے ۔ اُس نے دست بستہ گذارش کی کہ آپ نے میرے اُستاد کو ناحق قید کر رکھا ہے ،اُنہیں آزاد کر یں کیونکہ اُس نے بھی وہی بات کی تھی جو مَیں نے ہاتھ دیکھنے کے بعد آپ کو بتائی ۔ قارئین کرام !! یہ انداز ِ بیاں کی اہمیت بڑی مسلمہ ہے ۔ زبان جہاں افراد کے درمیان رابطہ کا ذریعہ ہے وہاں اس کی انفرادی اور اجتماعی اہمیت بڑی واضح ہے۔ اگر کسی کو بات کرنے کا سلیقہ نہ آتا ہو تب اس کی اچھی بات کا مفہوم ہی بدل جاتا ہے۔ اب اگر اپنے محبوب سے پیار بھری سرگوشی ہو یا کسی عوامی جلسہ میں حلق پھاڑ کر خطاب کرنا ہو تو ہر روپ میں انفرادی نفسیات اور سماجی صورتحال سے زبان کا تعلق ضرور رہتا ہے۔ ایسا تعلق جس کے عام اور واضح ہونے کے باوجود ہم بے شعور رہتے ہیں ۔
اللہ نے ہمیں قوت ِ گویائی کی نعمت سے نوازاہے ،ہمیں زبان عطا کی جس کے ذریعے ہم اپنی ترجمانی کرتے ہیں۔ انسان اپنے موزوں اظہار کے باعث اشرف المخلوقات کا ثبوت بھی دیتا ہے اور اسی زبان کے ذریعے وہ بلا سوچے سمجھے ایسی گفتگو بھی کرنے لگتا ہے جسے سن کر لوگ طیش میں آجاتے ہیں۔ ہمیں یہ احساس ہی نہیں رہتا کہ ہم زبان سے کیا سلوک کرتے ہیں اور اسے دوسروں کے خلاف کس طرح استعمال کررہے ہوتے ہیں۔ آپ زبان کے دیگر حوالوں کے علاوہ صرف القاب پسندی کو سامنے رکھ کر روزمرہ کی گفتگو کا تجزیہ کریں تو اندازہ ہو جائے گا کہ ہم بلا سوچے سمجھے کس آسانی سے دوسروں پر مختلف خصوصیات کے القاب چسپاں کر دیتے ہیں ۔ ایسے الفاظ جن سے ہر طرح کی منفی، مضحکہ خیز، گھٹیا اور غلیظ باتیں منسوب ہوتی ہیں۔ اہل سیاست و مذہب اور اہل قلم تو بڑی آسانی سے غدار، کافر ، چور ، دہریہ ، کرپٹ ، بنیاد پرست، ترقی پسند اور مُلائیت جیسے بہت سے الفاظ کے ہتھیاروں سے دوسروں کو اپنے نشانے پر لیتے ہیں۔ اسی طرح صوبوں ، شہروں ، نسلوں اور پیشوں کے بارے بھی لقب سازی اتنی عام ہے کہ اس سے وابستہ منفی سوچ نظر انداز کر کے اسے بالعموم سچ سمجھا جاتا ہے ۔ بعض اوقات ایسے الفاظ کسی فرد اور قوم کی سوچ اور فکری رویوں کو بّری طرح متاثر کرتے ہیں ۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں شاید زبا ن کے کردار پر غور نہیں کیا گیا کہ کیسے بہاری ، پنجابی اور اردو سپیکنگ جیسے الفاظ حقارت اور نفرت کے استعارے بن گئے تھے۔بلوچستان اور کراچی میں بھی ایسے کئی الفاظ وہاں رہنے والوں کی نسلوں کے بارے گالی کا درجہ اختیار کر گئے۔ کسی کے پاس ایسا کوئی جواز نہیںجو دشنامی القاب چن کر دوسروں کو معتوب قرار دے سوائے یہ کہ لوگ جہالت ، تعصب اور نفرت کی وجہ سے ایسا کر رہے ہوتے ہیں ۔ مُلکی سیاست اور صحافت میں یہ چلن عام ہے ۔لوگ سیاسی رہنماؤں کو روزانہ ٹیلی ویژن اور عوامی اجتماعات میں سنتے اور دیکھتے ہیں ۔ ان کے طرز تخاطب میں کوئی شائستگی نہیں بلکہ لب و لہجہ میں تحقیر، طعن اور گالی پائی جاتی ہے ۔ یہ عوامی نمائندے اور ان کے حاشیہ نشین صحافی ہر ٹاک شو میں شور شرابہ اور اونچی آواز میں اناپ شناپ بولنے کو اپنی دانائی سمجھتے ہیں۔
میرے چند دوستوں نے اپنے بچوں کو یہ ٹاک شوز دیکھنے سے منع کر رکھا ہے یہ نوجوانوں کا انداز بیاں بگاڑنے اور اُنہیں بد تمیز بنانے میں خوب کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب تو بڑے سیانے بھی اپنے مکالمہ میں مدلل ،شائستہ اور دھیمی گفتگو کم ہی کرتے ہیں ۔ سورہ لقمان میں ارشاد ربانی ہے کہ ‘ اپنی چال میں اعتدال پیدا کرو اور بولتے وقت اپنی آواز نیچی رکھو ‘۔ اللہ معاف کرے کہ ہماری چال اور گفتگو ایسی نہیں رہی ۔ اب تک جو کچھ لکھا ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے تمام سیاسی اور اخلاقی مسائل الفاظ کے پیدا کردہ ہیں ، ایسا نہیں ہے۔ الفاظ سے وابستہ نفرت اور تعصب ہماری قومی سوچ کے وسیع پیمانے میں صرف جزو ہے مگر اس کے باوجود ایسے الفاظ بڑے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں ۔ یوں لفظ کے شر کو توڑنے کا کوئی مجرب نسخہ تو نہیں مگر اپنے طرز عمل اور سوچ میں تبدیلی پیدا کر کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی گفتگو میں ٹھہراو پیدا کریں اور کبھی وہ بات نہ کہیں جس سے لوگوں کی دل شکنی ہو ۔ کسی قوم کے حسن اخلاق کی ایک علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کا انداز گفتگو انتہائی مہذب ہوتا ہے۔ خوش کلامی اور گفتگو میں اختصار ہی تو اسلام کا سب سے بڑا درس ہے۔ لفظ زہر بھی ہے اور تریاق بھی لیکن یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم لفظ سے کیا کام لیتے ہیں ۔۔

مزید دیکھیں :   سیاسی قیادت اور مکالمہ سے گریز