کبھی اپنے رویئے پر غورکیجئے

خاندان ہو یا معاشرہ سیاست ہو یا مذہب ہر جگہ میں جس قسم کے متشدددانہ رویوںکا سامنا معمول کی بات بن گئی ہے ۔ ہم میں قوت برداشت کی کمی کیوں ہوتی جارہی ہے پہلے زمانے میں توایسا نہیں تھا مگر اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ اپنے بچوں کوبھی سخت بات کرتے ہوئے سوچنا پڑتا ہے اب ہمارے جیسے بچے بھی تو نہ رہے جو بزرگوں کی خواہ مخواہ کی جھڑکیاں بھی چپ چاپ سنتے تھے اب آپ کسی بچے کو کچھ سخت کہہ دیں تو وہ آگے سے سوال کرنے لگتا ہے کہ آپ تو خواہ مخواہ غصہ کرنے لگی ہیں میں یہاں یہاں ٹھیک ہوں البتہ اگر بچے کی غلطی ہو تو بھی سمجھ جاتے ہیں کہ امی نے بلاوجہ کی بات نہیں کی یہ تو بس صرف ایک تمہید تھی اصل بات معاشرتی عدم برداشت کی ہے جومن حیث المجموع معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اب ہم ناکامیوں کا سامنا کرنے کی ہمت سے محروم ہو گئے ہیں اورعدم برداشت کے باعث اپنے ہاتھوں زندگی کاخاتمہ یہاں تک کہ اپنے بچوں ‘ خاندان تک کو اپنے ہاتھوں ختم کرنے کا انتہائی اقدام کرنے کے واقعات پیش آنے لگے ہیں کس پر کیا بیتی ہے اور کس نے کیوں اس طرح کا انتہائی قدم اٹھایا اس پر ہم جیسے بات تو کرسکتی ہیں لیکن ان کی حالت سمجھنے کی کوشش کوئی نہیں کرتا یہ اس معاشرے کی بے حسی ہی ہے جو اس درجے کی انتہا تک کسی شخص اورخاندان کو پہنچا دیتی ہے کہ ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں کتنے واقعات رونما ہوتے ہیں ان کے پس پردہ حالات وواقعات سامنے آئیں تو اصل وجہ کا علم ہو بہرحال برداشت کا مادہ پہلے کی طرح نہیں اور نہ ہی وہ مروت اور مودت ہے جس کے باعث معاشرہ قائم اور مضبوط تھا آج نفسا نفسی کا عالم ہے والدین اور بچوں کے درمیان تک دوریاں آگئی ہیں ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی جب لوگ انجان افراد کی طرح رہنے لگیں اور جہاں سوشل میڈیا ‘ خاندان کے تعلقات پر سبقت لے جائے وہاں مسائل اور پیچیدگیاں ہی آئیںگی مگر جہاں ایسا نہیں بھی ہے ان معاشروں میں بھی اب متشدددانہ رویے پروان چڑھ چکے ہیں ان معاشروں کی محرومیوںکی اپنی ہی داستان ہے محفوظ کوئی نہیں۔انسانی رویوں کا انحصارحالات پر ہوا کرتا ہے رویہ ان سارے حالات کا آئینہ دار ہوتا ہے جو انسان کے ارد گرد پھیلا ہوتا ہے گھر کا ماحول خاندان کا سماجی معاشی’ سیاسی اور مذہبی ماحول تعلیم و تربیت سبھی مل کر رویے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں وقت گزرے اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ اس میں تبدیلیاں فطری امر ہے پیار و محبت اور نفرت کے جذبات فطری ہوتے ہیںمگر جہاں محرومیاں اور بے اعتدالیاں ناانصافی اور برا ماحول شامل ہو تو پھر نفرت انگیزی میں شدت خود بخود آجاتی ہے ۔ پاکستان میں سیاست کا اگر جائزہ لیا جائے تو پہلے کی سیاست آج کی سیاست سے مختلف تھی اس میں شدت نہیں تھی مذہبی معاملات چونکہ نازک موضوع ہے اس لئے اس حوالے سے ہر کوئی اپنے ارد گرد کے ماحول اور حالات دیکھ کر ہی اس بارے کوئی رائے قائم کرے تو مناسب ہو گا معاشرے کی انتہا پسندی و عدم برداشت کا رویہ ہمارے عصری تعلیم کے اداروں میں بھی نظرآتا ہے البتہ اب اس کارخ رنگینوںکی طرف زیادہ ہونے کے باعث اس درجے کی انتہا پسندی نظر نہیں آتی مگر تخریب اور خرابی کا ماحول جس طرح یہاں آنے والوں کو جکڑ رکھا ہوتا ہے اس کے اثرات معاشرے پڑتے ہیں تعلیم اور تجربے اور مخصوص تجربات کے اثرات سے معاشرہ اور فردودونوں ہی رویوں کی تشکیل اور قوت برداشت پر اثر انداز ہوتے ہیں کبھی ہم اس بات پر غور کرنے کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ اپنے رویے پرخود ہی غور کریں اور دیکھیں کہ ہم خود احتسابی کے ذریعے اپنے آپ میں سدھار لانے کی سعی کریں یہ حقیقت ہے کہ ہمارے سماجی رویے ہمارے ماحول سے جڑے ہوتے ہیں سماجی ماحول ہی ہمارے رویوں کی تشکیل اور اس میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے ہم اگر غور کریں گے تو جلد ہی اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ بیشتر مقامات اور مواقع پر ہمارے رویے نامناسب ہوتے ہیں انہی رویوں کے ہماری اپنی زندگی اوردوسروں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں جو ماحول کی کشیدگی ‘سرد مہری ‘ مایوسی و اضطراب جیسے حالات کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں ہمارے رویوں کے باعث جن رشتوں میں رعنائی کی رونق ہونی چاہئے ان میں ٹھوٹ پھوٹ ہو رہی ہوتی ہے محبت کی بجائے نفرت کے رویئے پروان چڑھتے ہیں نفرت انگیزی معاشرے میں بڑھ جاتی ہے اور انفرادی و اجتماعی رویوں کے باعث پورا معاشرہ گھٹن زدہ ہوجاتا ہے انسان کی زندگی تذبذب اور ا ضطراب میں ڈوب جاتی ہے کبھی ہم کسی ریڑھی والے سے کسی چھوٹے دکاندار سے سبزی و فروٹ والے سے سو دو سوروپے کی چیزخریدتے ہوئے اپنے رویے اور انداز پر غور کیا ہے کیا عموماً ہم ان لوگوں سے نہات سرد مہری سے بول نہیں جاتے بلکہ اگر اپنے انداز میں غور کریں توشاید کسی گوشے میں حقارت اورتحقیر کے عنصر کابھی احساس ہو گا ہم ان سے بھی چند روپے سمیٹنے کی کوشش میں ہوتے ہیں بجائے اس کے کہ ہم ان سے بھائو تائو کی بجائے کبھی کبھار ان کو چند روپے کی خوشی دیں جو ہم میں سے بہت سے دے سکتے ہیں مگر اولاً ہمیںاس کا احساس ہی نہیں دوم یہ کہ ہم خود کو ایسا بنانا ہی نہیں چاہتے کہ کوئی ہم سے چند سکوں کا فائدہ ہی حاصل کرے ہماری کوشش الٹی ہوتی ہے خوشی اور مسرت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دوسروں کو دینے سے ملتی ہے مگر ہمیںاس نعمت کا احساس ہی نہیں انسان غلطی کاپتلا بعض تو مذاقاً غلطی کی دیگ بھی کہہ دیتے ہیں لیکن یہ غلطی ہم سے نہیں ہوتی ہم کبھی بھی خود کو غلط ٹھہرانے اور اپنی غلطی تسلیم کرنے اور معافی طلبی پر کبھی تیار ہی نہیں ہوتے ہمارے نزدیک ہمیشہ دوسرا آدمی ہی بد تمیز ‘ مکار’ برے رویے والا اور ظالم ہوتا ہے غیرمہذب ہوتا ہے خواہ ہم کتنے بھی گھمنڈی ہوں ہمیں دوسروں میں غرور و تکبر نظرآرہا ہوتا ہے اگر کبھی غلطی سے بھی ہم اپے رویے پر غور کریں تو ہمیں احساس ہو گا کہ ایسا نہیں جو کچھ ہمیں دوسروں میں نظر آرہا ہوتا ہے اس کا شکار ہم خود بھی ہیں ہم بھی دوسروں ہی کی طرح کے آدمی اور انسان ہیں ہم ا پنے رویوں پرتوجہ دیں اور غلطیوں کوسنوارنے اور سدھارنے کی طرف متوجہ ہوں اپنے رویے اپنے انداز اور اپنے تعلقات کاجائزہ لینے کی زحمت کریں تو ہمیں وہ سب کچھ محسوس ہونے لگے گاجس کی ہم نے دوسروں سے شکایت کر رہے ہوتے ہیں ۔

مزید دیکھیں :   اساتذہ کبھی خوش نہیں ہوتے